آزاد کشمیر میں امن خراب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام: خواجہ آصف

آزاد کشمیر میں امن خراب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام: خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں امن و امان کو خراب کرنے کی بھارت کی کوشش ناکام ہو گئی ہے، جبکہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دہشت گردی کے خطرات کے خلاف اب فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر (آزاد کشمیر) میں کچھ عناصر سرگرم ہیں جو بھارت کے ایما پر کام کر رہے ہیں اور وہ خطے میں ہونے والی قربانیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے عناصر خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔خواجہ آصف نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں (مقبوضہ کشمیر) بدستور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، اور کشمیری قیادت جیلوں میں قید ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیوں کی ایک طویل تاریخ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم کسی بھی گروہ کے روابط اگر بھارت سے ملتے ہوں تو ان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ریاستی اداروں کو مکمل طاقت کے ساتھ ایکشن لینا ہوگا۔بنوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں (بنوں) معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جو افسوسناک ہے۔

ان کے مطابق اس طرح کے واقعات ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔وزیرِ دفاع نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کا کردار ہے، اور ان کے بقول حالیہ برسوں میں افغانستان کی سرزمین سے بھی پاکستان کے خلاف سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف "فیصلہ کن جنگ" لڑے تاکہ اسے مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام صوبوں میں امن قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔