وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ قومی اسمبلی میں آکر ہمیں قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ دہشت گردوں کو واپس لانے سے فائدہ ہوگا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایوان میں معاملات پر بات کرتے ہوئے ماضی سے مماثلت بھی دیکھنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انہیں یاد ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید اور جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ایوان میں بیٹھا کرتے تھے اور ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ دہشت گردوں کو واپس لانے سے فائدہ ہوگا۔ اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے ماضی کے اقدامات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ ان کے بقول، قول و فعل میں تضاد رہے گا تو حالات بہتر نہیں ہوں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ شادیوں میں میراثی بھی اتنی تعریف نہیں کرتے جتنی سابق وزیراعظم عمران خان، سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی کیا کرتے تھے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایک طرف چیا سیڈز کی بات کی گئی، جبکہ وہ چائے پراٹھا کھانے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں انہیں ایک کمبل دیا گیا تھا اور دوسرا مانگنے پر نہیں ملا، تاہم شہباز شریف کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے کمبل بھجوا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرتے وقت ماضی کو بھی دیکھنا چاہیے۔
سیاسی قیدیوں کے لیے یہ قابلِ فخر بات ہوتی ہے، جبکہ اٹک جیل میں ان کا سیل 6 بائی 4 فٹ کا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کی رہائی کو کبھی مسئلہ نہیں بنایا، جبکہ مخالفین نے ایک شخص کی رہائی کو ایشو بنا لیا۔ ان کے مطابق، ان کا اصل مسئلہ دہشت گردی ہے، لیکن وزیراعلیٰ کو سیاست کی فکر تھی اور وہ اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے ڈی چوک پر آکر قبریں نہیں بنائیں اور نہ ہی ایوان میں آکر ماتم کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو شہید نہیں کیا، جبکہ اس وقت برسرِ اقتدار وزیراعلیٰ افغانستان میں موجود ایک شخص کی ہدایات پر عمل کرتے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سب کو متحد ہو کر لڑنا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہاں کان کنی اور صحت کے شعبوں کے ٹھیکے کس کے پاس ہیں اور باقی صوبوں کے مقابلے میں ایک صوبے کی صورتِ حال کیوں خراب ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدس آیات کے نیچے کھڑے ہو کر جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔