سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
آج کادن صرف فلسطین کے بارے میں نہیں ہے،بلکہ یہ دن برطانیہ کی ذمہ داری کے بوجھ کوسنجیدگی کے ساتھ قبول کرنے کادن بھی ہے۔گویاتاریخ کاپراناقرض اب اداہونے لگاہے۔یہ دیرینہ مگرناگزیراعلان دراصل اس بات کااقرارہے کہ برطانیہ نے بالآخر فلسطینی عوام کے ناقابلِ انکارحقِ خودارادیت،آزادی اورخودمختاری سے صرفِ نظرکاخاتمہ کردیا ہے۔آج غیرمسلم دنیانے وہ قدم اٹھایا ہے جوہماری ذمہ داری تھی۔یہ لمحہ ہمیں آئینہ دکھاتاہے اورہماری کمزوریوں کوبے نقاب کرتاہے۔
یہ لمحہ ایک تلخ حقیقت بھی یاددلاتاہے اوریہ فیصلہ ایک تلخ سچ بھی سامنے لاتاہے۔اگرمسلم دنیامتحد،باشعوراورمضبوط ہوتی تو فلسطین کوتسلیم کرنے کاآغازاوراعلان سب سے پہلے مسلم ممالک کی زبان سے نکلتا،نہ کہ مغربی طاقتوں سے۔مگرافسوس!ہم اپنی داخلی لڑائیوں میں الجھے رہے،اپنی تنگ نظری کے اسیربنے رہے۔یہ حقیقت ہماری سیاسی کمزوری، داخلی انتشاراورامت کی غفلت کاکھلاثبوت ہے۔آج اگرہم خوابِ غفلت سے نہ جاگے توکل ہماری تاریخ ہمیں مزیدکڑی سزادے گی۔
فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے کامطلب محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کااعتراف ہے جسے خون کی ندیوں ،آہوں کے بادلوں اورقربانیوں کے طوفان نے رقم کیاہے۔یہ اس بات کااعلان ہے کہ مظلوموں کی آواز،اگرچہ دبائی جائے،مگرایک دن یہ دہائی اپنی سچائی کے ساتھ جلوہ گرہوکررہتی ہے۔
یہ فیصلہ مشرقِ وسطی کی سیاست پرگہرے اثرات ڈالے گااورخطے کی سیاست میں ایک نئی جنبش پیداہوگی۔اسرائیل پرسفارتی دبا بڑھے گا،امریکاکوبھی اپنی پالیسی میں تبدیلی پرمجبور ہونا پڑے گااوردیگرمغربی ممالک بھی اس صف میں شامل ہونے پرمجبورہوں گے۔خطے میں طاقت کاتوازن بدلنے کی یہ پہلی کرن ہے،اگرچہ راستہ ابھی طویل اورکٹھن ہے۔یہ ابتدائی کرن اگرمسلسل روشنی میں بدل گئی تومشرقِ وسطی میں طاقت کاتوازن بدل سکتاہے،اورفلسطین کواپنے خواب کی تعبیرکے قریب لاسکتاہے۔
برطانوی وزیراعظم کے مطابق غزہ میں انسانوں کاپیداکردہ بحران عروج کوپہنچ چکاہے،اوریہ ظلم اب انسانیت کے ضمیرکو جھنجھوڑرہاہے۔یہ تسلیم دراصل تاریخ کے افق پرطلوع ہونے
والی ایک نئی صبح ہے۔ظلم وجبرکے اندھیروں میں امیدکاچراغ جل اٹھا ہے۔مگریہ چراغ صرف اس وقت دائمی روشنی میں بدل سکتاہے جب مسلم دنیااپنی ذمہ داری پہچانے،جب عالمی ضمیربیداررہے،اور جب انصاف کوطاقت پرترجیح دینے کاعہدزندہ رکھاجائے۔
یہ اعلان ایک نئی صبح کااعلان ہے۔ظلم کے اندھیروں میں ایک روشنی کاچراغ جل اٹھاہے۔مگریہ چراغ کب شمعِ فروزاں بنے گا؟یہ اس بات پرمنحصرہے کہ مسلم دنیااپنی ذمہ داری کو سمجھے ،عالمی ضمیرجاگتارہے،اورانسانیت کے نام پریہ قافلہ آگے بڑھتارہے۔ فلسطین کااعتراف دراصل انسانیت کے اعتراف کادوسرا نام ہے۔ ان چاروں ممالک کے سربراہوں نے یہ بھی کہاکہ غزہ میں ہونے والے ظلم وستم کے ساتھ ساتھ اب بھوک اورتباہی کے دل دہلا دینے والے مناظرنے انسانیت کوشرمندہ کرکے رکھ دیاہے اوریہ اب ناقابلِ برداشت ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے یہ الفاظ صرف ایک سیاستدان کی تقریرنہیں بلکہ انسانیت کے لہومیں ڈوبی ہوئی صداہیں۔انہوں نے اعدادو شمارپیش کرتے ہوئے کہاکہ دسیوں ہزارافراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں،حتی کہ وہ بھی جومحض روٹی اورپانی کے حصول میں نکلے تھے۔یہ موت اورتباہی کے مناظرہم سب کوخوفزدہ کررہے ہیں،اگرچہ انسانی امدادمیں اضافہ کیاگیاہے لیکن صورتحال اب بھی ناگفتہ بہ ہے،اورکوئی فردخاطرخواہ امدادنہیں پارہا۔برطانوی وزیراعظم نے اسرائیل کومخاطب کرتے ہوئے کہاہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحدی پابندیاں ختم کرے،ظالمانہ ہتھکنڈے بندکرے اورانسانی امدادکے دروازے کھول دے۔اس اعلان کے جواب میں کس ڈھٹائی سے نیتن یاہونے کہاکہ اس طرح کے اقدامات دہشتگردی کونوازنے کے مترادف ہیں۔تاہم برطانیہ نے واضح کردیاکہ فلسطین کوتسلیم کرنے کامقصدکسی گروہ کونوازنا نہیں بلکہ ایک قوم کے دیرینہ حق کوتسلیم کرناہے۔
ادھر دنیاکی نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت چین بھی کھل کرمیدان میں آگیاہے۔چین نے عالمی برادری سے پرزوراپیل کی ہے کہ وہ فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے حق میں آوازبلندکرے۔یہ اقدام نہ صرف عالمی انصاف کی جانب ایک نشانِ راہ ہے بلکہ مظلوم فلسطینی قوم کے حق خودارادیت کیلئیایک سنجیدہ واصولی مؤقف کی عکاسی بھی کرتاہے۔جیسے تاریخ کے صفحات پر کمزور قومیں اکیلی ٹھہرتی آئیں،آج فلسطین بھی عالمی ضمیرسے اپنے حق کامطالبہ کررہاہے،اورچین اس مظلوم قوم کے ساتھ انصاف کی صدابلندکررہاہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے مطابق چین غزہ میں جنگ بندی اورجنگ کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔یہ الفاظ کسی محض سفارتی اعلان کاحصہ نہیں،بلکہ انسانی ہمدردی،عالمی استحکام، اوربین الاقوامی قانون کی پاسداری کاعملی عزم ہیں۔گویاچین نے عالمی سیاست کے سحروجادومیں پھنس کرنہیں بلکہ انصاف کے اصولوں کیلئے اپنی راہ ہموارکی ہے۔
وانگ یی نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ’’دوبرس سے جاری غزہ جنگ نے بے مثال انسانی المیے کوجنم دیااوراسرائیلی کاروائیاں بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہوئی مشرق وسطی کے استحکام کونقصان پہنچارہی ہیں‘‘۔جیسے دریااپنی رفتار سے پتھروں کوتراشتا ہے،ویسے ہی طاقتورممالک کے اقدامات انسانی تقدیرکے رخ کوبدلنے کی کوشش کرتے ہیں، مگرتاریخ کاانصاف بعدمیں ان کے ظلم وستم سے ٹکراکران کوپاش پاش کردیتاہے اور ندامت کے پہاڑکابوجھ ان کوکچل کررکھ دیتاہے۔
چینی وزیرخارجہ نے زوردیاکہ’’غزہ میں فوری جامع جنگ بندی،فلسطینی حکمرانی،اوردوریاستی حل کی مضبوطی، عالمی برادری کیلئے تین ناگزیر اقدامات ہیں‘‘۔یہ تین ستون ایسے ہیں جوانصاف اورامن کے محل کواستوارکرتے ہیں،اوراگریہ مضبوط نہ ہوں تو محض ظاہری جنگ بندی کسی حقیقی امن کاضامن نہیں بن سکتی۔وانگ یی نے مزیدکہا’’کہ عالمی برادری دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی حمایت کرے‘‘۔یہ مطالبہ نہ صرف دائمی انصاف کے اصولوں کاتقاضاہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی روح کاآئینہ بھی ہے،کہ مظلوم قوموں کی حمایت اورظالم طاقتوں کے مقابل انصاف کی راہ پرچلناہرمومن کی ذمہ داری ہے۔
امریکانے دیگرمغربی ممالک کے فلسطینی ریاست کے تسلیم کے اعلانات کونمائشی اقدام قراردیا۔گویاطاقتوروں کے بیانات صرف کاغذ پرنقش ہیں،عمل کی حقیقت کچھ اورہے۔ بہت بڑے داناوبیناکی اصطلاح میں،یہ عالمی سیاست کی شطرنج کی وہ گھڑی ہے جس میں نقاب پوش طاقتیں اپنی منطق کیلئے دنیاکودھوکہ دیتی ہیں،مگرتاریخ کاحساب ہرزوال وعروج کو محفوظ رکھتاہے۔یہ رپورٹ نہ صرف سیاسی فیصلے کی رودادہے بلکہ تاریخ کے صفحات میں ایک نئے ورق کے کھلنے کااستعارہ بھی ہے۔فلسطین کااعتراف دراصل انسانیت کے اعتراف کادوسرانام ہے ،اورظلمت کی اس صدی میں یہ روشنی کاایک چراغ ہے جس کے گرد اندھیروں کے بادل بھی ہمیشہ کیلئے چھٹنے لگے ہیں۔
اے اہلِ ایمان!!ے صاحبانِ ضمیر!یہ اعلان تمہارے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔غیرمسلم اقوام انصاف کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں،توتم کس انتظارمیں ہو؟کیاتم اپنی تلواریں نیام میں ڈال کرخوابِ غفلت میں پڑے رہوگے،یااس چراغ کوبھڑکاکرروشنی کاقافلہ آگے بڑھا گے؟یادرکھو!فلسطین کااعتراف صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں،یہ انسانیت کی فتح ہے۔یہ ان ماؤں کے آنسوؤں کا اعتراف ہے جوبیٹوں کی لاشوں پرنوحہ کرتی رہیں۔یہ ان معصوم بچوں کے خون کاصدقہ ہے جوملبے کے نیچے مسکراکرشہیدہوگئے۔یہ ان بزرگوں کی دعاؤں کی قبولیت ہے جومسجد اقصی کے دروازے پراس وقت تک سجدہ ریزرہے جب تک یہودیوں کی بمباری نے ان کے چیتھڑے تک نہیں اڑا دیئے لیکن یہ ابھی آغازہے۔ابھی منزل باقی ہے،ابھی القدس آزادہوناہے،ابھی ظلم کی دیواریں گرنی ہیں۔یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ اپنے ضمیرکوجگاؤ،اپنی صفوں کوسیدھاکرواوراپنی زبان وقلم سے لیکراپنے وسائل
وطاقت تک سب کچھ فلسطین کے حق میں لگادو۔
اٹھو!کہ وقت تمہیں پکاررہاہے۔تاریخ تمہاری طرف دیکھ رہی ہے۔اوراگرآج بھی تم نے غفلت کی چادراوڑھے رکھی توکل تمہاراذکر ان قوموں میں ہوگاجنہیں تاریخ نے معاف نہیں کیا۔فلسطین کااعتراف دراصل تمہاری غیرت کاامتحان ہے۔اے مسلمانو!اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کیایہ چراغ بجھ جائے گایاایک دن سورج بن کرپوری انسانیت کو
روشنی عطاکرے گا؟نجانے کیوں اس شدت سے مرشدعلامہ اقبال یادآگئے ہیں:
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے