واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ایران کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران سے رابطے کا مقصد طبی سامان کی فراہمی میں مدد دینا تھا، نہ کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی نئی کوشش کرنا۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رابطے کی منظوری دینے کا اعتراف کیا، تاہم اس کے مقصد کو امن مذاکرات کی بحالی قرار دینے سے اختلاف کیا۔
جے ڈی وینس کے خط میں جوہری پروگرام کا ذکر
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس کے خط میں مستقبل میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ان میڈیا رپورٹس کے بعد خط کے مقصد کے حوالے سے دو مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے رابطے کو طبی سامان کی فراہمی سے متعلق قرار دیا، جبکہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں اسے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کی بحالی کی کوشش کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔تاہم، خط کے مندرجات اور امریکی صدر کے بیان میں سامنے آنے والے فرق کے باوجود مذاکرات کی باقاعدہ بحالی کے حوالے سے کسی حتمی معاہدے یا فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ واشنگٹن میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان پر غور کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔تاہم، دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ کرچکی ہے یا سفارتی رابطوں کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش جاری ہے۔