حماس اسرائیلی قیدیوں کو چھوڑنے پرتیار
ہتھیار مستقبل کے فلسطینی حکمرانوں کے حوالے کئے جائیں گے ، ٹونی بلیئرکا مجوزہ کردار بھی مسترد کرتے ہیں، :حماس، مثبت ردعمل پرغزہ میں فلسطینیوں کا جشن، فوری امن کا مطالبہ ،قطر کا خیر مقدم ،حماس دائمی امن کیلئے تیار ہے، امریکی صدر ٹرمپ
غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک )حماس نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیس نکاتی غزہ امن منصوبہ بڑی حد تک قبول کرلیا، حماس نے یرغمال اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔حماس کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیار مستقبل کے فلسطینی حکمرانوں کے حوالے کرے گی، جبکہ برطانیہ کیسابق وزیراعظم ٹونی بلیئرکا مجوزہ کردار بھی مسترد کردیا ہے۔حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس نے اپنی قیادت، فلسطینی دھڑوں، فورسز، ثالثوں اور دوستوں سے مشاورت کی ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا جائے، غور و خوض کے بعد فیصلہ ثالثوں کے حوالے کردیا ہے۔حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی انڈی پینڈینٹس یعنی ٹیکنو کریٹس پر مشمتل ہونی چاہیے جس کے لیے قومی اتفاق رائے ہو اور اسے عرب اور مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہو۔ حماس غزہ جنگ ختم کرنے، قیدیوں کی رہائی اور فوری امداد کی فراہمی سے متعلق، غزہ پر قبضہ مسترد کرنے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کیخلاف عرب، اسلامی ممالک عالمی کوششوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ مکمل جنگ بندی، غزہ سے مکمل فوجی انخلا کیلئے حماس اعلان کرتی ہے کہ وہ تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر آمادہ ہے جن میں زندہ اور مردہ دونوں یرغمالی شامل ہیں، اس کے لیے ضروری زمینی ماحول فراہم کیا جانا چاہیے اور حماس ثالثوں کے ذریعے اس پر بات چیت کیلئے آمادہ ہے۔ حماس کے رہنما موسی ابو مرزوق نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 72 گھنٹے کی ڈیڈلائن سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں یہ ڈیڈ لائن غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ حماس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجاویز میں جہاں تک غزہ کے مستقبل کا تعلق ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کا تعلق ہے وہ عالمی قوانین اور قراردادوں کے تحت ہیں اور ان پر جامع قومی فریم ورک کے تحت بات چیت کی جائے گی جس میں حماس فعال طور پر اور زمہ دارا نہ انداز سے حصہ لے گی۔ٹرمپ کی تجویز پر حماس کے مثبت ردعمل پرغزہ میں فلسطینیوں نے جشن منایا۔خبر ایجنسی کے مطابق امن کی جانب پیشرفت کے بعد فلسطینی شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، بچے، نوجوان بھنگڑا ڈالتے ہوئے پناہ گاہوں سے نکل آئے۔فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی گلیوں میں رونقیں بحال ہونے کی امید ہے، فلسطینیوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں امن کے لئے جاری مذاکرات خوش آئند ہیں، فوری امن ہونا چاہئے۔قطر کی جانب سے حماس کے بیان کا خیر مقدم کیا گیا ہے، مصر نے بھی حماس کے ردعمل کے بعد مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ جنگ کے خاتمے تک پہنچنے کے منصوبے پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے ثالث مصر اور امریکا کے ساتھ رابطہ کاری شروع کر دی ہے۔دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے غزہ پلان پر حماس کے ردعمل کے بعد مثبت پیش رفت کی امید ہے۔مصر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عرب ممالک، امر یکا اور یورپی ممالک کے ساتھ جنگ ٓٓزدہ علاقے میں مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کی جانب سے جاری بیان کی بنیاد پر بیان جاری کیا ہے کہ حماس دائمی امن کیلئے تیار ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پر بمباری فوری طور پر روکی جائے تاکہ یرغمالیوں کی محفوظ اور جلد رہائی ممکن بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں یرغمالیوں کی رہائی بہت زیادہ خطرناک ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ تفصیلات طے کی جارہی ہیں، یہ صرف غزہ کی حد تک نہیں ہے۔ ان کامزید کہنا تھا کہ یہ مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری امن کی کوششوں سے متعلق ہے۔