وفا یا مفاد۔۔۔۔۔کابل اور دہلی کا ملاپ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
متقی کادورہ بلا شبہ چین وپاکستان کے بڑھتے اثرات کے خلاف ایک سفارتی توازن سازی کی کوشش ہے۔دہلی سرکارجانتی ہے کہ اگر وہ طالبان سے روابط قائم نہیں کرے گی تو کابل میں بیجنگ اوراسلام آبادکی موجودگی غالب آجائے گی اوراس کیلئے اپنی پراکسیزکی مددکرنابھی ناممکن ہوجائے گا۔انڈیاطالبان سے تعلقات قائم کرکے یہ پیغام دیناچاہتا ہے کہ کابل صرف ایک سمت کادروازہ نہیں۔یہ ایک علامتی اعلان ہے کہ دہلی اب خاموش تماشائی نہیں،فعال شریک ہے۔یوں متقی کاخیرمقدمی رویہ،دراصل سیاسی شطرنج کی ایک محتاط چال ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق انڈیااورطالبان کی قربت افغان عوام میں یہ تاثرپیداکرسکتی ہے کہ افغانستان اب بھی دودشمن ہمسایوں کے بیچ کامیدان ہے اورافغان عوام کے خدشات بالکل درست ہیں کہ انڈیاافغان سرزمین کوپاکستان کے خلاف اپنے مقاصدکیلئے استعمال کرنا چاہتاہے اوراس تاثرسے طالبان کی داخلی ساکھ متاثرہوسکتی ہے۔بین الاقوامی سیاست کی دنیامیں تصویرسے زیادہ تاثراہم ہوتاہے،اور یہی دہلی کی نئی آزمائش ہے۔یوں دونوں ممالک کونہ صرف سیاسی بلکہ نفسیاتی سطح پرتوازن قائم رکھناہمیشہ مشکل رہے گا۔
طالبان کے نائب وزیرِداخلہ ابراہیم صدرکاخفیہ بھارتی دورہ ان تعلقات کی غیرعلانیہ بنیادتھاجس میں وہ’’را‘‘کے سربراہ سمیت اہم حکام سے ملے جودراصل اعتمادکی پوشیدہ سازشوں کاحصہ ہے۔یہ دورہ اس وقت ہواجب پاکستان اورانڈیاکے تعلقات میں تناؤبڑھ چکاتھااور دونوں ممالک میں کشیدگی عروج پرتھی،اس لیے اس کے اشارے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ان تمام اقدامات پرپاکستان کی نہ صرف گہری نظرہے بلکہ پاکستان کیلئے باعثِ تشویش بھی ہے۔ان حالات میں متقی کادورہ مزیدشبہات کوتقویت کاباعث بن سکتا ہے۔ابراہیم صدر کوطالبان قیادت میں ملاہبت اللہ کے قریب ترین رفیق سمجھاجاتاہے اورطالبان قیادت میں نہ صرف فوجی تجربے بلکہ  سیاسی شعورکی بناپراہم مقام حاصل ہے۔ ان کابھارتی حکام سے ملنادراصل طالبان کے اندرونی فیصلہ سازحلقے کی نئی سمت کی نشاندہی کرتاہے یعنی اب طالبان اپنی سفارت کومحدودمذہبی زاویے سے نکال کرعلاقائی مصلحت کے سانچے میں ڈھال رہے ہیں اور ان کے سامنے اپنے خاص محسن پاکستان کی قربانیوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں،جن کوفراموش کرکے وہ ہندوبرہمن کے ساتھ گلے ملنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ان کی پالیسی سازی میں شرکت طالبان حکومت کے اسٹریٹیجک فیصلوں میں انڈیاکیلئے ایک کھڑکی کھولتی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس پیش رفت کوغیرمعمولی اہمیت دی ہے۔سنڈے گارڈیئن نے اسے طالبان سے مکالمے کے خفیہ مگرحقیقت پسندانہ اورعملی تعلقات کے آغازسے تعبیرکیا ۔یہ اس بات کااظہارہے کہ انڈیااب افغانستان کے ساتھ جذبات نہیں،مفادات کے آئینے میں تعلقات کی ازسرِنوتعبیرکررہاہے۔یہ دراصل دہلی کیلئے سفارتی فتح کے نئے باب کی علامت ہے،جس کوپاکستان سے بدلہ لینے کیلئے اہم موقع سمجھ رہاہے۔
یہ دورہ خواہ وقتی سفارتی تدبیرہویامستقبل کے اشتراک کی بنیاد،مگراس نے ایک بات واضح کردی ہے کہ سیاست کے دروازے کبھی مکمل بندنہیں ہوتے۔امیرخان متقی کادورہ محض ایک سفارتی واقعہ نہیں،بلکہ جنوبی ایشیاکے سیاسی موسم کی تبدیلی کااشارہ ہے۔جہاں کبھی نظریات کی خندقیں تھیں،اب مصلحت کے پل تعمیرہورہے ہیں۔طالبان اورانڈیاکے درمیان بڑھتی ہوئی گفت وشنیداس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب خطے کی سیاست آدرشوں سے زیادہ عملی ضرورتوں اورمفادات کے تابع ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کے توازن بدلتے ہیں توالفاظ بھی سمت بدل لیتے ہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جب کابل کی وادیوں سے نکلنے والی سفارت کی ہوادہلی کے ایوانوں تک پہنچی ہے،اورشایداسی ہوامیں خطے کی آئندہ سیاست میں چانکیہ کی مکاریاں بھی پنہاں ہے ۔ جہاں مفاداورمصلحت کی راہیں ملتی ہیں،وہاں قومیں ایک ایسے نئے باب کی تحریر شروع کردیتی ہیں جہاں انسانیت کی تباہی کے باب نیاخون کشیدکرنے کیلئے بے تاب نظرآتے ہیں اورشایدیہی باب،برِصغیرکے دیرینہ تعلقات میں تباہی کی ایک اورنئی سیاہ رات کاآغازہوسکتاہے۔یہ کہنابجاہوگاکہ متقی کایہ مجوزہ دورہ اس خطے کی تاریخ میں ایک ایسا باب کھولنے والاہے،جس میں الفاظ کم ہوں گے،مگرمعنی گہرے،اورخدانخواستہ دنیاکی دائمی تاریکی کاسبب بھی۔
وقت گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان بھائیوں کوبرادرِدینی وہمسایہ کی حیثیت سے دیکھا۔ہم نے کبھی اقتدارنہیں چاہا،صرف امن اور احترام کے خواہاں رہے۔مگرآج جب کابل کے دروازے دہلی کی جانب کھلتے دکھائی دیتے ہیں،تواسلام آبادکے دروازوں پرحیرت اور دکھ کے سائے چھاجاتے ہیں۔یہ درست ہے کہ سفارت کاری کے میدان میں مفاداکثراحساسات پرغالب آجاتاہے،لیکن قوموں کے تعلقات صرف مفادات سے نہیں،بلکہ اخلاص کی تاریخ سے بنتے ہیں۔
پاکستان کی سرزمین پرآج بھی لاکھوں افغانوں کی یادیں زندہ ہیں،وہ خیمے،وہ مہمان نوازیاں،وہ بھائی چارے کی شامیں جنہوں نے کبھی دونوں قوموں کے درمیان فاصلوں کومٹا دیاتھامگراب جب افغان مٹی سے پاکستان مخالف تحریکوں کوطاقت ملتی ہے،اوربھارت اس پورے کھیل کاخاموش ہدایت کاربن کرابھرتاہے،توپاکستانی عوام کے دل میں یہ سوال ضروراٹھتاہے کیایہ وہی افغانستان ہے جس کیلئے ہم نے اپنی نسلیں قربان کیں؟بھارت کی جانب سے طالبان کودی جانے والی مسکراہٹ دراصل انتقام کانقاب ہے،اورافغان قیادت کو یہ سمجھناہوگاکہ جوہاتھ دہلی آج بڑھارہاہے،وہ کل اسی کواپنی سیاسی مصلحتوں کی قربان گاہ پرچھوڑدے گا۔تاریخ کاسبق یہ ہے کہ دوستی کے خنجرہمیشہ دشمن کے غلاف سے نکلتے ہیں۔
پاکستان آج بھی مکالمے اورامن کاخواہاں ہے،لیکن وہ یہ بھی جانتاہے کہ اگرمحبت کی زمین پرنفرت کے بیج بوئے جائیں،توموسم خواہ کتناہی بدل جائے،پھول کبھی نہیں کھلتے۔اب فیصلہ کابل کے ہاتھ میں ہے کہ وہ محبت کے قرض کووفامیں بدلتاہے یامفادکے سودمیں گم کردیتاہے۔تاریخ خاموش نہیں رہے گی،وہ گواہی دے گی کہ کس نے بھائی چارے کے چراغ روشن کیے اورکس نے دشمنی کے ایندھن سے انہیں بجھادیا۔
وقت کے افق پرابھرنے والاہرنیادن اپنے ساتھ ایک نیاسوال لے کرآتاہے کیاطالبان کادہلی کی سمت سفر،تاریخ کے زخموں پرمرہم بنے گایامحض ایک وقتی تدبیر؟یہ سوال ابھی اپنی پوری صداکے ساتھ گونجنے کوہے۔انڈیااورافغانستان کے درمیان یہ نیاباب محض دو ممالک کی قربت نہیں،بلکہ خطے کی ذہنی نقشہ گری کی ازسرِنوتشکیل ہے۔یہ تعلق اس سچائی کوظاہر کرتاہے کہ دنیاکی سیاست میں دشمنی ابدی نہیں ہوتی،مفادہمیشہ متحرک رہتا ہے۔
طالبان،جوکبھی دنیاسے کٹے ہوئے ایک نظریاتی گروہ کے طورپرجانے جاتے تھے،اب عملیت پسندی کے دریچوں سے جھانکنے لگے ہیں۔اوربھارت،جوہمیشہ طالبان کامخالف رہا اورفاصلے پرکھڑاطالبان مجاہدین کے خون کے پیاسوں کامعاون بنارہا،اب تاریخ کی دہلیز پرآکرسفارت کی زبان میں طالبان کے مستقبل کی بات کررہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں بے رحم تاریخ  ظالم سیاست سے ہاتھ ملارہی ہے، اورجغرافیہ مردودمفاہمت کی لکیروں سے خودکودوبارہ رقم کررہاہے۔متقی کایہ دورہ شایدکسی معاہدے کی بنیادنہ بن سکے،مگریہ اس سوچ کی بنیادضروررکھے گاکہ جس محسن ملک پاکستان کی مددسے ہم آج اس مقام کوپہنچے ہیں،ان سے بات چیت کے دروازے بند کرکے اس کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ تعلقات استوارکرکے اپنی نسلوں کیلئے آخرہم تاریخ میں کن الفاظ میں اپناتذکرہ چھوڑکرجا رہے ہیں۔
تاریخ ایک بارپھرقلم سنبھال رہی ہے،اب دیکھنایہ ہے کہ دہلی اورکابل کاملاپ اس نئے باب میں دشمنی کانوحہ لکھتاہے یامفاہمت کا عہدنامہ۔میری اب بھی یہ دلی دعاہے کہ ان دوبرادرملکوں کے وہ مخلص اکابرین جومایوسی کی چادرمیں منہ چھپائے اشک بہارہے ہیں، ایک مرتبہ پھرفریقین کے دلوں کوجوڑنے کی کوئی ایسی سبیل نکالیں جس کیلئے غزوہ ہندکی بشارتیں منتظرہیں۔