پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، جبکہ دوسری طرف بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسکول سانحے میں گرفتار اسکول مالک کے علاوہ اگر دیگر افراد بھی ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔گورنر خیبرپختونخوا دیر کالونی پہنچے، جہاں انہوں نے سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے نے پہلے بھی کئی سانحات دیکھے ہیں، تاہم بچوں کی اموات ایک بڑا المیہ ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کسی خاندان کی اولاد اور بچے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی کچھ مدد کی جاسکے۔
شہید بچوں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی امداد
گورنر نے اعلان کیا کہ اسکول سانحے میں جاں بحق ہونے والے ہر بچے کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی، جبکہ واقعے میں زخمی ہونے والے ہر فرد کو 3 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کرے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔
اسکول کے این او سی اور لیز کی تحقیقات کا اعلان
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ اسکول کے معاہدے اور لیز سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کو این او سی جاری کرنے کی ذمہ داری کس پر تھی اور متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل کیوں یقینی نہیں بنایا گیا۔گورنر نے کہا کہ اسکول کی منظوری سے متعلق دستاویزات کہیں نہ کہیں موجود ہیں، جبکہ صوبے میں اسکولوں کے حوالے سے 2017 میں قانون بھی بنایا گیا تھا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے سزا و جزا کا عمل تیز کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جو بھی صوبے یا بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری اور نجی اسکولوں کا آڈٹ اور انسپکشن
گورنر خیبرپختونخوا نے بتایا کہ صوبے کے سرکاری اور نجی اسکولوں کا آڈٹ اور معائنہ کیا جارہا ہے تاکہ ان کی قانونی حیثیت، منظوری اور انتظامی امور کا جائزہ لیا جاسکے۔انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے کے تمام نجی اسکولوں کی انسپکشن رپورٹ پانچ دن میں تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ سرکاری اسکولوں کی رپورٹ 7 سے 10 دن میں مکمل کی جائے گی۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق سرکاری اسکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے 15 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ وزارتِ قانون کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اس معاملے سے متعلق ضروری قانون سازی کا عمل 15 روز میں مکمل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہوگی: گورنر
گورنر نے کہا کہ اسکول سانحے کی تحقیقات میں جس افسر کے خلاف بھی شواہد سامنے آئے، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے سابق حکومت کے دور میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر کسی کے خلاف ثبوت ملے تو اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ تحقیقات اور رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق شیئر کیے جائیں گے اور کسی دوست یا رشتہ دار کو تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق احتساب کے عمل میں تعلقات یا سیاسی وابستگی کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔
بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر نگرانی پر زور
گورنر خیبرپختونخوا کے بیان کے مطابق اسکول سانحے کے بعد تعلیمی اداروں کی منظوری، نگرانی اور انتظامی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس عمل میں سرکاری و نجی اسکولوں کے معائنے، دستاویزات کی جانچ اور متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کا تعین شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قوانین پر عمل درآمد ضروری ہے اور اگر تحقیقات میں غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔