لاہور: پنجاب میں پہلی بار اسموگ کی پیشگی اطلاع، تجزیے اور موسمیاتی نگرانی کے جدید نظام نے ڈیٹا جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق اسموگ کی صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر گزشتہ سال سے اسموگ سے بچاؤ، احتیاطی تدابیر اور قابو پانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو گرینڈ صوبائی آپریشن کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ فضائی آلودگی کے معیار کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔ماضی کے تجربات کے برعکس بھارت کے شمالی پنجاب کے علاقوں میں چاول کی فصل کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کا اثر ابھی پاکستان میں نہیں پہنچا، مگر ہواؤں کے رخ بدلنے سے اگلے ماہ اس کی واردات ممکن ہے۔ہوا کے معیار کے تازہ ریکارڈز کے مطابق لاہور میں 152، قصور میں 144، سیالکوٹ میں 154، گجرانوالہ میں 160، فیصل آباد میں 156، ملتان میں 139، بہاولپور میں 115، راولپنڈی میں 114 اور مری میں 48 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دن میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ اور رات کو 25 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ ہواؤں کا رخ شمال سے مشرق کی طرف ہے اور ہوا کی رفتار 2 سے 6 میل فی گھنٹہ رہی۔
اسموگ سے بچاؤ کے لیے انتظامات کے تحت ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ اور ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہیں۔ فصلوں کی باقیات، پلاسٹک جلانے، آلودگی اور دھواں پھیلانے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ کھلے مقامات پر کوڑا جلانے کی پابندی، زیر تعمیر عمارات کا ملبہ ڈھانپنے اور ڈھکن والے کوڑے دان یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔پولیس اور دیگر اداروں کو بھی اینٹی اسموگ آپریشن میں معاونت کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کو گرین بنانے اور آلودگی سے پاک کرنے کے لیے ریکارڈ اقدامات کیے، اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل 43 ہوا کے معیار جانچنے والے آلات و اسٹیشن نصب کیے گئے ہیں، جو اسموگ اور فضائی آلودگی کی پیشگی نگرانی میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔یہ اقدام پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ اور شہری صحت کی حفاظت کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس سے شہریوں کو موسمیاتی خطرات سے بروقت آگاہی حاصل ہوگی۔