70فیصد لوگوں نے سموگ کی وجہ گاڑیوں سے خارج ہونیوالا دھواں، 63فیصد نے صنعتی دھوئیں کو وجہ قرار دیا
37فیصد نے کچرے کو جلایا جانابڑی وجہ قراردیا،ہر 5 میں سے ایک فرد نے کہا یہ اللہ کا عذاب ہے، سرو ے
اسلام آباد (آئی این پی ) عالمی ادارے اپسوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سموگ کی وجہ سے ہر 10 افراد میں سے 7 لوگوں کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے، ان مسائل میں کھانسی، نزلہ اور سانس لینے میں دشواری کی علامات عام ہیں۔ ایک ماہ کے دوران ریکارڈ توڑ دھند سے متاثر ہونے والے صوبہ پنجاب میں 20 لاکھ لوگوں نے ہسپتالوں اور صحت مراکز میں جاکر سانس لینے میں دشواری اور امراض تنفس کے حوالے سے علاج کے لیے ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کیں۔اپسوس سروے کا عنوان پاکستان میں سموگ: آگاہی، تصورات اور طرز عمل تھا جو 26نومبر کو جاری کیا گیا، سروے میں ایک ہزار افراد کے انٹرویوز کیے گئے تھے۔سروے میں ایک تہائی پاکستانیوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ سے ان کی روز مرہ کی گھریلو مصروفیات، ملازمت یا کام ، اور سماجی ایونٹس متاثر ہوئے۔ سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ سموگ سے پنجاب تمام صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ متاثر ہوا، سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر لاہور اور راولپنڈی رہے۔سروے کے دوسرے مرحلے میں لوگوں سے سموگ کی وجہ کے بارے میں ان کے تصورات اور رائے کی بابت استفسار کیا گیا تو 70فیصد لوگوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں ہے، 63فیصد نے صنعتی مشینری سے خارج دھوئیں کو وجہ قرار دیا جب کہ 37فیصد نے کہا کہ کچرے کو جلایا جانابڑی وجہ ہے، 31فیصد لوگوں نے اینٹوں کے بھٹوں کو جب کہ 30 فیصد نے فصلوں کی باقیات جلانے کو اہم وجہ قرار دیا، جب کہ ہر 5 میں سے ایک فرد نے کہا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔