اسلام آباد پولیس نے معروف صحافی مطیع اللہ جان کو 28 نومبر کی رات ای نائن چیک پوسٹ سے گرفتار کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق، مطیع اللہ جان کی گاڑی کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا گیا، لیکن انہوں نے گاڑی کی رفتار کم نہیں کی اور اس کے نتیجے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کانسٹیبل مدثر زخمی ہو گیا۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ مطیع اللہ جان نے گاڑی روکنے کے بعد سرکاری اسلحہ چھین لیا اور اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ نشے کی حالت میں تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کو گرفتار کر لیا اور مارگلہ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔
اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، مطیع اللہ جان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے عدالت میں آج سماعت متوقع ہے۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے پولیس اہلکار پر تشدد اور دھمکیاں دینے کی کارروائی امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔یہ واقعہ صحافتی حلقوں میں خاصی تشویش کا باعث بنا ہے، کیونکہ مطیع اللہ جان کو ایک معروف صحافی کے طور پر جانا جاتا ہے اور ان کی گرفتاری پر مختلف صحافتی تنظیموں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔