ایران کی امریکا کو مذاکراتی شرائط پہنچ گئیں، ٹرمپ جنگ یا مذاکرات کے فیصلے میں تذبذب کا شکار، محسن رضائی

ایران کی امریکا کو مذاکراتی شرائط پہنچ گئیں، ٹرمپ جنگ یا مذاکرات کے فیصلے میں تذبذب کا شکار، محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو پیش کی گئی شرائط واشنگٹن تک پہنچ چکی ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ مذاکرات کی طرف جانا ہے یا جنگ جاری رکھنی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق محسن رضائی نے تہران میں آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیٰ یف سے ملاقات کے دوران کہا کہ ٹرمپ ایسی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کا فیصلہ کر پا رہے ہیں اور نہ جنگ جاری رکھنے کا۔محسن رضائی نے کہا کہ ایران کی شرائط امریکا تک پہنچا دی گئی ہیں، تاہم واشنگٹن تاحال کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے فوجی محاذ پر فضائی حملوں اور دباؤ کا راستہ اختیار کیا، جبکہ ایران نے جنگ کے دوران اپنے دفاع کے لیے بھرپور کارروائی کی۔ایرانی سکیورٹی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان قطر کی ثالثی کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران نے سات نکاتی تجویز قطری ثالث کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی ہے اور تہران اب واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

ایرانی تجاویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی تہران نے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے۔محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران خطے میں موجود رہے گا، جبکہ ان کے بقول امریکا کا خطے میں مستقبل نہیں ہے۔ملاقات کے دوران آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیٰ یف نے ایران اور آذربائیجان کے تعلقات کو دوستانہ اور برادرانہ قرار دیا اور ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ آذربائیجان نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قطر امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالثی کر رہا ہے، جبکہ حالیہ رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں نمایاں پیش رفت تاحال نہیں ہوئی اور دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔