ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے عالمی توانائی منڈی کو متاثر کیا ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت مسلسل دوسرے سیشن میں 12 جون کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 15 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ابتدائی کاروبار میں بھی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔بدھ کی صبح برینٹ خام تیل 1.46 ڈالر یا 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 1.11 ڈالر یا 1.4 فیصد اضافے کے بعد 80.40 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔ اماراتی مربن خام تیل بھی 83.16 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔منگل کو بھی خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات تھے۔ دنیا کے مجموعی تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی بڑی مقدار اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق بدھ کی صبح ایران کے خلاف مزید کارروائیاں کی گئیں تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والی ایرانی تنصیبات کو کمزور کیا جا سکے۔دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ بڑھتی کشیدگی کے بعد اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ توانائی کے شعبے سے متعلق اہداف بھی زیر غور ہیں۔ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کے ازراق اڈے پر موجود امریکی پوزیشنز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، تاہم پینٹاگون نے اس دعوے کی فوری تصدیق یا تردید نہیں کی۔پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی اسلحہ ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل گئی تو برینٹ خام تیل کی قیمتیں 75 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان واپس آ سکتی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت خام تیل کی قیمتوں میں جنگی خدشات کا اثر نمایاں ہے، تاہم سفارتی حل کی گنجائش برقرار رہنے کے باعث مارکیٹ کا رخ آئندہ پیش رفت پر منحصر ہوگا۔