اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر صحافی مطیع اللّٰہ جان کی ضمانت کی روبکار پر عملدرآمد میں مشکلات پیش آئیں۔
جیل حکام نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں جگہ کی کمی کے باعث وہ مطیع اللّٰہ جان کو وہاں سے رہا نہیں کر سکتے اور انہیں جہلم یا اٹک جیل منتقل کرنے کی تجویز دی۔یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے مطیع اللّٰہ جان کے جسمانی ریمانڈ کو معطل کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے جوڈیشل ریمانڈ پر منتقل کرنے میں تاخیر کی تھی، اور اسی دوران ان کی ضمانت کی روبکار جاری ہوئی۔
گزشتہ روز، اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں مطیع اللّٰہ جان کو پیش کیا گیا، جہاں ان کی ضمانت 10 ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی تھی۔ ان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔یہ بات اہم ہے کہ مطیع اللّٰہ جان کے خلاف 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کے فیصلے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی۔ ہائیکورٹ نے ان کے جسمانی ریمانڈ کو معطل کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، اور ضمانت منظور کی تھی۔