لاہور: دورانِ ڈیوٹی شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے شہداء پیکیج کی منظوری دے دی گئی۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مختلف کیٹیگریز کے پیکیجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ احمد جاوید قاضی، اے آئی جی عمران احمد، ڈی آئی جی ویلفیئر غازی صلاح الدین اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ شریک ہوئے۔
شہداء کے کیسز کا جائزہ
اجلاس میں 17 پولیس شہداء کے کیسز پر غور کیا گیا۔پیکیج ٹو کے تحت فیصل آباد کے اے ایس آئی عبید اللہ آصف، ملتان کے اے ایس آئی محمد اکبر، جھنگ کے غلام صابر و غلام فرید، راولپنڈی کے ہیڈ کانسٹیبل ارتفا علی، سرگودھا کے کانسٹیبل عبدالشفیق و محمد عمران، اٹک کے قدیر خان، فیصل آباد کے محمد آصف، ڈی جی خان کے رئیس راجہ، لاہور کے عامر لیاقت علی، راولپنڈی کے سجاد حسین، جہلم کے حیدر علی شاہ، اوکاڑہ کے محمد سیف اللہ اور فیصل آباد کے ٹریفک وارڈن منور حسین کے ورثاء کو مالی امداد کی منظوری دی گئی۔پیکیج تھری کے تحت بہاولپور کے کارپورل ممتاز حسین اور راجن پور کے کانسٹیبل محمد عاقب کے ورثاء کو امدادی پیکیج دینے کا فیصلہ ہوا۔
مراعات کی تفصیل
پیکیج ٹو کے تحت:
اے ایس آئی کے ورثاء کو 50 لاکھ روپے نقد، گھر اور دیگر مراعات دی جائیں گی۔کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کے ورثاء کو 40 لاکھ روپے، گھر اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
پیکیج تھری کے تحت:
ورثاء کو 35 لاکھ روپے اور دیگر سہولیات ملیں گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس کیٹیگری کے شہداء کے ورثاء کو بھی گھر فراہم کیا جائے گا، جس کے لیے پنجاب کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔