قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج، نعرے بازی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے نومنتخب ارکان کے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کے دوران احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کے ساتھ سپیکر ڈائس کا گھیرائو کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر غلام مصطفی شاہ نے ایوان کو ان آرڈر رکھنے کی ہدایت کی اور اپوزیشن رکن اقبال آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کا ماحول خراب کر رہے ہیں اور مجھے سختی کرنی پڑے گی۔اپوزیشن نے حکومت کی حلیف جماعتوں کو اپنا مجرم قرار دیتے ہوئے نعرے لگائے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں تقریر کے دوران حکمران جماعت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ہمارے اس ایوان میں بیٹھنے کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ لگتا ہے نواز شریف کو آزادی مل گئی اور ان کو پہلی مرتبہ ماسک کے بغیر دیکھا ہے۔بعدازاں شور بڑھنے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ قبل ازیں ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے میڈیا میں بیٹھ کر فارم 47 کی بات کرتے ہیں اور عدالتوں سے بھاگ جاتے ہیں، یہ ان کا دہرا معیار ہے کہ میڈیا پر شور مچائو اور جب عدالت دستاویزی ثبوت مانگے تو یہ تاریخیں مانگتے ہیں۔ صاف جھکتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔