دھرنا کسی سیاسی ڈیل کاحصہ نہیں تھا ،یہ تاثر دینا کہ ہم نے کسی دبائو یا مفاد کے تحت احتجاج ختم کیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے
چندے سے یتیم خانے چلائے جاتے ہیں، صوبوں کی محرومی اور پسماندگی نہیں ختم کی جاتی،سربراہ بی این پی کی صحافیو ں سے گفتگو
کوئٹہ(آئی این پی )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو آئین کی اٹھارہویں ترمیم کی صریحاً خلاف ورزی قرار یتے ہوئے اس کیخلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا۔ کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے واضح کیا کہ ان کا حالیہ دھرنا کسی سیاسی سودے بازی یا ڈیل کا حصہ نہیں تھا یہ عوامی امنگوں کی بھرپور ترجمانی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ ہم نے کسی دبائو یا مفاد کے تحت احتجاج ختم کیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔سردار اختر مینگل نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی سے حاصل ہونے والی بچت کو چندہ قرار دیتے ہوئے بلوچستان پر اس کا اطلاق قابلِ مذمت قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چندے سے یتیم خانے چلائے جاتے ہیں، صوبوں کی محرومی اور پسماندگی نہیں ختم کی جاتی۔بی این پی سربراہ نے سوال اٹھایا کہ جب قدرتی وسائل صوبے کی زمین میں موجود ہیں تو ان پر اختیار بھی صوبے ہی کا ہونا چاہیے، طاقت کا ارتکاز مرکز میں رکھنے کی سوچ نے بلوچستان کو مسلسل پسماندگی میں دھکیل رکھا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر اس متنازعہ ایکٹ کیخلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، تاکہ بلوچستان کے عوام کو ان کے وسائل پر اختیار مل سکے۔