قاری محمد ضیاء الحق
قوموں کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ گھڑیاں ہوتی ہیں جب آزمائش کے بادل منڈلا رہے ہوتے ہیں، دشمن ہر طرف سے وار کر رہا ہوتا ہے، افواہوں اور سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہوتے ہیں، لیکن ایسے نازک وقت میں اگر قوم اپنے نظریے، ریاست اور قومی وقار کے دفاع کے لیے متحد ہو جائے تو پھر تاریخ ایک نئے باب کا آغاز کرتی ہے۔’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘بھی پاکستان کی قومی تاریخ کا ایسا ہی ایک باب ہے جو جرات، قربانی، استقامت اور حب الوطنی کی روشن مثال بن چکا ہے۔’’بنیان مرصوص ‘‘محض ایک عسکری اصطلاح نہیں بلکہ قرآنِ مجید کی ایک عظیم تعبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار قرار دیا ہے جو دشمن کے سامنے فولادی عزم کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ یہی تصور اس آپریشن کی روح ہے۔ جب دشمن نے پاکستان کی سلامتی، امن، ترقی اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ریاستی ادارے اور پوری قوم بنیان مرصوص بن کر کھڑی ہو گئی۔ یہ وہ پیغام تھا جس نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے۔پاکستان شروع دن سے دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی اس وطنِ عزیز کو اندرونی و بیرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی سرحدوں پر جارحیت کی گئی، کبھی دہشت گردی کو ہوا دی گئی، کبھی لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو بھڑکایا گیا، اور کبھی علیحدگی پسندی کے زہر سے قومی وحدت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ دشمن کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرکے اسے کمزور کر دیا جائے تاکہ یہ ریاست اپنے نظریاتی تشخص سے محروم ہو جائے۔ لیکن دشمن شاید اس حقیقت کو کبھی نہیں سمجھ سکا کہ یہ ملک محض جغرافیہ نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں کی امانت ہے۔اس آپریشن کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف ہتھیاروں کی طاقت نہیں بلکہ قومی اتحاد کی قوت بھی شامل تھی۔ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ قوموں کے دلوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ جب ایک سپاہی سرحد پر کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے پوری قوم کی دعائیں اور اعتماد ہوتا ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کو وطن پر قربان ہونے کے لیے روانہ کرتی ہے، ایک باپ اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر فخر محسوس کرتا ہے، ایک بہن اپنے بھائی کی قربانی کو قوم کا سرمایہ قرار دیتی ہے، اور ایک بچہ اپنے شہید والد کی تصویر کو دیکھ کر پاکستان سے محبت کا عہد کرتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی قوم کو ناقابل شکست بناتا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں سے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ چاہے 1965ء کی جنگ ہو، 1971ء کے بعد کا مشکل دور، دہشت گردی کے خلاف جنگ یا حالیہ سیکورٹی چیلنجز، ہمارے جوانوں نے ہر محاذ پر بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ آپریشن بنیان مرصوص نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کے محافظ اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء دراصل قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں۔ ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔بدقسمتی سے دشمن صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ذہنی اور نفسیاتی جنگ بھی شروع کر رکھی ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے جھوٹ، افواہوں اور پروپیگنڈے کا بازار گرم کیا جاتا ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ بعض عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں قومی شعور، ذمہ داری اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ ہم سچ اور جھوٹ میں فرق کریں اور ہر اُس آواز کو مسترد کر دیں جو قومی وحدت کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی اور بدامنی کا سب سے زیادہ نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب کسی علاقے میں امن خراب ہوتا ہے تو ترقی رک جاتی ہے، تعلیم متاثر ہوتی ہے، کاروبار تباہ ہوتے ہیں اور عام آدمی کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں دشمن نے ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنا کر یہی پیغام دینے کی کوشش کی کہ پاکستان ترقی نہ کر سکے۔ لیکن ریاست نے نہ صرف دہشت گردی کا مقابلہ کیا بلکہ ترقی کے سفر کو بھی جاری رکھا۔ سڑکیں بنیں، تعلیمی ادارے قائم ہوئے، ہسپتال تعمیر ہوئے، اور دور دراز علاقوں میں عوامی فلاح کے منصوبے مکمل کیے گئے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان دشمن کے ہر وار کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے ادارے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ آج کی جنگ صرف بارود اور گولی کی جنگ نہیں بلکہ اطلاعات، حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور ذہانت کی جنگ بھی ہے۔ الحمدللہ پاکستان کی افواج اور سیکورٹی اداروں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسیوں، دہشت گرد تنظیموں اور خفیہ سازشوں کا سہارا لیتا ہے۔آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت قومی یکجہتی کی ہے۔ سیاسی اختلافات ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں، مگر قومی سلامتی پر پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ دشمن ہمیشہ اُن قوموں پر حملہ آور ہوتا ہے جو اندرونی اختلافات کا شکار ہوں۔ اگر ہم نے اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھا تو کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ یہی پیغام آپریشن بنیان مرصوص نے پوری دنیا کو دیا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے وطن کے دفاع کے لیے ایک ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امن اور استحکام صرف سیکورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ ایک استاد اپنے طلبہ میں حب الوطنی پیدا کرکے، ایک عالم دین اتحاد و اخوت کا درس دے کر، ایک صحافی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے، اور ایک عام شہری قانون کی پاسداری کرکے وطن کے استحکام میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ جب پوری قوم اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو دشمن کے تمام منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔آپریشن بنیان مرصوص دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، باوقار اور زندہ قوم ہے۔ یہ ملک کسی سازش، دہشت گردی یا فتنہ پروری سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے شہداء کا خون، ہمارے جوانوں کی قربانیاں، اور عوام کا عزم اس وطن کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ دشمن جتنی مرضی سازشیں کر لے، پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا کیونکہ اس کی بنیاد ایمان، قربانی اور اتحاد پر رکھی گئی ہے۔آج پوری قوم اپنے شہداء، غازیوں اور محافظوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنے لہو سے اس وطن کی حفاظت کی۔ یہی وہ قربانیاں ہیں جن کی بدولت پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہمیں اپنے شہداء کے مشن کو آگے بڑھانا ہے، قومی اتحاد کو مضبوط کرنا ہے، اور ہر اُس قوت کا مقابلہ کرنا ہے جو پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے خلاف سازش کرے۔معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جب قومیں اپنے نظریے، وطن اور قومی وقار کے لیے متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت اُنہیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہی پاکستان کی اصل قوت ہے، یہی ہماری پہچان ہے، اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔پاکستان زندہ باد