امریکی صحافیوں پر تشدد کا معاملہ، اسرائیلی فوج کے خلاف ایکشن سامنے آگیا

امریکی صحافیوں پر تشدد کا معاملہ، اسرائیلی فوج کے خلاف ایکشن سامنے آگیا

مغربی کنارے میں امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے بعد اسرائیلی فوج نے فوری طور پر ایک مکمل فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات اس بٹالین کو فوری معطلی کا حکم دیا۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب صحافیوں کے ساتھ تشدد اور بدسلوکی کی اطلاعات سامنے آئیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی۔ دورانِ کوریج اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا۔ صحافیوں کے مطابق ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا۔ تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد عالمی صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔اسرائیلی فوج کی معطلی کو اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف مزید کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔