کراچی(آئی این پی ) سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کچھ ڈلیور نہیں کرسکی، اس لیے نئے انتظامی یونٹس کی جانب جانا ہوگا ۔جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او کے تحت منعقدہ جشن اردو کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ جشن اردو سالانہ ایونٹ ہے، جس میں مشاعرہ، بیت بازی، مکالمہ اور دیگر پروگرام ہوتے ہیں۔ اردو قومی زبان ہے اور یہ اے پی ایم ایس او کا قومی ایونٹ ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج بیت بازی کا موضوع بھی انتظامی یونٹ ہے۔ بین الاقوامی جرائد بتا رہے ہیں کہ کراچی اب دنیا کا تیسرا بدترین شہر ہے، ہم اسے اس انداز سے خراب ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ آج ہمارا مقف پورے ملک کا مقف ہے، لہذا گورننس ماڈل تبدیل ہونا ہوگا۔علی خورشیدی نے کہا کہ اس جمہوری ملک میں جمہور ہی بااختیار نہیں ہورہا۔ ہم نوجوانوں کے لیے کیا کررہے ہیں؟ ہمارا اشرافیہ سے تعلق نہیں، ہم عوام میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے نہ بننے دینا دو جماعتوں کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا مسئلہ ہے۔