مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کی کارروائیوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں شدت دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں گرفتاریوں، چھاپوں، توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
فلسطینی حکام اور مقامی ذرائع کے مطابق صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے اور شہری آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق اسرائیلی فوج نے قلقیلیہ، نابلس، بیت اکسا، بیت قد اور بیت تعمیر سمیت مختلف شہروں اور دیہات میں رات گئے اور علی الصبح کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے دوران کم از کم 6 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں بعد ازاں نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے دوران گھروں کی تلاشی لی گئی اور متعدد افراد کو عارضی طور پر حراست میں بھی لیا گیا۔رپورٹس کے مطابق صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں، بلکہ اسرائیلی آبادکاروں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جلجلیہ اور المزرعہ النوبانی کے دیہات میں آبادکاروں نے مبینہ طور پر مساجد کو آگ لگا دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی شہریوں نے اس اقدام کو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ نقصانات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔اسی دوران بیتا کے علاقے میں آبادکاروں نے فلسطینی شہریوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں اور طبی مراکز منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک نہیں بتائی جا رہی۔
ادھر اسرائیلی فوج کی جانب سے جنین کے وسطی علاقوں میں بلڈوزر آپریشنز بھی مسلسل دوسرے روز جاری رہے۔ ان کارروائیوں کے دوران سڑکوں، زرعی زمینوں اور بعض نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی کسانوں نے شکایت کی ہے کہ ان اقدامات سے ان کی روزگار اور فصلوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔مزید برآں، بیت اللحم کے مشرق میں ایک نیا فوجی چیک پوسٹ قائم کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، جس کے باعث علاقے میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ شہریوں کو آمد و رفت میں طویل انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسی طرح بورین اور بیتا کے دیہات میں بھی آبادکاروں کی جانب سے گھروں، گاڑیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ مقامی قیادت نے ان کارروائیوں کو منظم دباؤ اور زمینوں پر قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید سنگین شکل اختیار کر رہی ہے اور عام شہریوں کی زندگی بدستور غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔