سعودی عرب میں نصب کیا گیا جدید امریکی ساختہ میزائل دفاعی نظام ’تھاڈ‘ (Terminal High Altitude Area Defense – THAAD) مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
اس جدید نظام کی پہلی بیٹری نے باقاعدہ طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے مملکت کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی سینٹ کام کمانڈر کی تصدیق:
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا نے اس تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے سعودی فوجی افسران اور سیکیورٹی حکام کو مبارکباد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:"تھاڈ سسٹم کی مکمل فعالیت سعودی عرب کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ یہ فضائی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔"
تھاڈ سسٹم کیا ہے؟
THAAD ایک انتہائی جدید میزائل دفاعی نظام ہے
یہ مختصر اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
اس کی:
موثر رینج: تقریباً 200 کلومیٹر
کام کرنے کی بلندی: 150 کلومیٹر تک
خطے میں دفاعی توازن پر اثرات:
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی تعیناتی:
سعودی عرب کو حوثی میزائل حملوں سمیت دیگر بیرونی خطرات کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرے گی
خطے میں موجود امریکہ مخالف گروپوں اور دشمن ریاستوں کو ایک واضح پیغام دے گی
خطے میں امریکی-سعودی دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گی
ماہرین کی رائے:
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، تھاڈ سسٹم کی موجودگی سعودی عرب کو نہ صرف میزائل حملوں کے خلاف بہتر دفاع فراہم کرتی ہے، بلکہ اسے خطے کی جدید ترین دفاعی ریاستوں میں شامل کرتی ہے۔