ٹرمپ کی غزہ میں امن ،20 نکاتی منصوبہ پاکستان کی حمایت

ٹرمپ منصوبے پر اسرائیل راضی ،وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو نے دوحہ حملے پر امیر قطر کو فون کر کے معافی مانگ لی ،سعودی عرب ، ترکیہ ، وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بھی ہمارے ساتھ: امریکی صدر 
کسی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائیگا،حماس کا حکمرانی میں کردار نہیں ہوگا،غزہ کو مکمل غیرفوجی بنایا جائے گا،عارضی بین الاقوامی استحکام فورس تعینات ہوگی،اسرائیل غزہ پر قبضہ کرے گا نہ ضم: اہم نکات 
 ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیر مقدم ، خطے میں دیرپا امن کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری،پاک سعودی دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں: وزیر اعظم شہباز شریف 
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا غزہ تنازع ختم کرنے کے حوالے سے 20 نکاتی امن منصوبہ جاری کر دیا۔ جس کے مطابق غزہ کو انتہاپسندی سے پاک ایک ایسا علاقہ بنایا جائے گا جہاں دہشت گردی نہ ہو اور جو اپنے پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ نہ بنے۔غزہ کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی تاکہ غزہ کے عوام، جو طویل عرصے سے تکالیف جھیل رہے ہیں، اس سے مستفید ہو سکیں۔اگر دونوں فریق اس تجویز پر متفق ہو جائیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔ اسرائیلی افواج متعین کردہ لائن تک پیچھے ہٹ جائیں گی تاکہ یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری ہو سکے۔ اس دوران تمام فوجی کارروائیاں بشمول فضائی اور توپ خانے کی بمباری معطل رہیں گی اور محاذ کی لائنیں جمی رہیں گی، یہاں تک کہ مکمل مرحلہ وار انخلا کی شرائط پوری ہوں۔اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی عوامی منظوری کے 72 گھنٹے کے اندر تمام یرغمالی، چاہے زندہ ہوں یا ہلاک، واپس کر دئیے جائیں گے۔یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل 250 عمر قید پانے والے قیدیوں اور 1700 غزہ کے باشندوں کو رہا کرے گا جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار ہوئے تھے، جن میں تمام خواتین اور بچے شامل ہوں گے۔ ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے میں 15 غزہ کے شہید افراد کی لاشیں واپس کی جائیں گی۔جب تمام یرغمالی واپس آ جائیں گے تو حماس کے وہ ارکان جو پْرامن بقائے باہمی پر راضی ہوں اور اپنے ہتھیار ڈال دیں، انہیں عام معافی دی جائے گی۔ جو ارکان غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔معاہدے کے فوراً بعد غزہ میں مکمل انسانی امداد بھیجی جائے گی۔ کم از کم امداد وہی ہوگی جو 19 جنوری 2025 کے انسانی امدادی معاہدے میں طے کی گئی تھی، جن میں بنیادی ڈھانچے (پانی، بجلی، سیوریج)کی بحالی، ہسپتالوں اور تنوروں کی مرمت، اور ملبہ ہٹانے و سڑکیں کھولنے کے لیے ضروری مشینری شامل ہوگی۔امداد اور سامان کی تقسیم اقوام متحدہ، ریڈ کریسنٹ اور دیگر غیرجانبدار عالمی اداروں کے ذریعے ہوگی، اور دونوں فریق اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔ رفح کراسنگ کا کھلنا بھی 19 جنوری 2025 کے معاہدے کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔غزہ کی حکمرانی ایک عبوری، غیرسیاسی اور تکنیکی فلسطینی کمیٹی کے سپرد ہوگی جو عوامی خدمات اور بلدیاتی امور چلائے گی۔ یہ کمیٹی اہل فلسطینیوں اور عالمی ماہرین پر مشتمل ہوگی اور اس پر ایک نئے عالمی عبوری ادارے "بورڈ آف پیس" کی نگرانی ہوگی، جس کی سربراہی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کریں گے۔ اس ادارے میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر سمیت عالمی رہنما بھی شامل ہوں گے۔ یہ ادارہ غزہ کی تعمیرِنو کے لیے فریم ورک اور فنڈنگ فراہم کرے گا، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنی اصلاحات مکمل کر کے غزہ کا کنٹرول دوبارہ سنبھال سکے۔ایک خصوصی "ٹرمپ اقتصادی ترقیاتی منصوبہ" ترتیب دیا جائے گا جس میں مشرقِ وسطیٰ کے جدید شہروں کی تعمیر میں شامل ماہرین شریک ہوں گے تاکہ غزہ کو روزگار، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔غزہ میں ایک خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے گا جس کے لیے ترجیحی تجارتی نرخ اور رسائی کے معاہدے کیے جائیں گے۔کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن جو لوگ جانا چاہیں گے انہیں آزادی ہوگی اور وہ واپسی کے بھی حقدار ہوں گے۔ تاہم لوگوں کو غزہ میں رہنے اور بہتر مستقبل کی تعمیر کی ترغیب دی جائے گی۔حماس اور دیگر گروہ اس بات پر متفق ہوں گے کہ انہیں غزہ کی حکمرانی میں براہِ راست یا بالواسطہ کوئی کردار نہیں ہوگا۔ تمام فوجی و عسکری ڈھانچے، بشمول سرنگیں اور اسلحہ سازی کے مراکز، ختم کر دئیے جائیں گے۔ غزہ کے مکمل غیر فوجی بنانے کے عمل کی نگرانی آزاد مبصرین کریں گے۔ اسلحہ کو ناقابلِ استعمال بنانے کا عمل عالمی فنڈنگ کے ذریعے "ہتھیار خریدنے اور دوبارہ آباد کاری کے پروگرام" کے تحت کیا جائے گا۔خطے کے شراکت دار اس بات کی ضمانت دیں گے کہ حماس اور دیگر گروہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور نیا غزہ اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔امریکا عرب اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) قائم کرے گا جو فوراً غزہ میں تعینات ہوگی۔ یہ فورس فلسطینی پولیس کو تربیت اور معاونت فراہم کرے گی، اور مصر و اردن سے مشاورت کرے گی۔ یہ فورس اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر سرحدوں کی حفاظت کرے گی، ہتھیاروں کی سمگلنگ روکے گی اور سامان کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائے گی۔اسرائیل نہ تو غزہ پر قبضہ کرے گا اور نہ اسے ضم کرے گا۔ جیسے ہی آئی ایس ایف کنٹرول سنبھالے گی، اسرائیلی فوج مرحلہ وار پیچھے ہٹتی جائے گی۔ یہ انخلا معیار اور اوقات کے مطابق ہوگا، جس پر آئی ڈی ایف،آئی ایس ایف ، ضامن ممالک اور امریکا متفق ہوں گے، تاکہ غزہ محفوظ اور غیر عسکری خطہ بن جائے۔اگر حماس اس تجویز میں تاخیر کرے یا انکار کرے تو مذکورہ اقدامات اور امدادی کارروائیاں ان علاقوں میں شروع ہوں گی جو آئی ڈی ایف سے آئی ایس ایف کو منتقل کیے جائیں گے اور جو دہشت گردی سے پاک ہوں گے۔ایک بین المذاہب مکالمہ عمل شروع کیا جائے گا جس کا مقصد رواداری اور پْرامن بقائے باہمی کی قدروں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے رویّے اور بیانیے بدل سکیں اور امن کے فوائد اجاگر ہوں۔جیسے جیسے غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات آگے بڑھیں گی، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ ہموار ہو سکے گا۔امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک سیاسی مکالمہ شروع کرے گا تاکہ پْرامن اور خوشحال بقائے باہمی کا مستقل راستہ متعین کیا جا سکے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں غزہ امن منصوبے کا اعلان کردیا اور کہا سعودی عرب ، ترکیہ ، وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بھی ہمارے ساتھ ہیں ، امید ہے ایران بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائیگا۔ٹرمپ کے امن منصوبے پر جہاں اسرائیل نے رضامندی ظاہر کی ہے وہیں حماس خاموش ہے، وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو نے دوحہ حملے پر امیر قطر کو فون کر کے معافی بھی مانگ لی۔ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لییتاریخی دن ہے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے کام کریں گے، غزہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکیہیں۔ عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے، ترکیہ اور انڈونیشیا کے صدور میرے ساتھ ہیں،وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے بھی امن معاہدے کی حمایت کی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے میرا امن معاہدہ تسلیم کرلیا ہے، ایران سے متعلق بھی نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ کیا گیا، امن معاہدہ تسلیم کرنے پراسرائیلی وزیراعظم کا شکرگزارہوں۔ ہم نے مل کر اچھا کام کیا ہے اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ بھی، اور یہی اس صورتحال کو حل کرنے کا طریقہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ہدف صرف غزہ پٹی ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اور نیتن یاہو نے ایران، ابراہیمی معاہدوں اور غزہ تنازع کے خاتمے جیسے مسائل پر بات کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے اسے قبول کر لیا تو اس تجویز میں تمام باقی ماندہ یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، حماس کی طرف سے ہمیں مثبت جواب ملے گا،لیکن کسی صورت بھی 72 گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔اگر حماس معاہدہ مسترد کردے تو اسرائیل کو حماس کے خاتمے کیلیے میری مکمل پشت پناہی حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت، عرب اور  مسلم ممالک نے غزہ کو تیزی سے غیر مسلح کرنے، حماس اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کی فوجی صلاحیت ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور ہم ان ممالک پر بھروسا کر رہے ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ حماس سے نمٹیں گے اور میرے سننے میں آیا ہے کہ حماس بھی یہ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ بشمول سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی تنصیبات ختم کر دی جائیں گی اور غزہ پٹی میں مقامی پولیس فورس کو تربیت دی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، تمام فریق اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک ٹائم لائن پر متفق ہوں گے امید ہے کہ مزید فائرنگ نہیں ہو گی۔ فلسطین میں نئی حکومت فلسطینیوں اور دنیا بھر کے ماہرین پر مشتمل ہوگی، غزہ جنگ کا خاتمہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے بڑے وڑن کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی اس منصوبے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، دیگر نام آئندہ دنوں میں جاری کیے جائیں گے۔ ملاقات میں نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کی مخالفت کی ہے، ہم غزہ میں موجود یرغمالیوں میں سے 32 افراد کی لاشیں اور 22 افراد کی زندہ واپسی چاہتے ہیں۔امریکی صدر نے کہاکہ سعودی ولی عہد بہترین انسان ہیں جبکہ امیر قطر غیرمعمولی شخصیت کے مالک ہیں،عرب اور مسلم ممالک غزہ کو ہتھیار وں سے پاک کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ میں فلسطینیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنی تقدیر کا خود اختیار سنبھالیں،اگر فلسطینی اتھارٹی میری اصلاحات مکمل نہیں کرتی تو اس کے ذمے دار وہ خود ہوں گے۔زیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری ہے، انہوں نے کہا میں اور فیلڈ مارشل ہر معاملے پر ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں، سیاسی وعسکری قیادت خارجہ پالیسی سمیت تمام اہم معاملات میں ایک پیج پر ہے ، اقتصادی صورتحال کے حوالے سے بھی باہمی مشاورت کی جاتی ہے،دعا ہے یہ ہم آہنگی جاری رہے تاکہ ماضی کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہیں،غزہ پر اجلاس کا مثبت نتیجہ جلد سامنے آئے گا،پاک سعودی دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں، حرمین شریفین کی حفاظت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے، پچھلی حکومت نے دہشتگردوں کو رہا کر کے دوبارہ بسایا، ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔میرا یہ بھی پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اس نہایت اہم اور فوری معاہدے کو حقیقت بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس جنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے اہم کردار کی تعریف کرتا ہوں۔میرا یہ بھی پختہ یقین ہے کہ دو ریاستی حل کا نفاذ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے