سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
انڈیا کیافغان پالیسی ہمیشہ دوانتہاں کے درمیان معلق رہی ہے۔ایک طرف طالبان سے تاریخی بدگمانی،دوسری جانب افغانستان میں اپنے سرمایہ کاری واثرکے تحفظ کی مجبوری۔ انڈیانے بظاہر طالبان سے فاصلہ رکھامگرپس پردہ اعتماد سازی کی کوششیں بھی جاری رکھیں یعنی تسلیم کیے بغیرتعلقات،شراکت کے بغیرموجودگی،اورفاصلہ رکھتے ہوئے قربت کے راستے پرگامزن رہتے ہوئے چانکیہ سیاست پرعملدرآمدجاری رہے۔
مئی2025میں کشمیرکے علاقے پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعدانڈین وزیرِخارجہ ایس جے شنکرنے متقی سے براہِ راست رابطہ کیا۔پہلگام حملہ محض ایک سکیورٹی واقعہ نہیں تھا،بلکہ اس نے خطے میں اعتمادکی شکستگی کامنظردوبارہ ابھرا۔تاہم انڈیاکاطالبان وزیرِخارجہ سے فون پررابطہ اس امرکاغمازہے کہ دشمنی کے باوجودمکالمہ زندہ ہے۔یہ رابطہ دشمنی کے ایوان میں دوستی کی ہلکی سی سرگوشی تھی۔ماہرین کے مطابق یہ لمحہ دونوں ممالک کیلئے ایک سفارتی وقفہ تنفس ثابت ہوا،جس نے ایک منجمدتعلق میں حرارتِ مکالمہ پیداکی۔اس دورے کی اہمیت اس وقت دوچندہوجاتی ہے جب ہم اسے چین اورروس کے بڑھتے ہوئے طالبان تعلقات کے پس منظرمیں دیکھیں۔ چین کاافغانستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے اثربڑھ رہاہے،روس بھی سفارتی سطح پرمتحرک ہے،اورپاکستان کاتاریخی کرداراب بھی زیرِبحث ہے۔
انڈیاکیلئے یہ موقع ایک سیاسی توازنِ نوقائم کرنے کاہے۔گویادہلی اب کابل کے ساتھ ایک نیامکالمہ ترتیب دیناچاہتی ہے تاکہ بظاہرچین اورپاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرکو سفارتی تدبیرکے پردے سے زائل کیاجاسکے۔تاریخی طورپرانڈیانے ہمیشہ ان افغان قوتوں کی پشت پناہی کی جوطالبان کے مخالف رہیخواہ وہ شمالی اتحادہویاکابل کی سابقہ حکومتیں۔ طالبان کوہمیشہ پاکستان کاآلہ کارسمجھاگیالیکن طالبان کے اقتدارمیں آنے کے بعدانڈیانے یہ جاناکہ اب انہیں نظراندازکرناخودکوماضی میں قیدرکھناہوگا۔تاہم اب دہلی کارویہ
بدل رہا ہے؛وہ جان چکاہے کہ طالبان کونظراندازکرناگویا افغان حقیقت سے انکارہے اورطالبان سے تعلقات کوبہتربنانااس کیلئے اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس وقت بھارتی فتنہ خوارج ٹی ٹی پی اوربی ایل اے کی پشت پناہی کرنے میں مزیدفری ہینڈبھی مل جائے گاجواس وقت افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی میں مصروف ہیں۔
2010 سے ہی واضح تھاکہ طالبان افغانستان کے سیاسی منظرنامے پردوبارہ ابھریں گے۔دنیاکے کئی ممالک نے اس حقیقت کومحسوس کرلیاتھامگرانڈیانے دیرکی۔تاہم2022 میں دہلی نے ایک محدودسفارتی نمائندگی کے ساتھ کابل میں اپنادفترکھول کرنئے باب کاآغازکیا۔ 2025میں دبئی میں وکرم مصری اورامیرخان متقی کی ملاقات،اوربعدازاں فون پررابطہ،اسی تدریجی اعتمادکی تعمیرکاتسلسل ہے۔
بگرام ائیربیس سے امریکی انخلاکے اعلان کے بعدچین،روس اورایران پرکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی قدم،اورروس کے نئے روابط ، افغانستان میں ان طاقتوں کی موجودگی بھارت کیلئیتزویراتی دباکاباعث ہے۔یہ سب مل کر افغانستان کوایک عالمی سفارتی میدان بناچکے ہیں۔ایسے میں انڈیاکامحتاط مگر واضح قدم ایک نیاباب کھولتاہے،جوچین وپاکستان کے اثرکومحدودکرنے کی شعوری کاوش دکھاتاہے۔
متقی کادورہ اس دباؤکاجواب ہے،ایک سیاسی پیش بندی کہ دہلی اب صرف دیکھنے والانہیں،بلکہ کرداراداکرنے والافریق بنناچاہتاہے۔ یہ دورہ محض تعلقات کی بحالی نہیں بلکہ ایک سفارتی اعتراف ہے کہ طالبان کی حکومت اب خطے کی سیاست میں ایک ناقابلِ نظر اندازحقیقت بن چکی ہے۔اگرچہ طالبان پراقوامِ متحدہ کی پابندیاں اب بھی موجودہیں،مگران کاانڈیاکے ساتھ مکالمہ دراصل عالمی سفارت کاری کی نئی حقیقت کوتسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
انڈیاطالبان سے رابطے میں ہمیشہ دوقدم آگے،ایک قدم پیچھے کی پالیسی اپناتارہاہے۔یہ محتاط رویہ اس کے تاریخی تجربے سے پھوٹا ہے کہ افغانستان کی زمین ہمیشہ دوستی کے ساتھ خطرہ بھی رکھتی ہے۔مگرمتقی کادورہ ظاہرکرتاہے کہ دہلی اب پاکستان سے بدلہ لینے کی آگ میں اس خطرے کوقبول کرچکاہے۔ادھرمتقی کادورہ یہ اشارہ دیتاہے کہ دہلی اب عملی سطح پر تعامل چاہتاہے،نہ کہ نظریاتی مخالفت۔یہ بتدریج مگرمستقل صف بندی کاثبوت ہے،ایک خاموش مگردیرپاتبدیلی مگربعض ماہرین کے نزدیک انڈیااورطالبان کی قربت افغانستان کے شہریوں میں یہ تاثربھی پیداکرسکتی ہے کہ ان کاملک اب بھی بڑی طاقتوں کے کھیل کامیدان بناہواہے۔یہ تاثرمحض سیاسی نہیں بلکہ عوامی ذہن سازی کے زاویے سے بھی اہم ہے کیونکہ کسی ملک کی شبیہہ اکثرحقائق سے زیادہ تاثرات سے بنتی ہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ2010سے ہی طالبان کے دوبارہ ابھرنے کے آثارنمایاں تھے۔دنیانے اس حقیقت کوقبول کیامگرانڈیاتاخیرکاشکاررہا۔ طالبان کے کابل پرقابض ہونے کے بعدانڈیانے اپنے سفارت کارواپس بلالیے،لیکن جلدہی پس پردہ رابطوں کی راہیں کھول لیں۔یہ امر بھی قابلِ ذکرہے کہ طالبان کے نائب وزیرِداخلہ ابراہیم صدرکے خفیہ بھارتی دورے نے دونوں ممالک کے درمیان ایک خاموش مگر مؤثرمواصلاتی دروازہ کھول دیاہے۔’’را‘‘کے سربراہ سے ان کی ملاقات نے انڈیاکے نئے سفارتی رویے کی جھلک دکھائی،ایک ایسا رویہ جومخالفت سے زیادہ مصلحت پرمبنی ہے۔
انڈیااورطالبان کے مابین پسِ پردہ مذاکرات اس امرکی دلیل ہیں کہ سفارت کاری ہمیشہ اعلانیہ نہیں ہوتی۔یوں محسوس ہوتاہے کہ خطے کی سفارت اب نئے معانی اختیارکرچکی ہے ۔طالبان کاانڈیاکی جانب جھکاؤاورانڈیاکی جانب سے ان کیلئے نرم گوشہ پیداہونادراصل مئی کی پاک بھارت جنگ میں مودی کی بدترین ہزیمت کانتیجہ بھی ہے۔یہ عہدماضی کی تلخیوں سے زیادہ مصلحتوں کے ادراک اورطاقت کے نئے توازن پرمبنی ہے۔یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ افغانستان ایک بارپھرتاریخ کے چوراہے پرکھڑاہے جہاں ہرسمت سے آنے والے قدم اس کی زمین کوسفارتی دوستیوں اورمفادات کے نقش سے آراستہ توکررہے ہیں لیکن ہرحال میں اپنے اپنے مفادات کواولیت دینامقصود ہے۔
انڈیاکی طالبان پالیسی دراصل چانکیہ پالیسی کاایک مکارانہ قدم ہے،نہ تسلیم،نہ انکار؛نہ انکارسے نقصان،نہ اقرارسے انجماد،نہ شراکت،نہ لاتعلقی۔ امدادکے ذریعے موجودگی اور مکالمے کے ذریعے اثراندازی،یہی دہلی کانیادھوکہ دہی کاسفارتی منترہے کہ انڈیاکی افغان پالیسی ’’تسلیم کیے بغیرتعاون‘‘کے فلسفے پراستوارہے۔یہ ایک ایساتوازن ہے جس میں عمل زیادہ،اوراعلان کم ہے۔2022میں طالبان نے دہلی میں اپناایک نمائندہ بھیجااورمحدودپیمانے پرکابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولامگرانڈیانے اسے افغان سفارت خانے کا باضابطہ چارج نہیں دیا۔
2024میں ممبئی قونصل خانے میں طالبان نمائندے کی موجودگی کی خبریں آئیں،مگردونوں ممالک نے خاموشی کوسفارتی زبان بنائے رکھا۔طالبان کے نمائندوں کادہلی میں قیام ایک غیراعلانیہ تسلیم شدگی کے مترادف ہے۔انڈیاخاموش ہے کیونکہ وہ جانتاہے کہ بعض فیصلے وقت کے ساتھ کہے جاتے ہیں،الفاظ سے نہیں اوروہ فی الحال مغرب اوربالخصوص امریکا کی خوشنودی کوقربان کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔یہ خاموشی دراصل مکاری کی زبان ہے۔
اگرچہ روس اورچین طالبان حکومت سے قریب ہیں،لیکن اقوامِ متحدہ کی پابندیاں طالبان کی عالمی سرگرمیوں کومحدودرکھے ہوئے ہیں ۔طالبان عالمی نظام میں اب بھی’’مشروط شمولیت ‘‘کے حامل ہیں۔ان پرپابندیاں ہیں مگردنیاجانتی ہے کہ ان سے کٹ کرکوئی علاقائی استحکام ممکن نہیں۔اس صورتِ حال میں انڈیاکادورہ طالبان کیلئے نئے امکانات کا دروازہ ہے گویاعالمی تنہائی میں ایک دستیاب سنگِ میل۔اسی لیے متقی کابھارتی دورہ ایک نرم سفارتی دروازہ کھلابھی ہے،مقفل بھی۔
انڈیاکے افغانستان میں کئی اقتصادی،دفاعی اورثقافتی مفادات ہیں۔طالبان مخالف دھڑے اب منتشراورعالمی سطح پرغیرمثرہوچکے ہیں ۔انڈیااب افغانستان کونہ صرف پاکستان پر دبا ؤبڑھانے کیلئے دیکھ رہاہے بلکہ اسے خطے میں اپنے طویل المدتی کردارکی توسیع کا میدان بھی سمجھتاہے۔افغانستان میں انڈیاکے کئی تعمیراتی،تعلیمی اوراقتصادی منصوبے ہیں۔ اس کیلئے طالبان سے قربت ایک سیاسی ضرورت ہے،اگرچہ یہ ضرورت احتیاط میں لپٹی ہوئی ہے۔(جاری ہے)