عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی ؟
توشہ خانہ 2 فیصلے کے بعد منتقلی کا امکان ،بشری ٰ بھی ساتھ ہوں گی،توشہ خانہ 2کیس کی اڈیالہ جیل ساڑھے 7 گھنٹے سماعت ، گنڈاپور کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے 2 گھنٹے ملاقات، پارٹی معاملات پر مشاورت بانی پی ٹی آئی کی پارٹی میں تفریق پیدا کرنے والوں کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت
راولپنڈی(خصوصی رپورٹ)عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کی تیاری کی جا رہی ہے ،راولپنڈی قاسم مارکیٹ میں خصوصی جیل تیار ہو گئی ،توشہ خانہ 2کیس کی اڈیالہ جیل ساڑھے 7 گھنٹے سماعت ہوئی ،گنڈاپور کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے 2 گھنٹے ملاقات کرا دی گئی قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد بانی ٹی آئی کو کسی بھی وقت اڈیالہ جیل سے منتقل کیا جاسکتا ہے جب کہ راولپنڈی قاسم مارکیٹ کے علاقے میں خصوصی جیل تیار کرلی گئی۔دوسری جانب جیل کے تمام انتظامات اور ضروری قانونی تقاضے بھی مکمل کرلیے گئے، عمران خان کے ساتھ بشریٰ بی بی کو بھی خصوصی جیل منتقل کیے جانے کا امکان ہے، خصوصی جیل میں 40 افراد پر مشتمل جیل عملہ 31 جولائی سے تعینات کر دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی جیل کی ذمہ داری ڈی ایس پی پریڑن کو سونپ دی گئی، اٹک، چکوال اور جہلم کی جیلوں سے قریباً 40 افراد پر مشتمل عملے کا راولپنڈی تبادلہ کردیا گیا۔ڈی آئی جی جیل راولپنڈی ریجن رانا رئوف نے عملے کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، خصوصی جیل کے لیے سکیورٹی اور نگرانی کا طریقہ کار بھی وضع کردیا گیا ہے، 40 افراد پر مشتمل جیل عملہ 24 گھنٹے خصوصی جیل میں تعینات رہے اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی احتساب عدالت نے بانی پی ٹی ائی،بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا اڈیالہ میں ساڑھے 7گھنٹے طویل سماعت کی اور اس دوران بجلی چلی گئی۔توشہ خانہ 2 کیس کی 7 گھنٹے طویل سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی۔سماعت کے دوران بانی کے وکیل کے وکیل کی نیب افسر محسن ہارون پر جرح جاری تھی کہ بجلی چلی گئی جس پر جج نے سماعت کو یکم اکتوبر تک ملتوی کردیا۔یکم اکتوبر کو وکیل صفائی قوسین فیصل مفتی استغاثہ کے آخری دونوں گواہان پر جرح کریں گے۔سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل سے خصوصی عدالت پیش کیا گیا جبکہ دوران سماعت عمران خان کی تینوں بہنیں، کزن قاسم زمان، بشری بی بی کی بھابھی عدالت میں موجود تھیں۔ملزموں کی جانب سے قوسین فیصل اور سلمان صفدر ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے جبکہ ایف ائی اے کی کی جانب سے مقدمے کی پیروی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک نے کی۔ اڈیالہ جیل میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی بانی تحریک انصاف عمران خان سے 2 گھنٹے طویل ملاقات کرائی گئی۔ ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد گنڈاپور میڈیا سے گفتگو کیے بغیر واپس چلے گئے۔مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ملاقات میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور خیبرپختونخوا میں امن و امان سمیت اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ عمران خان نے وزیراعلیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور صوبائی اقدامات سے آگاہی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ گنڈاپور نے عمران خان کو معیشت، بجٹ اور قبائلی جرگوں کے ذریعے قیام امن کی کوششوں پر بریفنگ دی۔بیرسٹر سیف کے مطابق عمران خان نے افغانستان سے مذاکرات یقینی بنانے کی ہدایت کی اور معاشی معاملات پر مزید بریفنگ کے لیے مشیر خزانہ مزمل اسلم کو بھی طلب کر لیا۔ عمران خان نے مشیر خزانہ سے ملاقات نہ کرانے پر عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی دی۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں مختلف وزرا اور محکموں کی کارکردگی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ عمران خان نے وزیراعلیٰ کو مکمل اختیار دیتے ہوئے پارٹی اتحاد کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ اختلافات پیدا کرنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔بیرسٹر سیف کے مطابق عمران خان نے حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیز کرنے اور اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آج ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کریں گے۔دوسری جانب اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے آڈیو لیک کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ان کے وکیل کے پیش ہونے پر منسوخ کر دئیے۔