مکہ معاہدہ،دہلی مضطرب

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے بعض فیصلے شورِشمشیرمیں نہیں،خاموش سفارتی میزوں پرجنم لیتے ہیں۔ان کے ہاتھ میں نہ کوئی پرچم ہوتاہے،نہ توپ کا دہانہ،نہ لشکروں کی گھن گرج؛مگروقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتاہے کہ ایک خاموش دستخط نے طاقت کے پورے نقشے میں ایک نئی لکیر کھینچ دی تھی۔مکہ مکرمہ میں پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان ہونے والادفاعی معاہدہ اسی نوعیت کی ایک پیش رفت کے طورپردیکھاجارہاہے۔اس معاہدے کی اہمیت صرف اس امرمیں نہیں کہ تین ممالک نے باہمی سلامتی کوایک دوسرے سے وابستہ کرنے کافیصلہ کیا،بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس تاریخی لمحے میں سامنے آیاہے۔مشرقِ وسطی کئی دہائیوں سے جنگ،مداخلت،پراکسی تنازعات اور بیرونی طاقتوں کیعسکری انتظامات کامیدان رہاہے۔دوسری جانب جنوبی ایشیامیں پاکستان اور انڈیاکے درمیان کشیدگی ایک ایسی حقیقت ہے جس کے ساتھ دونوں ممالک کی ایٹمی صلاحیت نیپوری دنیاکو محتاط کررکھاہے۔ایسے میں مکہ کایہ معاہدہ محض ایک اوردفاعی سمجھوتانہیں؛ یہ اس سوال کی طرف اشارہ ہے کہ کیامسلم دنیاکے بعض اہم ممالک اب اپنی سلامتی کیلئے بیرونی چھتریوں کی بجائے علاقائی شراکت داری کاکوئی نیانمونہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟لیکن انڈیاکواس پرکیوں تشویش ہے؟
انڈیاکی تشویش کوسمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس معاہدے کو صرف تین ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے طورپر نہ دیکھاجائے۔ تینوں ریاستوں کی جغرافیائی حیثیت،عسکری استعداد، اقتصادی وزن اورسفارتی رسوخ کوایک ہی فریم میں رکھاجائے توایک ایسامثلث سامنے آتاہے جس کے تینوں زاویے الگ الگ اہمیت رکھتے ہیں۔پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک بڑی عسکری قوت اورایٹمی ریاست ہے۔ترکی نیٹوکارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط دفاعی صنعت، تجربہ کارفوج اوروسیع علاقائی سفارتی اثرورسوخ رکھتاہے۔سعودی عرب کے پاس اقتصادی وسائل،توانائی کی طاقت،اسلامی دنیامیں مذہبی وسیاسی مرکزیت اورعالمی سفارت کاری میں ایک غیرمعمولی مقام ہے۔لہذادہلی کی نگاہ میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کودو دوست ممالک مل گئے ہیں؛اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی سلامتی کاسوال اب دوایسے دارالحکومتوں سے جڑرہاہے جواپنے اپنے میدان میں غیرمعمولی وزن رکھتے ہیں۔
یہاں ایک باریک فرق بھی قابلِ غورہے۔پرانے عسکری اتحاداکثرکسی بڑی طاقت کی چھتری تلے تشکیل پاتے تھے۔اس نئے انتظام میں بظاہرعلاقائی ممالک خوداپنی سلامتی کی تعریف اورترجیحات متعین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔یہی پہلواسے دہلی کیلئے زیادہ حساس بناتا ہے۔معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والی سب سے اہم بات اس کی اجتماعی دفاعی روح ہے۔کسی ایک ملک پرمسلح حملہ،تمام فریقوں پر حملہ تصورکیاجائے گا۔بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات چندالفاظ پورے سفارتی منظرنامے کاوزن بدل دیتے ہیں۔انہی اصطلاحات میں سیایک مشترکہ دفاع بھی ہے۔یہاں مکہ کی علامتی اہمیت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی۔ایک ایساشہرجو مسلمانوں کیلئیروحانی مرکزہے،وہاں ہونے والادفاعی معاہدہ سیاسی معنویت کے علاوہ تہذیبی اورنفسیاتی اثربھی رکھتا ہے۔
تاہم ریاستی سیاست جذبات سے زیادہ مفادات کے ترازومیں تولی جاتی ہے۔اسی لیے اصل اہمیت معاہدے کے مقام سے زیادہ اس کے عملی مضمرات کی ہے۔اگراجتماعی دفاع کا اصول محض اعلامیے تک محدودرہتاہے تواس کی حیثیت علامتی ہوگی؛اگراسے مشترکہ منصوبہ بندی،انٹیلی جنس،دفاعی صنعت،تربیت اورعملی مشاورت سے جوڑدیاجائے توپھریہ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک مستقل عنصربن سکتاہے۔معاہدہ کی اس شق نے انڈیاکوتشویش میں مبتلاکردیاہے کہ دہلی اس نئے ابھرتے ہوئے سکیورٹی فریم ورک کوکس نظر سے دیکھتاہے۔
پاکستان کی خارجہ ودفاعی تاریخ میں عسکری اتحادکوئی نئی چیز نہیں۔سردجنگ کے عہدمیں پاکستان نے امریکاکی سرپرستی میں تشکیل پانے والے سیٹواورسینٹومیں شمولیت اختیارکی۔اس وقت دنیادوبڑے نظریاتی کیمپوں میں تقسیم تھی۔واشنگٹن کیلئے بنیادی مقصدسوویت اثر ورسوخ اورکمیونزم کے پھیلاکوروکناتھا،جبکہ پاکستان اپنی سلامتی،معاشی مدداورعلاقائی خطرات کے مقابلے میں ایک مضبوط بیرونی شراکت دارتلاش کررہاتھامگرتاریخ نے جلدیہ دکھادیاکہ کسی اتحادکی اصل قدراس کی دستاویزسے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ بحران کی گھڑی میں اتحادی کس حدتک اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔سیٹوکے باہمی دفاعی اصول موجودتھے،لیکن ان کے ساتھ ایسی شرائط اورسیاسی حدودبھی تھیں جنہوں نے پاکستان کیلئے یہ سوال ہمیشہ زندہ رکھاکہ اگرخطرہ براہِ راست بھارت سے ہوتوامریکاکہاں کھڑاہوگا۔اسی تاریخی تجربے کے باعث مکہ کاموجودہ معاہدہ ایک مختلف زاویہ اختیارکرتا ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ واشنگٹن یاکوئی بیرونی طاقت کیاکرے گی؛سوال یہ ہے کہ علاقائی ریاستیں خودایک دوسرے کیلئے کس حدتک کھڑی ہوں گی۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ماضی سے نکل کرحال کے دروازے پردستک دیتی ہے اوراسی کے ساتھ ایک مشکل سوال بھی پیداہوتاہے: اگرپاکستان اورانڈیاکے درمیان مستقبل میں جنگ چھڑتی ہے توکیا ترکی اورسعودی عرب واقعی پاکستان کے اجتماعی دفاعی حق کوعملی طورپرتسلیم کریں گے؟معاہدے کی اصل آزمائش شایداسی لمحے ہوگی۔
یائرنیتن یاہو نے اس معاہدے پرسوال اٹھاتے ہوئے بنیادی طورپرایک اہم نکتہ سامنے رکھا:اگرایران،یمن یاعراق سے سعودی عرب کوخطرہ لاحق ہوتوکیاپاکستان اور ترکی ان محاذوں پرجنگ میں شریک ہوں گے؟اوراگرپاکستان اورانڈیامیں جنگ ہوتوکیاسعودی عرب اورترکی انڈیاکے خلاف عسکری اقدام کریں گے؟یہ سوال بظاہرطنزیہ انداز میں اٹھایاگیامگراس میں ایک بنیادی قانونی وسیاسی مسئلہ پوشیدہ ہے۔سوال یہ ہے کہ حملہ کی تعریف کیاہے؟ہراجتماعی دفاعی معاہدہ یہ سوال پیداکرتاہے کہ کیامیزائل حملہ ،ڈرون حملہ،سرحدپارمحدود کارروائی،دہشتگردی کے جواب میں فوجی آپریشن،سائبر حملہ،یاکیا کسی تیسرے ملک میں موجودپراکسی گروہ کی کارروائی کوریاست پرحملہ تصورکیاجائے گا؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جدید جنگ نے جنگ اورعدمِ جنگ کے درمیان پرانی لکیردھندلادی ہے۔لہذا معاہدے کی طاقت صرف اس کی زبان میں نہیں بلکہ اس کے تشریحی طریق کارمیں ہوگی۔
آپریشن سندورکے دوران پاکستان نے جس طرح اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کی،اس نے ایک بارپھریہ حقیقت سامنے رکھی کہ جدید جنگ صرف فوجی تعداد کانام نہیں۔فضائی نگرانی،میزائل ٹیکنالوجی،کمانڈاینڈکنٹرول،الیکٹرانک وارفیئر،ڈرونز،انٹیلی جنس اوردرست نشانہ بند ی سب مل کرجدیددفاعی طاقت تشکیل دیتے ہیں۔اس پس منظرمیں سعودی عرب اورترکی کے ساتھ معاہدے کاسب سے اہم فائدہ شایدبراہِ راست جنگی شمولیت سے زیادہ دفاعی صلاحیتوں کاباہمی انضمام ہوسکتاہے۔ترکی کی دفاعی صنعت ڈرون ٹیکنالوجی ،ایوی ایشن،الیکٹرانک نظام اورمتعدد دیگرشعبوں میں اہم مقام حاصل کرچکی ہے۔سعودی عرب مالی وسائل،دفاعی سرمایہ کاری اورتوانائی کے ذریعے ایک مختلف نوعیت کی قوت رکھتاہے۔پاکستان کے پاس جنگی تجربہ،ایٹمی ڈیٹرنس اوراپنی دفاعی صنعت کی ایک بنیادموجودہے۔اگریہ تینوں عناصرایک مربوط نظام میں تبدیل ہوتے ہیں تونتیجہ صرف تین فوجوں کامجموعہ نہیں؛یہ تین مختلف نوعیت کی طاقتوں کاامتزاج ہوگا۔
پاکستان اورانڈیاکے درمیان سب سے بنیادی تزویراتی حقیقت جوہری توازن ہے۔پاکستان کی جوہری پالیسی بنیادی طورپرانڈیاسے متعلق سمجھی جاتی ہے۔اس کامقصد روایتی عسکری عدمِ توازن کوایک ایسے تزویراتی توازن میں تبدیل کرناہے جس میں کسی بھی فریق کیلئے مکمل جنگ کاراستہ تباہ کن نتائج سے خالی نہ ہو۔مکہ کامعاہدہ اس جوہری حقیقت کوختم نہیں کرتا،نہ ہی اس کامتبادل بنتاہے بلکہ ممکنہ طورپراس کااثرایک دوسرے درجے پرہوگا،جوہری ڈیٹرنس کے نیچے روایتی اورسفارتی ڈیٹرنس کی ایک اضافی تہہ بھی موجودہے ۔  معاہدے کاایک اہم پہلویہ ہے کہ یہ اس سیاسی حمایت کوایک نسبتاًمستقل ادارہ جاتی شکل دے سکتاہے جوبحران کے دوران پہلے سے موجودتھی۔ریاستی تعلقات میں حمایت کی تین سطحیں ہوتی ہیں:بیان، سفارت کاری اورعملی تعاون۔بیان وقتی ہوتاہے۔سفارت کاری بحران کے دوران دباپیداکرسکتی ہے مگردفاعی تعاون اس سے ایک قدم آگے ہے کیونکہ وہ ریاستوں کو مشترکہ منصوبہ بندی اورباہمی ذمہ داری کے قریب لے جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ مکہ کامعاہدہ صرف یہ نہیں بتاتاکہ کون کس کے ساتھ ہے؛یہ اس سوال کوبھی جنم دیتاہے کہ بحران کی صورت میں کون کس سطح پرمتحرک ہوگا۔اگر اس معاہدے کے نتیجے میں مستقل دفاعی مشاورت،مشترکہ مشقیں،انٹیلی جنس تعاون اورسفارتی رابطے بڑھتے ہیں تواس کی اہمیت کاغذی شقوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔
دہلی کیلئے سب سے پیچیدہ پہلوشاید سعودی عرب کاپاکستان کے ساتھ دفاعی تعلق نہیں بلکہ سعودی عرب کاانڈیاکے ساتھ گہرامعاشی تعلق ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت اربوں ڈالرمیں ہے۔سعودی عرب نیانڈیامیں توانائی،ریفائننگ،پیٹروکیمیکلزاوربنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی خواہش ظاہرکی ہے۔سعودی آرامکو بھی انڈیاکے بڑے صنعتی منصوبوں میں دلچسپی رکھتی رہی ہے۔(جاری ہے)