وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے امن کو تہہ بالا کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا، اور اگر کابل دہشت گردوں کی پشت پناہی روکنے کے لیے دوست ممالک کے مشوروں پر عمل کرتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
اب تک امن اور اعتماد کی بحالی نہیں ہوتی، تب تک تجارت اور دیگر مثبت پیشرفت ممکن نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کابل مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو پاکستان خوش آمدید کہے گا، مگر اگر وہ ہندوستان کی پراکسی یا ضد پر اڑا رہتا ہے اور دہشت گردی یا ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کرتا ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ خواجہ آصف نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات ابھی تک دوبارہ شروع نہیں ہوئے، مگر پاکستان کا وفد استنبول میں موجود ہے اور ترکیہ اور قطر کی کوشش ہے کہ مذاکرات میں تعطل نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ دونوں دوست ممالک (ترکیہ اور قطر) مذاکرات میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور اگر کابل کا رویہ مثبت ہوتا ہے تو بہتری کی امید ہے۔ مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا وفد کل رات واپس آنے کے لیے ایئرپورٹ پہنچ چکا تھا، اور قطر و ترکیہ نے کہا ہے کہ انہیں مزید مذاکرات کا ایک اور موقع دیا جائے۔