مکہ المکرمہ دفاعی معاہدہ۔تین قالب یکجاں!

علی احمد 
 مْسلمانوں کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے تومسلمانوں نے نہ صرف اوج ثریاکوچھوابلکہ دْنیاپرصدیوں حکمرانی کی۔مہذب دْنیاآج بھی مسلمانوں کے دورحکومت کوبطورمشعل راہ لیتی ہے۔ریاست مدینہ کے زمانہ میں ایک وقت ایسابھی تھاکہ جرم بالکل نہ ہونے کے برابر تھے۔زکو? لینے والاکوئی نہ تھا۔وْہ معاشرہ جوکبھی زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کوزندہ درگورکرتاتھانبی کریم ? کی تعلیمات کی بدولت بیٹیوں کورحمت قراردیاگیا،خواتین کوجوحقوق اسلام نے دیئے وْہ آج بھی مثال ہیں۔خیر۔نبی کریم ?،اصحاب پیغمبر? کے زمانہ کے بعدبھی مسلمان فاتحین نے اسلام کابول بالاجاری رکھااوراگرتہذیب اور علم کی بات کی جائے تواسلام نے جابربن حیان،ابن الہیشم،بوعلی سیناجیسے کئی نامورسائنسدان پیداکئے جن کی تعلیمات کی بدولت ہی دْنیانے ترقی کے سفرکوجاری رکھاہواہے۔دْنیابھرسے علم کے پیاسے بخاراکی لائبریریوں سے اپنی پیاس بجھاتے رہے۔خیر۔عروج وزوال بھی قوموں پرہی آتے ہیں اورپھرزندہ قومیں اپنے زوال سے سیکھ کر عروج کودوام بخشتی ہیں۔اگرپاکستان کی بات کی جائے توپاکستان دْنیاکی واحد اسلامی مملکت ہے جوکلمہ طیبہ کی بنیادپرمعرض وجود میں آیا اورپھریہی مملکت خْداداداسلامی دْنیاکی پہلی ایٹمی قوت بھی بنا۔پاکستان کی تاریخ میں بھی اسلام دْشمن عناصر اورفاشسٹ بھارت نے کئی بارآزمانے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔لیکن۔ الحمداللہ پاکستان کواللہ تعالیٰ نے ہرمیدان میں فتح ونصرت عطافرمائی ہے۔وْہ کسی شاعرنے کیاخوبصورت کہاہے کہ 


حق وباطل کے معرکہ میں سدا
فتح بالیقین ہیں ہم لوگ


 آج مملکت خْدادادپاکستان مْسلم اْمہ کانہ صرف قلعہ ہے بلکہ پوری دْنیاکواِس وقت لیڈبھی کررہاہے۔عصرحاضر میں جہاں دْنیامختلف معاشی اوربدامنی کی صورتحال سے دوچارہے وہیں پاکستان دْنیامیں امن وامان کی بحالی،دہشتگردی کے خاتمے اورخارجہ اْمورپربہترین کام کررہاہے۔پاکستان کی تاریخ میں اِس سے بڑی کامیابی یقینانہیں دیکھنے کوملتی جوحالیہ ’’اسلام آبادٹاکس‘‘کے موقع پر پاکستان نے عالمی امن بحران کے حل کیلئے خدمات سرانجام دی ہیں۔اِسی طرح اگرتْرکیہ کی بات کی جائے توتْرک مسلمانوں سے برصغیر کے مسلمانوں کی محبت،الفت،بھائی چارہ کی طویل تاریخ ہے۔تْرک قوم آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کوبڑی عزت سے دیکھتے ہیں اورخصوصاًپاکستان کے حوالہ سے تْرکی وہی موقف رکھتا ہے جوپاکستان کے عظیم دوست چین کاموقف ہے۔رجب طیب ایردوان کی صدارت میں جہاں تْرکی یورپ کے شانہ بشانہ ترقی کے نئے دورمیں داخل ہورہاہے وہیں مْسلم اْمہ کیلئے اورخصوصاًمسئلہ فلسطین کے حل کیلئے بھی تْرکی کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔مسئلہ کشمیرکے حوالہ سے تْرکی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑارہاہے اورآج بھی چٹان کی طرح پاکستان کیساتھ ہے۔اِسی طرح مملکت سعودی عرب سرزمین حریمین شریفین کی بدولت نہ صرف پوری اْمت مْسلمہ کی نظروں کامحوومرکزہے بلکہ پاکستان سے توسعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ برادرانہ اوردوستانہ رہے ہیں۔جب بھی کبھی پاکستان پرکوئی آزمائش آئی سعودی عرب نے ہمیشہ بڑے بھائی ہونے کے ناطے پاکستان کابھرپورساتھ دیا۔سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعودکی زیرقیادت سعودی عرب انقلابی ترقی کی جانب گامزن ہے اوراِن کامنصوبہ 2030ء￿  مملکت سعودی عرب کوترقی کے ایک نئے دورمیں داخل کررہاہے۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف،سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اورتْرکیہ کے صدررجب طیب ایردوان جہاں مْسلم اْمہ کے مسائل کے حل کیلئے یکساں موقف رکھتے ہیں وہیں اقوام عالم کے حوالے سے بھی تینوں کاموقف بڑامضبوط اورجامع ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال ہی دونوں برادراسلامی ممالک سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان دوطرفہ دفاعی معاہدہ ہوااورگزشتہ ہفتہ ہی اِس دفاعی معاہدہ میں تْرکیہ بھی شامل ہوگیاہے۔گزشتہ ہفتہ نہ صرف اْمت مسلمہ بلکہ پوری دْنیاکی نظریں سرزمین مقدس مکہ مکرمہ پرمرکوزتھیں کہ جہاں تینوں ممالک کے سربراہان سمیت تینوں ممالک کی دیگرقیادت نے نمازجمعہ کے موقع پر قصر الصفا میں اکٹھے نماز ادا کی۔نمازجمعہ کے بعد مکہ المکرمہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس میں تینوں برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے آپسی تعلقات کا جائزہ لیا اورباہمی دلچسپی کے متعدد امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے مضبوط رشتوں، مشترکہ تزویراتی مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ دفاعی معاہدے پر دستخطوں کے بعد تینوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور انتہائی خوشگوار ماحول میں غیر رسمی جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ارض مقدس،حرمین شریفین کے سائے تلے طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ نہ صرف تینوں برادر اسلامی ممالک بلکہ اْمت مْسلمہ کی آنے والی نسلوں کے لیے امن و استحکام کی ڈھال ہے۔اِس حوالے سے پاکستان کی وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات نے ہمیشہ کی طرح اِس عظیم معاہدہ کے حوالہ سے بڑاہی خوبصورت نغمہ بھی جاری کیا ہے جس کے بول ’’ایک اللہ، ایک رسول ?، ایک قرآن، ایک کلمہ، ایک قبلہ، ایک پہچان‘‘ تینوں ممالک کے مشترکہ دینی اور تہذیبی ورثے کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔بلاشبہ یہ تاریخی معاہدہ بھی ماہ اگست میں ہواہے جہاں یوم آزادی کی آمد کے موقع پروطن عزیزکے طول وعرض میں سبزپرچم لہرارہے ہیں تووہیں ’’مکہ المکرمہ دفاعی معاہدہ کے حوالہ سے پوری دْنیا میں گونج ہے ’’تین قالب یکجاں۔سعودی عرب۔تْرکیہ۔پاکستان‘‘