انڈونیشیا کے صوبہ مشرقی جاوا کے شہر سیدوارجو میں المناک حادثہ پیش آیا جہاں پیر کے روز ایک اسلامی بورڈنگ اسکول کی عمارت اچانک گر گئی۔
اس حادثے میں ایک طالب علم جاں بحق ہوگیا، جب کہ کم از کم 65 طلباء ملبے تلے دب گئے۔
ریسکیو آپریشن
ریسکیو ٹیمیں حادثے کے بعد فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور پوری رات امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔حکام کے مطابق ابھی تک کئی طلباء زندہ ہیں اور انہیں آکسیجن اور پانی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ ریسکیو کے دوران زندہ رہ سکیں۔اب تک 8 طلباء کو زخمی حالت میں زندہ نکالا جا چکا ہے جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حادثے کے حالات
حادثہ ال خوزینی اسلامی بورڈنگ اسکول میں اس وقت پیش آیا جب طلباء نمازِ ظہر ادا کر رہے تھے۔زیادہ تر متاثرہ طلباء کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان ہیں اور وہ ساتویں سے گیارہویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت کا وہ حصہ جس پر غیر قانونی تعمیر جاری تھی، اچانک زمین بوس ہو گیا۔
غیر قانونی تعمیر
پولیس ترجمان کے مطابق اسکول کی دو منزلہ پرانی عمارت پر بغیر اجازت مزید دو منزلوں کا اضافہ کیا جا رہا تھا۔پرانی بنیادیں یہ بوجھ برداشت نہ کر سکیں اور کنکریٹ ڈالنے کے دوران عمارت گر گئی۔
نقصانات اور صورتحال
اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایک 13 سالہ لڑکا جاں بحق ہوا ہے۔حادثے میں 99 طلباء زخمی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔خوش قسمتی سے اسکول کی لڑکیاں عمارت کے دوسرے حصے میں نماز پڑھ رہی تھیں اور وہ محفوظ طریقے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔