ویب ڈیسک:ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے پاکستان کی پہلی ایریل سرویلنس کمپنی قائم کر دی ہے۔
اس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کا بروقت سراغ لگانا، صنعتی آلودگی پر نظر رکھنا اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
جدید تھرمل ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونز
ادارۂ ماحولیات کے جی آئی ایس ونگ نے تھرمل ٹیکنالوجی سے لیس جدید ڈرونز کی مدد سے فیلڈ میں کام کا آغاز کر دیا ہے۔یہ ڈرونز فضا سے صنعتی علاقوں، اینٹوں کے بھٹوں، خالی پلاٹس اور دیگر ممکنہ ماحولیاتی خطرات کی نگرانی کرتے ہیں۔
"ہاک آئی پروجیکٹ" کا ثمر
ڈی جی عمران حامد شیخ نے چند ماہ قبل ماحولیاتی نگرانی کے لیے "ہاک آئی پروجیکٹ" کی بنیاد رکھی تھی، جس کا مقصد فیلڈ میں درست، فوری اور ٹیکنالوجی پر مبنی معلومات جمع کرنا تھا۔
یہ پروجیکٹ اب باقاعدہ ایریل سرویلنس کمپنی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
صنعتی نگرانی اور ای میپنگ
عمران حامد شیخ کے مطابق:"نئی ایریل سرویلنس کمپنی ماحول دشمن انڈسٹری، غیرقانونی بھٹوں اور دیگر آلودگی پھیلانے والے عناصر کو رپورٹ کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارے کے اپنے سٹاف کے کام کو بھی کراس چیک کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔"جی آئی ایس ٹیم نے ابتدائی سروے کے دوران 4 انڈسٹریز اور ایک خالی پلاٹ میں سینکڑوں کاربن کی بوریاں رپورٹ کی ہیں۔ اس عمل کے تحت تمام انڈسٹریز اور بھٹوں کی ای میپنگ بھی شروع کر دی گئی ہے، جو آگے چل کر ماحولیاتی ڈیٹا بینک کا حصہ بنے گی۔
ماحولیاتی تحفظ کی نئی سمت
یہ منصوبہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں ایک بڑی پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف موجودہ ماحولیاتی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے میں بھی معاون ہوگا۔