مکہ معاہدہ،دہلی مضطرب

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اس کے علاوہ لاکھوں انڈین شہری سعودی عرب میں کام کرتے ہیں،جودونوں ممالک کے درمیان انسانی اورمعاشی رابطے کی ایک مضبوط زنجیرتشکیل دیتے ہیں۔توانائی کے میدان میں بھی سعودی عرب انڈیاکیلئے اہم شراکت دارہے۔اس پس منظرمیں سعودی عرب کاپاکستان کے ساتھ اپنی سلامتی کوجوڑنادہلی کیلئے اس لیے اہم ہے کہ یہ اسے ایک مشکل سفارتی سوال سے دوچارکرتاہے۔کیا اقتصادی شراکت داری اوردفاعی وابستگی بیک وقت دومختلف سمتوں میں چل سکتی ہیں؟ ایک ریاست ایک ملک کے ساتھ تجارت اور دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کرسکتی ہے مگربحران کی گھڑی میں یہی توازن سب سے بڑاامتحان بن جاتاہے۔
اس معاہدہ کی سب سے قابلِ توجہ سیاسی جہت یہ ہے کہ سعودی عرب نے مختصرعرصے میں دوسری مرتبہ پاکستان کی سلامتی کے ساتھ اپنے سلامتی کے مفادکوجوڑنے کافیصلہ کیا۔اس سے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے:ریاض اوراسلام آبادکے تعلقات اب صرف تاریخی،مذہبی یاروایتی دوستی کے دائروں میں نہیں رہناچاہتے؛ان میں تزویراتی باہمی انحصار کا عنصربڑھ رہاہے۔سعودی عرب کیلئے پاکستان محض ایک مسلم ملک نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جس کے پاس ایک تجربہ کارفوج،جوہری صلاحیت اوراہم جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔پاکستان کیلئے سعودی عرب صرف اقتصادی شراکت دارنہیں بلکہ عرب دنیا،خلیج اوراسلامی دنیامیں ایک اہم سفارتی دروازہ بھی ہے۔یوں دونوں کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ ایسے مقام پرآملتے ہیں جہاں مذہب،جغرافیہ،معیشت اورسلامتی ایک ہی دھاگے میں پروئے جاسکتے ہیں۔
اس معاہدے کوفورامسلم نیٹویاسنی نیٹوقراردیناشایدعلمی احتیاط کے خلاف ہوگامگراصطلاح سے زیادہ اہم وہ خیال ہے جس کی طرف یہ پیش رفت اشارہ کرتی ہے۔اگرمسلم اکثریتی ریاستیں اپنی سلامتی کیلئے مشترکہ نظام تشکیل دینے کی خواہش رکھتی ہیں تویہ اس سوچ سے مختلف ہے جس میں مسلم دنیاہمیشہ بیرونی طاقتوں کی حفاظتی چھتری تلاش کرتی رہی۔یہاں ایک نئے تصور’’سیکیورٹی کی علاقائی ملکیت‘‘کی ابتدائی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔یعنی خطے کے ممالک اپنے مسائل کوسمجھیں،اپنی ترجیحات طے کریں،اپنی دفاعی صلاحیتیں مربوط کریں اوربیرونی طاقتوں کوواحد فیصلہ کن ضامن نہ سمجھیں۔تاہم مسلم دنیاکے اندرموجودسیاسی اختلافات،ایران وعرب تعلقات،ترکی کے مختلف علاقائی مفادات اوردیگر پیچیدگیاں اس تصورکے سامنے بڑے سوالات بھی رکھتی ہیں۔اس لیے اسے ابھی منزل کہناقبل ازوقت ہوگا؛البتہ اسے ایک سمت ضرورکہاجاسکتاہے۔
جنوبی ایشیامیں مستقبل کی کسی بھی کشیدگی کیلئے اس معاہدے کاسب سے اہم نتیجہ شایدیہی ہوگاکہ اب ممکنہ جنگ کے حساب میں نئے متغیرات شامل ہوگئے ہیں۔پہلے پاکستان اور انڈیاکے درمیان بحران کابنیادی فریم دوطرفہ تھا،اگرچہ چین،امریکا،سعودی عرب،ترکی اور دیگرطاقتیں سفارتی سطح پراثر اندازہوتی تھیں۔اب اگردفاعی وابستگی عملی شکل اختیار کرتی ہے توکسی بھی بڑے بحران میں یہ سوال بھی شامل ہوگاکہ علاقائی اتحادی کس مقام پرکھڑے ہوں گے؟یہ صورتحال ایک طرف پاکستان کیلئے ڈیٹرنس بڑھاسکتی ہے،مگردوسری طرف بحران کے انتظام کوپیچیدہ بھی بناسکتی ہے کیونکہ بعض اوقات زیادہ اتحادی زیادہ طاقت نہیں بلکہ زیادہ پیچیدہ فیصلے بھی پیدا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی امن کاتقاضا صرف دفاعی اتحادنہیں بلکہ بحران کے انتظام کے مستقل راستے بھی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگردوبارہ آپریشن سندورجیسی کارروائی ہوئی تو؟یہ وہ مقام ہے جہاں معاہدہ کی سب سے حساس شق سامنے آتی ہے۔اگر مستقبل میں انڈیاپاکستان کے اندرکسی کارروائی کودہشتگردی کے ڈھانچے یافوجی تنصیبات کے خلاف محدودآپریشن قراردے،تواسلام آباد اسے ایک خودمختارریاست کے خلاف مسلح اقدام قراردے سکتاہے۔ایسی صورت میں اجتماعی دفاعی شقوں کوفعال کرنے کامطالبہ کیاجا سکتا ہے۔لیکن یہاں ایک اہم فرق ہے کہ معاہدہ خود بخودجنگ کااعلان نہیں کرتا۔اجتماعی دفاع کی عملی نوعیت کاانحصار اس بات پرہوگاکہ تینوں ممالک حملے کی نوعیت،شدت اورقانونی حیثیت کوکس طرح دیکھتے ہیں۔ اسی لیے مستقبل میں معاہدے کی اصل طاقت اس کے متن سے زیادہ اس کے ادارہ جاتی طریق کارمیں ہوگی۔اگر بحران کے وقت تینوں دارالحکومتوں میں فوری مشاورت کانظام موجودہو،توایک محدودواقعے کووسیع جنگ میں بدلنے سے روکابھی جاسکتاہے ۔ یوں ایک مضبوط دفاعی معاہدہ بیک وقت جارحیت کوروکنااورجنگ کومحدودرکھنے کادہراکرداراداکرسکتا ہے لیکن یہاں انڈیا کی تشویش اس معاہدے کے ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتی ہے جنہیں دہلی نظرانداز نہیں کرناچاہتا۔
اگرمعاہدے کی زبان واقعی نیٹوکے آرٹیکل فائیوسے مشابہ اجتماعی دفاعی تصورپیش کرتی ہے تواس کامطلب یہ ہے کہ اس کی سیاسی اہمیت صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہ سکتی۔ پاکستان اورانڈیاکے تعلقات کی تاریخ میں سرحدی جھڑپیں،جنگیں،دہشتگردی کے واقعات،سفارتی بحران اورجوہری دھمکیوں کے سائے پہلے ہی موجود ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ انڈیاکے بعض سابق سفارت کاراوردفاعی تجزیہ کاراسے منفی پیش رفت قراردے رہے ہیں۔مگراس کاایک دوسراپہلوبھی ہے۔اگراجتماعی دفاع کامقصد جارحیت کوروکنا ہے توشاید اس کا نتیجہ جنگ میں اضافہ نہیں بلکہ جنگ کے امکانات میں کمی بھی ہو سکتاہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات تلواریں نیام میں اسی وقت رہتی ہیں جب دونوں جانب انہیں نکالنے کی قیمت کاپوراادراک موجودہو۔
اگر پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط ہوتاہے اوراس کے جواب میں انڈیااپنی سفارتی ودفاعی شراکت داری کواسرائیل،خلیجی ریاستوں،یونان، قبرص اوردیگرممالک تک پھیلانے کی کوشش کرتاہے تو مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاکی سیاست ایک دوسرے سے مزید گہرائی میں جڑسکتی ہے۔یہ رائے بھی اسی سمت اشارہ کرتی ہے کہ مغربی ایشیامیں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل اورعلاقائی سلامتی کے نئے ڈھانچے کے تناظرمیں یہ معاہدہ ایک وسیع ترتبدیلی کا حصہ ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال سب سے زیادہ اہم ہے کیاایران اس نئے توازن کواپنے لیے خطرہ سمجھے گا،یااسے خطے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی کے مقابل ایک مقامی انتظام کے طور پر دیکھے گا؟اوراس سے بھی آگے کیاانڈیااس نئے ماحول کامقابلہ محض نئے اتحادبناکر کرے گا،یااپنی پاکستان پالیسی پربھی ازسرِنوغورکرے گا؟
دنیاکی تاریخ میں طاقت کے بڑے مراکزہمیشہ ایک جگہ قائم نہیں رہتے۔کبھی بحیرہ روم مرکزبنتاہے،کبھی یورپ،کبھی واشنگٹن،کبھی ماسکواورکبھی ایشیاکے افق پرنئی قوتیں ابھرتی ہیں ۔ مگراکیسویں صدی کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ طاقت اب صرف فوجی اڈوں اور ایٹمی ہتھیاروں میں نہیں رہتی؛وہ معیشت،ٹیکنالوجی،سفارت کاری،توانائی،جغرافیہ اورباہمی اعتمادکے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔مکہ کادفاعی معاہدہ اسی بدلتی ہوئی دنیاکی ایک علامت کے طورپردیکھاجاسکتاہے۔
یہ نہ ابھی مسلم نیٹوہے،نہ اسے کسی نئے فوجی بلاک کاقطعی نام دیاجاسکتاہے۔اس کی اصل اہمیت اس امکان میں ہے کہ تین اہم مسلم ممالک اپنی سلامتی کوایک دوسرے سے جوڑنے کی طرف قدم بڑھارہے ہیں۔پاکستان کیلئے یہ معاہدہ دفاعی تعاون سے زیادہ تزویراتی گہرائی کاسوال ہے۔سعودی عرب کیلئے یہ اپنی سلامتی کے نئے علاقائی تصورکاحصہ ہوسکتا ہے ۔ترکی کیلئے یہ اپنے بڑھتے ہوئے علاقائی کردارکوایک نئی سمت دینے کاموقع ہے اورانڈیاکیلئے یہ ایک ایسے ماحول کاآغازہے جس میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی مستقبل کے تصادم کاحساب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتاہے۔
لیکن تاریخ کاسبق یہ ہے کہ اتحاداپنی اصل آزمائش جنگ میں نہیں،جنگ کوروکنے کی صلاحیت میں ہے۔اگرمکہ کامعاہدہ اس مقام تک پہنچ جاتاہے جہاں اس کی موجودگی ہی کسی فریق کوجنگ شروع کرنے سے پہلے سوبارسوچنے پرمجبورکرے،توشایداس کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی۔کیونکہ حقیقی طاقت وہ نہیں جوجنگ جیتنے کے بعددکھائی دے؛حقیقی طاقت وہ ہے جوجنگ کوشروع ہونے سے پہلے ہی بے معنی بنادے۔اورشایدیہی وہ مقام ہے جہاں مکہ کی اس نئی سفارتی داستان کاسب سے گہرامفہوم پوشیدہ ہے۔یہ کسی دشمن کے خلاف تلواراٹھانے کااعلان نہیں،بلکہ شاید تلواراٹھنے سے پہلے ہاتھ روک دینے کی کوشش ہے۔
تاہم تاریخ ابھی خاموش ہے۔مستقبل کے صفحات ابھی سفیدہیں۔یہ معاہدہ ان صفحات پرامن کی عبارت لکھتاہے یاطاقت کے ایک نئے باب کا عنوان بنتاہے ،اس کافیصلہ آنے والاوقت کرے گا۔مگرایک بات واضح ہے کہ مکہ میں ہونے والی اس پیش رفت نے جنوبی ایشیا،خلیج اورمشرقِ وسطی کے جغرافیہ کوایک ہی تزویراتی نقشے پرلا کھڑاکیاہے۔اورجب جغرافیہ،تاریخ اورطاقت ایک مقام پرجمع ہوجائیں تو پھرایک معاہدہ صرف معاہدہ نہیں رہتاوہ آنے والے عہدکی تمہید بن جاتاہے۔