آسیہ اندرابی: سوال جو دبایا نہ جا سکا (آخری قسط)

سمیع اللہ ملک
کشمیرکامسئلہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کاایک پیچیدہ مسئلہ ہے،جہاں بڑی طاقتیں اکثراپنے مفادات کوترجیح دیتے ہوئے اکثراپنے مفادات کے تحت اس مسئلے پرخاموشی اختیارکرتی ہیں۔اسی وجہ سے انسانی حقوق کیمسائل اکثرپس منظرمیں چلے جاتے ہیں،اورمتاثرہ افرادعالمی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام، بشمول آسیہ اندرابی،خودکوعالمی سطح پرتنہامحسوس کرتے ہیں۔
ایک خاتون رہنماکے طورپرآسیہ اندرابی کی جدوجہدایک الگ اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے نہ صرف ذاتی مشکلات برداشت کیں بلکہ اپنے نظریے کیلئے قربانیاں بھی دیں۔ان کی کہانی صرف سیاست نہیں بلکہ انسانی جذبات،قربانی اوراستقامت کی بھی عکاس ہے۔آسیہ اندرابی کی کہانی کسی عام انسان کی کہانی نہیں۔یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی کے آرام،اپنے گھرکی سکون بھری دیواریں،اوراپنے خاندان کی قربت سب کچھ ایک نظریے کیلئے قربان کردیا۔ایک ماں،ایک بیوی،ایک بیٹی ان سب رشتوں کے پیچھے ایک ایسادل دھڑکتارہاجو اپنے لوگوں کے درد سے جڑاہواتھا۔
جب وہ جوان تھیں،تب شاید ان کے خواب بھی عام لڑکیوں جیسے ہی ہوں گیایک پرسکون زندگی،ایک خوشحال گھر،بچوں کی ہنسی، اورایک محفوظ مستقبل۔مگرکشمیرکی گلیوں میں پھیلی بے چینی،سڑکوں پرگونجتے نعروں کی بازگشت،اورگھروں میں پھیلے خوف نے ان کے خوابوں کارخ بدل دیا۔وہ خاموش تماشائی نہ بن سکیں۔انہوں نے سوال کیا،اورپھروہ خودایک سوال بن گئیںایساسوال جس کا جواب آج تک دنیاتلاش نہیں کرسکی اورجوان کو سمجھ پائے،انہوں نے اسے ایک عظیم مجاہدہ اور مومنہ پایا جنہوں نے اپنی زندگی کو اللہ کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر دوبارہ اللہ کی غلامی میں دینااپنی زندگی کامقصدبنالیاہے۔
دختران ملت کی بنیادرکھناصرف ایک تنظیم بنانانہیں تھا،بلکہ یہ ایک اعلان تھاایک اعلان کہ کشمیری خواتین صرف گھروں تک محدودنہیں رہیں گی،بلکہ وہ بھی تاریخ کاحصہ بنیں گی۔ آسیہ اندرابی نے عورتوں کووہ آوازدی جوصدیوں سے دبائی جاتی رہی تھی۔ انہوں نے انہیں سکھایاکہ خاموشی بھی ایک جرم ہوسکتی ہے،اوربولناایک فرض۔مگرہرآوازکی ایک قیمت ہوتی ہے۔اورآسیہ اندرابی نے وہ قیمت اپنی آزادی کی صورت میں اداکی۔
جیل کی سلاخیں صرف لوہے کی نہیں ہوتیں،وہ وقت کی زنجیریں بھی ہوتی ہیں۔وہ انسان کواس کے اپنوں سے،اس کے خوابوں سے،اور کبھی کبھی خوداس کی ذات سے بھی جداکر دیتی ہیں۔آسیہ اندرابی نے اپنی زندگی کے کئی سال ان سلاخوں کے پیچھے گزارے۔ہرگزرتا دن ایک صدی کی طرح،ہر رات ایک نہ ختم ہونے والی خاموشی کی طرح۔سوچیں، ایک ماں جواپنے بچوں کواپنے ہاتھوں سے کھانانہ کھلاسکے،جوان کے سرپرہاتھ نہ رکھ سکے،جوان کے آنسونہ پونچھ سکے،وہ ماں کس کرب سے گزرتی ہوگی؟جیل کی دیواریں شاید اس کے آنسوؤں کوجذب کرلیتی ہوں،مگر اس کے دل کی چیخیں کہاں جاتی ہوں گی؟
اورپھران کے شوہر،قاسم فکتوایک اورداستان، ایک اورقید،ایک اورطویل انتظار۔ایک ایساشوہرجوبرسوں سے جیل کی دیواروں کے پیچھے ہے،جس نے اپنی جوانی،اپنی زندگی کے قیمتی سال،سب کچھ قیدمیں گزاردیے۔ایک ایسارشتہ جوملاقاتوں کے چندلمحوں تک محدودہوگیا،جہاں باتیں بھی نگاہوں سے کی جاتی ہیں،اورخاموشی بھی ایک زبان بن جاتی ہے ۔ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں،یہ ہزاروں خاندانوں کی کہانی ہے۔مگرآسیہ اندرابی اوران کے شوہرکی کہانی اس لیے زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں قربانی کی شدت زیادہ ہے،تنہائی کی گہرائی زیادہ ہے،اورانتظار کی لمبائی زیادہ ہے۔
انسانی حقوق کی بات کرنے والی دنیاکہاں ہے؟وہ آوازیں کہاں ہیں جوظلم کے خلاف اٹھتی ہیں؟وہ تنظیمیں کہاں ہیں جوہرمظلوم کیلئے بولنے کادعوی کرتی ہیں؟کیاکچھ کہانیاں اتنی خاموش ہوتی ہیں کہ وہ سنائی ہی نہیں دیتیں،یاکچھ خاموشیاں اتنی بھاری ہوتی ہیں کہ انہیں سننے کی ہمت نہیں ہوتی؟یہ سوال صرف آسیہ اندرابی کانہیں،یہ سوال ہراس انسان کاہے جوانصاف پریقین رکھتاہے۔
کشمیر کی راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔برف سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان جب اندھیراچھاجاتاہے،تولگتا ہے جیسے وقت رک گیاہو۔ایسے میں کسی جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھی ایک عورت شایدآسمان کی طرف دیکھتی ہوگی،اورسوچتی ہوگی کیاآزادی بھی کبھی اتنی ہی قریب ہوگی جتنے یہ ستارے؟یہ ایک عجیب تضاد ہے ،آسمان آزادہے،پرندے آزاد ہیں،ہوا آزادہے،مگرانسان قیدہے۔ اس کے خواب قیدہیں،اس کی خواہشیں قیدہیں،اس کی زندگی قید ہے۔آسیہ اندرابی کی کہانی ہمیں مجبور رتی ہے کہ ہم رک کرسوچیں۔یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے،ہمیں بے چین کرتی ہے،اورہم سے سوال کرتی ہے کیاہم واقعی ایک انصاف پسنددنیامیں رہ رہے ہیں؟یہ مضمون کسی فیصلے کیلئے نہیں،کسی کودرست یاغلط ثابت کرنے کیلئے نہیں۔یہ صرف ایک انسانی کہانی ہے ایک ایسی کہانی جو آنسوؤں سے لکھی گئی ہے،صبر سے سنواری گئی ہے،اوروقت کے ہاتھوں آزمائی گئی ہے۔
جب ایک عورت اپنے نظریے کیلئے سب کچھ قربان کردیتی ہے،تووہ صرف ایک فردنہیں رہتی،وہ ایک علامت بن جاتی ہے۔آسیہ اندرابی بھی ایک ایسی ہی علامت ہیںکسی کیلئے امید کی،کسی کیلئے مزاحمت کی،اورکسی کیلئے ایک نہ ختم ہونے والے تنازع کی۔مگر ایک بات طے ہے ان کی کہانی سنی جائے گی۔کیونکہ سچائی چاہے کتنی ہی دب جائے،ایک دن وہ خودکوظاہرکردیتی ہے۔اورشاید اسی دن، کشمیرکی ہوامیں شامل آہیں دعاؤں میں بدل جائیں،آنسو مسکراہٹوں میں ڈھل جائیں،اورقید کی دیواریں یادوں کاحصہ بن جائیں۔تب تک،یہ کہانی زندہ رہے گی دلوں میں، لفظوں میں،اوران آنکھوں میں جواسے پڑھ کرنم ہو جاتی ہیں۔
پاکستان اس معاملے میں مختلف سطحوں پرکرداراداکرسکتاہے۔اقوام متحدہ اور یگرعالمی فورمز پر مسئلہ اجاگر کر نے کیلئے سفارتی سطح پرآوازاٹھائی جائے۔عالمی این جی اوزکے ساتھ مل کرانسانی حقوق کی مہم چلائی جائے۔عالمی میڈیامیں اس معاملے کومؤثرانداز میں پیش کیاجائے۔بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے ذریعے کیس کوعالمی عدالتوں تک لے جانے کی کوشش کی جائے۔
یہ کہانی صرف سیاست کی نہیں،انسانوں کی ہے۔ایک عورت،جو برسوں سے سلاخوں کے پیچھے ہے۔ایک شوہر،جوعمربھر قیدمیں رہااوراب بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ایک خاندان،جووقت کے ساتھ بکھرگیا۔یہ سب ہمیں ایک سوال کی طرف لے جاتاہے،کیا انصاف واقعی سب کیلئے یکساں ہے؟آسیہ اندرابی کامعاملہ کشمیرکے وسیع ترمسئلے کی ایک جھلک ہے۔یہ کہانی ہمیں یاددلاتی ہے کہ سیاسی تنازعات کے پیچھے انسان ہوتے ہیں،ان کے خواب،ان کے دکھ،اوران کی امیدیں اورجن کی اپنی کہانیاں،درداورامیدیں ہوتی ہیں۔کشمیرکامسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتاجب تک کشمیری عوام کوان کابنیادی حقیعنی حق خودارادیتنہیں دیاجاتا،اورجب تک تمام فریقین سنجیدگی سے مذاکرات کی میزپرنہیں
 آتے۔جب تک انصاف،شفافیت اورانسانی وقارکوترجیح نہیں دی جائے گی،ایسی کہانیاں جنم لیتی رہیں گیاوردنیاخاموش تماشائی بنی رہے گی۔یہ مضمون ایک دعوتِ فکرہے ایک سوال،ایک آئینہ،اورشایدایک خاموش چیخ۔
وقت گزرجائے گاشایدسرحدیں بھی بدل جائیں،شاید نقشے بھی نئے بن جائیں،مگرکچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جوکبھی ختم نہیں ہوتیں۔ آسیہ اندرابی کی کہانی بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ایک ایسی داستان جوقیدکی دیواروں سے ٹکراکربھی زندہ ہے،جوخاموشی میں بھی بولتی ہے،اورجوہراس دل میں دھڑکتی ہے جودردکوسمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ کہانی ہمیں مجبورکرتی ہے کہ ہم اپنے ضمیرسے سوال کریںکیاانصاف واقعی طاقت کامحتاج ہے؟کیا انسانی حقوق صرف الفاظ ہیں،یاان کی کوئی عملی حقیقت بھی ہے؟اورسب سے بڑھ کر،کیا دنیا واقعی ہرمظلوم کی آوازسنتی ہے،یاکچھ صدائیں ہمیشہ کیلئے خاموش کردی جاتی ہیں؟
کشمیر آج بھی وہیں ہے ،اپنی خوبصورتی کے ساتھ،اپنے دکھوں کے ساتھ۔ جھیلیں اب بھی شفاف ہیں،مگران میں جھانکیں توشایدآنسوؤں کی نمی دکھائی دے۔ پہاڑاب بھی بلند ہیں،مگران کے سائے میں دبے خواب شایدآج بھی آزادی کے منتظرہیں۔اورکہیں،کسی جیل کی تاریک کوٹھڑی میں،ایک عورت اب بھی اپنے یقین کے ساتھ زندہ ہے۔وقت اسے تھکانہیں سکا،تنہائی اسے توڑ نہیں سکی،اورقید اس کی سوچ کومحدود نہیں کرسکی۔یہی اس کی طاقت ہے،یہی اس کی کہانی ہے۔
یہ مضمون کسی فیصلے کااعلان نہیں،بلکہ ایک احساس کی دعوت ہے۔اگراس کہانی کوپڑھ کردل میں ایک لمحے کوبھی دردکی لہر اٹھے ،آنکھوں میں نمی اترآئے،یاذہن میں کوئی سوال جنم لے توشاید یہی اس کامقصدتھا۔کیونکہ کچھ کہانیاں سنی نہیں جاتیں،وہ محسوس کی جاتی ہیں۔