انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی احتجاج کے دوران گرفتاریوں کے معاملے پر فیصلہ سنایا۔
عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی کے 156 کارکنوں کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی۔ ان کارکنوں کو مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا، جن میں احتجاج کے دوران اینٹی رائٹس کٹس اور ڈنڈوں کا برآمد ہونا شامل تھا۔تفتیشی افسر نے جسمانی ریمانڈ کی مزید مدت کی درخواست کی، اس دوران انہوں نے کہا کہ ملزمان سے اینٹی رائٹس کٹس اور ڈنڈے برآمد ہوئے ہیں۔ جج طاہر عباس سپرا نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں اتنی اینٹی رائٹس کٹس نہیں ہیں جتنی چھینی جا چکی ہیں۔ عدالت نے 17 ملزمان کا مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جبکہ 139 ملزمان کا بھی چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا۔
عدالت نے دو خواتین کارکنان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ ان خواتین نے عدالت میں بیان دیا کہ انہیں 24 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں کھانا پینا فراہم نہیں کیا جا رہا تھا۔یہ پی ٹی آئی کارکنان مختلف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کے دوران گرفتار کیے گئے تھے، جنہیں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ملزمان کے خلاف احتجاج کے دوران درج مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں، اور ان کی گرفتاریوں کی مذمت اور قانونی جائزے کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔