عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں نے ہوشربا چھلانگ لگا دی ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 102.56 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
ماہانہ بنیاد پر برینٹ میں 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے۔حالیہ کشیدگی کے دوران یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل پر حملے کیے، جس سے جنگ کا دائرہ پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل گیا اور عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہو گئی۔ماہرین کا خدشہ ہے کہ تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت اور فیول کی دستیابی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایشیا کے ممالک جیسے پاکستان میں۔