تصور حسین شہزاد
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین ہونیوالے معاہدے کا تینوں ممالک میں ’’جشن‘‘ منایا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکومت تو اس معاہدے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی اور ہونا بھی چاہیئے کہ ہمارا دشمن فالس فیلگیز کے ذریعے مسلسل اس کوشش میں رہتا ہے کہ پاکستان کو نیچا دکھائے، مگر اس معاہدے کے بعد اس کی اپنی نیند حرام ہو چکی ہے۔ اب تو باقاعدہ مودی کو ڈراونے خواب آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور معرکہ حق میں سبکی کے بعد اسے ہر رات خواب میں پاکستانی فوج دکھائی دیتی ہے کہ انڈیا پر چڑھائی کر رہی ہے، یہ معاہدہ بہت اہم ہے، لیکن اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اس کے بعد کوئی بڑا ’’انقلاب‘‘ آجائے گا۔ یہ اتحاد عالمی سطح پر گزشتہ ایک دہائی میں پیش آنیوالے واقعات کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔ یوکرین، روس جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے کئی ممالک کیلئے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیئے ہیں۔ خاص طور پر رواں برس28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے اور اب بعض ممالک اپنی سکیورٹی کے حوالے سے کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی عرب کی بات کریں تو اْسے 28 فروری کے بعد وہ سکیورٹی تحفظ نہیں ملا جس کی اسے امریکہ سے اْمید تھی۔ امریکہ نے سعودی عرب کی توقعات پوری نہیں کیں، بلکہ ایران نے امریکہ کے کھوکھلے رعب و دبدبہ کو خاک میں ملا کر عربوں کو بتا دیا کہ امریکہ اپنے اڈے نہیں بچا سکا تمہارا دفاع کیسے کرے گا۔ اسی طرح پاکستان جوہری طاقت ہونے کے باوجود یہ بھی چاہتا ہے کہ انڈیا کے خلاف معاملات میں دیگر ممالک اس کے پیچھے کھڑے ہوں۔ جبکہ ترکی بھی ایسے ہمسائیوں میں گھرا ہوا ہے، جہاں سکیورٹی مسائل ہیں۔ لہذا اسے بھی اپنی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مزید وسائل اور فوجی تعاون کی ضرورت ہے۔ ترکی یہ بھی چاہتا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے ایسے اقدامات جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے، اس کے مقابلے میں ایک سکیورٹی میکانزم موجود ہو تاکہ ان ممالک کی جانب سے پیدا کیے گئے عدم استحکام سے خود کو محفوظ رکھ جا سکے۔ یہ ایک بہت تاریخی اور اہم موقع ہے۔ نیٹو کی دوسری سب سے مضوط فوج، جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان، معاشی قوت اور بڑا بھائی سمجھے جانیوالے سعودی عرب کے رہنماؤں کا جمعہ کے روز مکہ میں جمع ہونا بہت اہم ہے۔ معاہدے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانیوالا دفاعی معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں۔ ترک صدر نے تو وضاحت دے کر اپنا دامن جھاڑ لیا ہے، دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور اسرائیل کے عزائم کے تناظر میں یہ معاہدہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسرائِیل کے سابق وزیرِاعظم نے کچھ ماہ پہلے کہا تھا کہ اسرائیل کا اصل دْشمن وہ ’’سْنی الائنس‘‘ ہے، جو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پا رہا ہے۔ یہ سنی الائنس اس لئے معرض وجود میں ا? رہا ہے کہ سنی ممالک کے عوام شیعہ ایران کی جانب سے مظلوم سنی فلسطینیوں کی حمایت پر ایران کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فلسطین کی حمایت کرنے پر ایران کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے فروری میں کہا تھا کہ خطے میں ایک نیا محور اْبھر رہا ہے، جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمین اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں۔
یروشلم میں امریکی یہودی تنظیموں کے صدور کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ یہ اتحاد اسرائیل کیخلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے، اور سعودی عرب پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے سابق اسرائیلی وزیراعظم کے پاکستان سے متعلق بیان کو قیاس آرائی قرار دیا تھا۔ فی الحال تو نہیں، لیکن مستقبل میں امریکہ بتدریج مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے پر غور کر رہا ہے، ٹرمپ پر اس حوالے سے امریکی عوام اور سینیئر سیاستدانوں اور دانشوروں کا شدید دباؤ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ اتحاد اس حوالے سے مسلمان ممالک کا فطری ردِعمل ہے۔ یہ تینوں ممالک بہت اہم ہیں۔ ترکی کی دفاعی صلاحیت بہت مضبوط ہے، پاکستان مسلم دْںیا کی واحد جوہری طاقت ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس دولت ہے۔ اس معاہدے کا مقام اور اس کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے۔ آگے چل کر اس معاہدے میں مصر اور قطر بھی شامل ہو سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کچھ برسوں بعد ایران بھی اس میں شامل ہو جائے۔ مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کے ذریعے بظاہر یہ پیغام دینا مقصود ہوگا کہ کسی کو بھی خطے میں جارحیت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی طرف آنکھ اْٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سعودی عرب ترکی کے جدید دفاعی نظام اور پاکستان کی میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی کو اسرائیل اور ایران کیخلاف ایک ’حفاظتی شیلڈ‘ سمجھتا ہے۔ پاکستان ایران کے معاملے میں سفارتی سطح پر ایک ’’تنی ہوئی رسی‘‘ پر چل رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد ایران کو یہ یقینی دہانی کروانی چاہیے کہ یہ اتحاد ایران کیخلاف نہیں۔ اگر ایران نے اس اتحاد کو اپنا دْشمن سمجھ لیا، تو پھر اس اتحاد کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ ایران کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی باقاعدہ ردعمل تو سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے اْن کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، بالکل اْسی طرح، جیسے برسوں تک امریکہ کا یکطرفہ طور پر ساتھ دینے سے بھی انھیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔ دیکھا جائے تو ابراہیم رضائی کی بات درست ہے، سعودی عرب کسی سے اپنا دفاع کروانے کی بجائے خود براہ راست ایران سے بات کرلے تو سعودی عرب کا دفاع خودبخود مضبوط ہو جائے گا۔ ایران کے حوالے سے سعودی عرب نے فرضی رپورٹس کی بنیاد پر سعودی عرب کو خوف زدہ کیا ہوا تھا، جبکہ ایرانی اس حوالے سے متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ سعودی عرب کو ان سے کوئی خطرہ نہیں محسوس کرنا چاہیئے، ایران سعودی عرب کیلئے بالکل بھی خطرہ نہیں، تاہم امریکہ نے اپنا اسلحہ بیچنے اور اپنے وجود کو سعودی عرب میں قائم رکھنے کیلئے فرضی اور جھوٹی رپورٹس دکھا کر سعودی عرب کو خوفزدہ کیا ہوا تھا، تاہم اب اس معاہدے کے بعد سعودی عرب کا یہ خوف جاتا رہے گا۔