عبدالستار کیلانی
ہم لوگ وفاؤں میں درختوں کی طرح ہیں
جہاں لگ جائیں صدیوں کھڑے رہتے ہیں
1940 میں حافظ آباد میں ملک سردار خاں جو پیشہ کے اعتبار سے ٹرانسپورٹر اور چاولوں کا کاروبار کرتے تھے ان کے ہاں جنم لینے والے ملک محمد وزیر اعوان پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔جنہوں نے ابتدائی تعلیم حافظ اباد سے بعد میں چناب نگر اور سرگودھا کالج میں بھی زیر تعلیم رہے۔ملک محمد وزیر اعوان پاکستان پیپلز پارٹی کے ان نظریاتی، مخلص اور وفادار کارکنوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اس پارٹی کی بنیادوں میں اپنا خون پسینہ شامل کیا بلکہ اپنی پوری زندگی اس کے لیے وقف کر دی۔ وہ پارٹی کے بانی رفقاء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اس نظریے کو اپنایا بلکہ اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ملک محمد وزیر اعوان تقریبا 57 برسوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں وہ صرف کارکن نہیں بلکہ نظریے کے علمبردار، استقامت کی علامت، اور پارٹی کے لیے قربانی دینے والا ایک ایسا نام ہیں جس پر ہر جیالا فخر کر سکتا ہے۔ ان کا یہ جملہ ان کی سوچ اور کردار کا مظہرہے:
?ہماری پارٹی ایک خاندان کی طرح ہے، یہاں کارکن کو بھی عزت ملتی ہے اور لیڈر کو بھی۔
1970 میں وار بٹن سے پیپلز پارٹی کے بطور چیئرمین اپنی سیاسی زندگی کا اغاز کرنے والے ملک محمد وزیر اعوان نے 1977 کے عام انتخابات میں حافظ آباد سے پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کر کے بھرپور کمپین چلائی۔اور کامیابیوں نے قدم چومے۔ بدقسمتی سے، ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی، آمریت نے پنجے گاڑھے، اور ملک محمد وزیر اعوان بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ قید و بند کی صعوبتیں ان کے حوصلے پست نہ کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں: "میں اکیلا بھی پارٹی پرچم لے کر شہروں، گلیوں، بازاروں میں گھومتا تھا۔"
ان کی وفاداری کا اندازہ اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے:
"میں نے ہمیشہ اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید اور ان کے مشن، منشور سے محبت کی ہے اور رہتی دنیا تک کرتا رہوں گا۔"
انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین اور دل خراش واقعہ تھا لیکن ایسے نازک موقع پر اصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر نا صرف قومی وحدت کا پیغام دیا بلکہ حب الوطنی کا بھرپور مظاہرہ کیا بلاول بھٹو زرداری کے یہ الفاظ کہ
جمہوریت بہترین انتقام ہے اج بھی عوام کے دلوں میں گونجتے ہیں
ملک محمد وزیر اعوان نے ہمیشہ مظلوم، مزدور، کسان، اور غریب کی آواز بن کر بات کی۔ وہ بڑے سے بڑے ظالم اور جابر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوئے۔ ان کے بقول، وہ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک ادنیٰ کارکن ہیں، اور ایک کارکن ان کے لیے سب کچھ ہے۔
1993 میں پارٹی نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ضلعی صدر بنایا، اور وہ آج بھی اسی منصب پر فائز ہیں۔ 1988 میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 1990 میں الیکشن ہار گئے، 1993 میں سازشوں کا نشانہ بنے اور 1997 کے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔لیکن پارٹی سے محبت عزم اور حوصلہ اسی طرح جوان رہا۔
بعد ازاں وہ امریکا چلے گئے جہاں دو دہائیوں تک مقیم رہے۔ وقت کا یہ طویل فاصلہ آج بھی انہیں شدت سے محسوس ہوتا ہے، مگر ان کا تعلق، وفا، اور نظریاتی وابستگی آج بھی وہی ہے جو 1970 کی دہائی میں تھی۔
راقم عبدالستار کیلانی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حافظ اباد کی سیاست میں چوہدری ارشاد اللہ تاڑ مرحوم اور میاں افضل حسین تارڑ مرحوم وضعداری کی روشن علامت تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت،عوامی حقوق اور ریاستی استحکام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔"ہماری پارٹی شہادتوں اور قربانیوں کی آمین ہے" سچائی کی ائینہ دار ہے۔ انشاء اللہ، آنے والا دور ایک بار پھر پاکستا پیپلز پارٹی کا ہوگا جو عوام کی امیدوں کا مرکز اور جمعہوری روایات کی علمبردار ہے۔
زندگی کی 85 بہاریں دیکھنے والے ملک محمد وزیر اعوان کی سیاسی زندگی قربانی، استقامت، اور نظریاتی وابستگی کی روشن مثال ہے۔ ان جیسے لوگ ہی پارٹی کی اصل طاقت اور روح ہیں۔ملک محمد وزیراعوان کی سیاسی جدوجہد، قربانیاں اور نظریات پر کھڑے رہنا آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔وہ پیپلز پارٹی کے اس کارکن کی مثال ہیں جو صرف وفاداری کا نام نہیں بلکہ پارٹی کی روح ہوتے ہیں ان جیسے کارکن ہی دراصل اس قافلے کی اصل طاقت ہیں، جن کی بدولت پارٹیاں زندہ رہتی ہیں، تاریخ انہیں ایک باوفا، نظریاتی اور جدوجہد سے بھرپور کارکن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔