سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
جب تاریخ کے اوراق پروقت کے قلم نے افغانستان کانام لکھاتواس کے ساتھ ہی تقدیرنے ایک مسلسل کشمکش کی داستان بھی رقم کر دی۔ایک سرزمین جوکبھی سلطنتوں کی راہگزر رہی ،کبھی نظریات کی آزمائش گاہ،اورکبھی سامراجی قوتوں کیلئیشطرنج کی بساط۔ اسی خط خاک میں،جہاں بندوق کی زبان نے صدیوں تک حکمرانی کی،آج سفارت کی نرمی نے آہستہ آہستہ سراٹھاناشروع کیاہے۔ طالبان کی حکومت،جوکبھی محض ایک عسکری وجودسمجھی جاتی تھی،اب سفارتی دروازوں پرسیاسی گفت وشنیدکی بجائے دشمنوں کی زبان میں بات کررہی ہے اورجب ان کے وزیرِخارجہ امیرخان متقی،دہلی کی سمت قدم بڑھاتے ہیں،تویہ محض ایک سرکاری دورہ نہیں،یہ تاریخ کے گہرے سمندرمیں پھینکاگیاایک نیالنگرہے؛ایک ایسی کوشش جوبرصغیرکے دوازلی حریفوں،انڈیااورافغانستان کے درمیان ایک نئی فکری راہداری کھولنے جارہی ہے۔
تاریخ کے دھارے میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب قومیں صرف فیصلے نہیں کرتیں،بلکہ اپنے ماضی کے ساتھ مکالمہ کرتی ہیں۔ افغانستان اوربھارت کے مابین بڑھتی ہوئی قربت کامنظرآج پاکستان کیعوام کے دلوں میں ایک خاموش کرب پیداکررہاہے۔وہی پاکستان ،جس نے چالیس برس تک افغان بھائیوں کے دکھ دردکواپنادکھ سمجھا،جس نے اپنی زمین ، اپنے وسائل،اپنے گھروں تک کومہمان نوازی کے نام پروقف کردیا،آج وہی قوم یہ سوچنے پرمجبورہے کہ:
کیایہ وقت کاالٹابہاہے یاتاریخ کی ناقدری کامظہر؟پاکستانی عوام اپنے دل کے نہاں خانوں میں یہ سوال لیے بیٹھے ہیں کہ جن افغان بھائیوں کیلئیاس ملک نے اپنی معیشت، امن اورخون سب کچھ قربان کیا،آج وہی افغان زمین ٹی ٹی پی اوربی ایل اے جیسے گروہوں کیلئے پناہ گاہ کیوں بنی ہوئی ہے؟کیوں وہی مٹی،جسے کبھی برادرانہ محبت کااستعارہ سمجھا جاتاتھا،اب دہشت اورعداوت کے لشکر وہاں سے روانہ ہورہے ہیں؟اوراس سارے منظرنامے کے پیچھے،وہی ازلی سیاسی مدِمقابل،بھارت،جس نے گزشتہ دہائیوں میں طالبان کے خلاف ہرمخالف دھڑے کوسہارادیا،اب انہی طالبان کے ساتھ مصافحے اورمفاہمت کادعویداربن بیٹھاہے۔
یہ وہی بھارت ہے جوچندماہ قبل مئی کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں رسوائی کامزہ چکھ چکاہے اب وہی بھارت،انتقام کی نفسیات کے زیرِاثر،کابل کے راستے اسلام آبادکوزک پہنچانے کے خواب دیکھ رہاہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ جہاں پاکستان اپنے جذبہ اخوت کے سائے میں بیٹھاسوچ رہاہے تاریخ ایک بارپھردوستی اوردشمنی کے چوراہے پرکھڑی ہے کہ آخرمحبت کی وہ فصل جوہم نے برسوں اپنے لہوسے سینچی،آج اس کے کانٹے ہمیں ہی کیوں چبھنے لگے ہیں؟
پاکستان کی روایتی قربت،چین کابڑھتااثر،اورروس کی نرم مداخلت کے پس منظرمیں یہ دورہ ایک خاموش مگرزلزلہ خیزسیاسی اشارہ ہے۔یہ اس امرکااعلان ہے کہ خطے کی سیاست اب صرف بندوق کے دہانے سے نہیں،قلم اورمکالمے کے وقارسے بھی نہیں بلکہ سازشی اورانتقامی مزاج سے طے ہوگی۔گوبھارت نے ابھی تک طالبان کوباضابطہ تسلیم نہیں کیا، مگر تسلیم کی بنیادہمیشہ دل کے نرم گوشے اورقلم کی شیریں مفاہمت کے الفاظ سے پھوٹتی ہے مگریہاں پاکستان کے ازلی دشمن انڈیاکے ساتھ سازشوں کے جھرمٹ اور احسان فراموشی سے اٹھتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے جنوبی ایشیاکی نئی سیاست کی ابتداہورہی ہے جہاں دشمنی کی راکھ سے مکالمے کاپہلاشعلہ ابھررہاہے۔یہ لمحہ دراصل تاریخ کے اس موڑکی مانندہے،جہاں ماضی کے دشمن مستقبل کے معماربننے کی تیاری کررہے ہیں،اورسفارت،جسے کبھی کمزوری سمجھاجاتاتھا،اب حکمت کاسب سے مضبوط ہتھیاربننے کی بجائے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے تیاریاں ہورہی ہیں۔
جنوبی ایشیاکی سیاسی تاریخ ہمیشہ تغیرکے طوفانوں سے عبارت رہی ہے۔یہاں اقتدارکامحوربدلتارہامگرطاقت کاجغرافیہ کبھی خالی نہیں رہا۔اس خطے میں افغانستان ہمیشہ ایک دروازے اوردیواردونوں کاکرداراداکرتاآیاہے۔ایک ایسادروازہ جوتہذیبوں کوجوڑتاہے،اور ایک ایسی دیوارجومفادات کی سرحدیں متعین کرتی ہے۔آج جب طالبان کے وزیر ِخارجہ امیرخان متقی کے مجوزہ بھارتی دورے کی خبرمنظرِعام پرآتی ہے،تویہ صرف ایک سفری اطلاع نہیں،بلکہ تاریخ کے دھارے میں بدلتی ہوئی سمت کااعلان ہے کہ افغان بھائیوں پراعتماداورفخرکرنے والے ہم جیسے قلمکاربھی برسوں کی محنت اورمحبت کوبغض وعنادکے حوالے کادکھ دیکھنے کیلئے زندہ ہیں۔
تاریخ کے صفحات پرایسے لمحات کبھی کبھاررقم ہوتے ہیں جب سیاست محض اقتدارکی تدبیرنہیں رہتی،بلکہ تہذیبوں کے تصادم اور مفاہمت کے بیچ ایک فکری مکالمے کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔امیرخان متقی کامجوزہ بھارتی دورہ اگراسی نوع کی ایک پیش رفت ہوتا،جوبظاہرسفارتی،مگر درحقیقت علاقائی سیاست کے توازن میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتا تو یہ بھائیوں کے درمیان ایک شاندارموقع ہوتالیکن افسوس یہ ہے کہ بالآخرافغان بھائی بھی شاطرہندوبرہمن کی چالوں کاشکاربنتے جارہے ہیں۔
یہ دورہ دراصل علاقائی قوتوں کے باہمی رسہکشی کے بیچ ایک نیاتوازن پیداکرنے کی کوشش ہے۔پاکستان اورچین،دونوں افغانستان میں اثررکھنے والے ممالک ہیں۔چین نے بیلٹ اینڈروڈمنصوبے کے تحت چینی سرمائے کی جڑیں گہری کی ہیں،جبکہ پاکستان تاریخی وجغرافیائی رشتے کی بناپرطالبان پراثراندازرہاہے۔بظاہران حالات میں متقی کابھارت جانایہ پیغام دیتاہے کہ طالبان کثیرالسمتی سفارت کی راہ پرگامزن ہیں یعنی وہ ایک ملک کے زیرِاثرنہیں رہناچاہتے لیکن صد افسوس کہ حالات کسی اورسمت کی چغلی کھارہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے طویل پس منظرمیں یہ دورہ اس وقت ممکن ہواجب طالبان رہنماں کومحدوداستثنادیاگیا۔امیرخان متقی کا انڈیاجانانہ صرف طالبان حکومت کیلئے پہلا باضابطہ سفارتی تجربہ ہے،بلکہ افغانستان کیلئیعالمی سطح پردوبارہ سیاسی تناظرمیں واپسی کی علامت بھی ہے۔یہ سفراس لحاظ سے بھی غیرمعمولی ہے کہ انڈیاتاحال طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا،مگراس کی خارجہ پالیسی میں اب روابط کے نئے دریچے کھلنے لگے ہیں۔
یہ دورہ اس وقت ممکن ہواجب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان رہنماں پرعائدسفری پابندیوں میں جزوی نرمی کی۔یوں متقی کایہ سفرمحض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ افغان حکومت کے عالمی ادغام کی سمت پہلاقدم ہے۔یہ دورہ ایک ایسے وقت پرہورہاہے جب چین کااثرورسوخ افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہاہے،روس طالبان سے براہِ راست روابط قائم کرچکاہے،امریکابگرام ایئربیس کی واپسی کے بعدخطے میں اپناکردارمحدودکرچکاہے۔یوں متقی کاانڈیاجانادراصل جنوبی ایشیامیں طاقت کے محورکی ازسرِنوترتیب کا مظہرہوتوخطے کیلئے انتہائی مفیدثابت ہوسکتاہے۔
طالبان رہنماؤں پراقوامِ متحدہ کی پابندیوں کاخاتمہ نہیں،مگرجزوی استثناایک علامتی’’اعتراف‘‘ہے کہ دنیاطالبان سے مکمل انقطاع نہیں چاہتی۔طالبان کوانڈیاکادورہ کافائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی برادری کویہ پیغام دیناچاہئے کہ طالبان اب’’محض ایک داخلی قوت‘‘نہیں بلکہ علاقائی استحکام کے ضامن کے طورپرخودکومنواناچاہتے ہیں۔انڈیا،جوکبھی طالبان کاشدیدناقداورمخالف گروہوں کاحامی رہا،اب اسی طالبان حکومت سے مکالمے کی راہ تلاش کررہاہے۔یہ منظرنامہ دراصل تبدیل ہوتے ہوئے جغرافیائی مفادات کی نئی کہانی سناتاہے۔
طالبان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے متقی کے دورے کی تصدیق کی ہے مگرتفصیلات بیان کرنے سے احترازکیا ہے۔یہ احتیاط خوداس امرکااشاریہ ہے کہ طالبان اپنی نئی سفارت کاری میں جہاں مصلحت اوروقارکویکجاکرناچاہتے ہیں وہاں پاکستان کو بھی ایک پیغام دینامقصودہے،نہ خاموشی میں کمزوری ہے،نہ اعلان میں جلدبازی۔یہ’’خاموش سفارت ‘‘ دراصل ان کے نئے سیاسی بلوغت کی علامت ہے بلکہ وہ قوت ہے جوسیاست کے وقاراوررمزیت کوسمجھ چکی ہے۔متقی کاانڈیاجانامحض ایک خبرنہیں بلکہ خطے کے سفارتی نقشے پرابھرتی ہوئی نئی لکیروں کی علامت ہے۔انڈیانے ابھی تک طالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم نہیں کیا، مگراس کے باوجوددونوں جانب سے رابطوں میں جوحرارت محسوس کی جارہی ہے ، وہ اس امرکاثبوت ہے کہ سفارت کاری کادریا کبھی مکمل خشک نہیں ہوتا۔
سلامتی کونسل سے استثنادراصل طالبان حکومت کیلئے عالمی دروازوں کی نیم واپالیسی ہے۔اگست2021میں اقتدارپرقبضے کے بعدیہ پہلاموقع ہے کہ ایک طالبان وزیربھارت کا باضابطہ دورہ کرنے والاہے اوریہ محض سفارت نہیں بلکہ بحالیِ اعتبارکی ایک ابتدائی لہر ہے۔یہ عالمی سطح پرطالبان حکومت کی بتدریج قبولیت کی طرف اشارہ ہے۔گوتسلیمِ حکومت ابھی دورکی بات ہے،مگریہ سفرقبولیتِ مکالمہ کی ایک ابتدائی منزل ہے۔(جاری ہے)