سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
کشمیر ایک نام نہیں،ایک زخم ہے،ایسازخم جووقت کے ساتھ مندمل ہونے کی بجائے اورگہراہوتاچلاگیا۔تاریخ کے اوراق پراگرکبھی آنسوؤں کی روشنائی سے کوئی داستان لکھی گئی ہو ،تووہ یقیناکشمیرکی داستان ہے۔یہاں کی برفانی چوٹیاں صرف حسن کی علامت نہیں بلکہ صدیوں کے دکھوں کی گواہ بھی ہیں۔یہاں کی ہوائیں جب چلتی ہیں تووہ محض موسم نہیں بدلتی ، وہ اپنے ساتھ چیخوں کی بازگشت، بچھڑنے والوں کی صدائیں،اورادھوری تمناؤں کابوجھ اٹھائے پھرتی ہیں۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں بچپن خوف کے سائے میں پروان چڑھتاہے ،جوانی سوالوں میں گم ہوجاتی ہے،اوربڑھاپاانتظارکی دہلیزپربیٹھارہتا ہے۔جہاں ہردروازے کے پیچھے ایک کہانی ہے،ہ آنکھ میں ایک خواب دفن ہے،اورہردل میں ایک بے نام سی کسک۔کشمیرصرف نقشے کاایک حصہ نہیںیہ ایک زندہ حقیقت ہے،ایک مسلسل آزمائش،ایک ایسامقدمہ جو ابھی تک تاریخ کی عدالت میں زیرِسماعت ہے۔
اوراسی المیے کے بیچ کچھ کردارایسے ابھرتے ہیں جووقت کے دھارے کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں۔آسیہ اندرابی بھی انہی کرداروں میں سے ایک ہیںایک نام، جوصرف ایک فردکی پہچان نہیں بلکہ ایک سوچ،ایک مزاحمت،ایک سوال کی صورت اختیارکرچکاہے۔ان کی کہانی ہمیں اس مقام پرلاکھڑاکرتی ہے جہاں ہمیں فیصلہ نہیں،بلکہ محسوس کرناپڑتا ہے ؛ جہاں ہمیں سننانہیں،بلکہ دل سے سنناپڑتاہے۔
کشمیربرصغیرکاوہ خطہ ہے جوگزشتہ سات دہائیوں سے سیاسی،جغرافیائی اورانسانی بحران کامرکزبناہواہے۔کشمیرصرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ المیہ ہے ،ایک ایساالمیہ جس میں نسلیں پلتی ہیں،جوان ہوتی ہیں۔کشمیرکی برف پوش وادیوں میں جب ہواچلتی ہے تووہ صرف درختوں کی شاخوں کونہیں ہلاتی،بلکہ اپنے ساتھ ایک طویل تاریخ کی آہیں، سسکیاں اورادھوری دعائیں بھی بہالے جاتی ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں خوبصورتی اورکرب ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔جہاں جھیلوں کاپانی شفاف ہے مگردلوں کے اندر برسوں کی بے قراری موجزن ہے۔اس تنازعے نے نہ صرف دوایٹمی طاقتوں،پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کوجنم دیابلکہ لاکھوں کشمیریوں کی زندگیوں کوبھی شدیدمتاثرکیا ۔اسی پس منظرمیں کشمیری حریت پسند قیادت کے چندنمایاں نام سامنے آتے ہیں،جن میں آسیہ اندرابی ایک اہم اورمتنازع شخصیت کے طورپرابھرتی ہیں۔آسیہ اندرابی جوکسی کے نزدیک مزاحمت کی علامت ہے،کسی کے نزدیک تنازع، مگرایک حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسی عورت ہیں جن کی زندگی جدوجہد،قربانی اوردکھوں کی ایک طویل داستان بن چکی ہے۔آسیہ اندرابی،ان کی زندگی ایک فردکی کہانی نہیں بلکہ ایک عہد،ایک نظریہ اورایک مسلسل جدوجہدکی علامت بن چکی ہے۔
آسیہ اندرابی1960کی دہائی میں کشمیر میں پیداہوئیں۔ان کاتعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم سرینگرمیں حاصل کی اوربعدازاں سائنس کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ تاہم،ان کی زندگی کارخ اس وقت تبدیل ہواجب انہوں نے کشمیرمیں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اورعوامی ردعمل کوقریب سے دیکھا۔ان کے ذہن میں جلدہی یہ خیال مضبوط ہوگیاکہ کشمیرکے مسئلے کوصرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوں پربھی اٹھانے کی ضرورت ہے۔یہی سوچ بعدمیں ان کی عملی جدوجہدکی بنیادبنی۔1980اور 1990 کی دہائی میں کشمیرمیں بڑھتی ہوئی مزاحمت اورعوامی بے چینی نیانہیں عملی جدوجہدکی طرف مائل کیا۔حوالہ جاتی طورپردیکھاجائے تواس دور میں کشمیرمیں مسلح اورغیر مسلح دونوں طرح کی تحریکیں ابھررہی تھیں،جنہوں نے نوجوان نسل کوشدید متاثرکیا۔
آسیہ اندرابی نے1980کی دہائی میں دختران ملت کی بنیادرکھی۔دختران ملت کاقیام آسیہ اندرابی کی زندگی کاایک اہم موڑتھا۔یہ تنظیم بنیادی طورپرکشمیری خواتین کومتحرک کرنے، اسلامی شناخت کواجاگرکرنے اوربھارت کے خلاف سیاسی مزاحمت کومنظم کرنے کیلئے قائم کی گئی تھی۔اس تنظیم کامقصد کشمیری خواتین کونہ صرف سماجی بلکہ سیاسی شعوردینابھی تھا۔یہ تنظیم ایک منفردماڈل پیش کرتی ہے جہاں خواتین کومحض متاثرہ فریق نہیں بلکہ فعال مزاحمت کارکے طورپرپیش کیاگیا۔اس نے کشمیرکی تحریک میں صنفی کردارکو بدلنے کی کوشش کی۔ یہ تنظیم دیگرحریت پسندگروہوں سے اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس نے خواتین کوبراہ راست سیاسی اور نظریاتی جدوجہدکاحصہ بنایا۔آسیہ اندرابی کامانناتھاکہ آزادی کی تحریک میں خواتین کاکردارنہایت اہم ہے۔
کشمیر کامسئلہ1947کی تقسیم ہندکے بعدایک متنازع خطہ بن گیا۔اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کوحق خودارادیت دینے کی بات کی گئی،مگریہ وعدہ آج تک عملی شکل اختیارنہ کرسکا۔بین الاقوامی قانون،خاص طورپراقوام متحدہ کے چارٹر،میں حق خودارادیت کوایک بنیادی اصول تسلیم کیاگیاہے۔تاہم،اس اصول کااطلاق اکثرسیاسی مفادات کی نذرہوجاتاہے۔کشمیری قیادت،بشمول آسیہ اندرابی،اس بات پرزوردیتی رہی ہے کہ کشمیری عوام کواپنے مستقبل کافیصلہ خودکرنے کاحق حاصل ہے،جوکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔بین الاقوامی قانون کے تحت حق خودارادیت ایک بنیادی انسانی حق ہے۔آسیہ اندرابی اوران جیسے دیگررہنمااسی اصول کی بنیادپراپنی جدوجہدکوجائزقراردیتے ہیں۔بھارتی حکومت،دوسری جانب،اس تحریک کوعلیحدگی پسندی اورریاستی سالمیت کے خلاف قراردیتی ہے جوعالمی قوانین کے بھی خلاف ہے۔اسی تضادنے کشمیرکوایک مسلسل تنازعہ بنادیاہے۔
بھارتی حکومت نے آسیہ اندرابی کے خلاف مقدمات درج کیے جن کی بنیادیو اے پی اے اوربھارتی پینل کوڈکی دفعات 120پررکھی گئی۔نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ، ان کی سرگرمیاں ریاستی سالمیت کے خلاف تھیں۔یواے پی اے ایک سخت قانون ہے جسے بھارت میں دہشتگردی اورریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف استعمال کیاجاتا ہے، مگر ناقدین کے مطابق اس کااستعمال اکثراوقات سیاسی مخالفین کے خلاف بھی کیاجاتاہے۔
آسیہ اندرابی کی جدوجہدصرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی بھی تھی۔ان کی تقاریرمیں مذہبی اورقومی شناخت کاگہراامتزاج نظرآتاہے۔آسیہ اندرابی نے کئی دہائیوں تک تقاریر،تحریروں اوراحتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی آوازبلندکی۔وہ اکثرکشمیری عوام کے حق میں ریلیوں اورمظاہروں میں شریک رہیں۔ان کی تقاریرمیں مذہبی رنگ نمایاں ہوتاتھا،جس کی وجہ سے انہیں ایک نظریاتی رہنمابھی سمجھا جاتاہے۔ ان کی جدوجہدپرکچھ حلقے تنقیدبھی کرتے ہیں،جبکہ دیگرانہیں مزاحمت کی علامت قراردیتے ہیں۔تاہم یہ پہلوانہیں دیگرحریت رہنماؤں سے ممتازکرتاہے،کیونکہ وہ تحریک کوایک نظریاتی اورمذہبی بنیادپربھی پیش کرتی ہیں اورکشمیرمیں نوجوانوں کی اکثریت ان کواپنے دل کی آوازسمجھتے ہیں۔
بھارتی حکومت نے آسیہ اندرابی پرمتعدد مقدمات قائم کیے،جن میں سب سے اہم مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج کیا گیا۔انہیں یواے پی اے اوربھارتی پینل کوڈکی دفعات کے تحت قصوروارقراردیاگیا۔عدالت نے انہیں عمرقیدکی سزاسنائی،جبکہ ان کی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اورناہیدہ نسرین کوبھی طویل قید تیس سال کی سزادی گئی۔
آسیہ اندرابی کے شوہرقاسم فکتو بھی ایک معروف کشمیری رہنماہیں،جوکئی دہائیوں سے جیل میں قیدہیں۔ان پربھی بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائدکیے گئے۔ان کی طویل قیدکوانسانی حقوق کے حلقوں میں ایک اہم مسئلہ سمجھاجاتاہے۔کہاجاتاہے کہ انہوں نے جیل میں شدید مشکلات اورتنہائی برداشت کی،مگر اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے۔ان کی طویل قید انسانی حقوق کے تناظر میں ایک اہم کیس کے طورپردیکھی جاتی ہے،جہاں طویل قبل ازسزا حراست اورمنصفانہ ٹرائل جیسے سوالات اٹھتے ہیں۔
جیل صرف ایک قانونی سزانہیں بلکہ ایک نفسیاتی آزمائش بھی ہے۔آسیہ اندرابی اوران کے شوہردونوں نے جیل میں طویل تنہائی کا عرصہ گزاراہے لیکن وہ ابھی تک اپنے جائز مؤقف پرانتہائی استقامت سے ایک چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔رپورٹس کے مطابق،انہیں محدودسہولیات، طبی مسائل اوراہل خانہ سے دوری جیسے مسائل کاسامناکرناپڑا۔یہ حالات انسانی حقوق کے عالمی معیارکے مطابق ایک سنجیدہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیاقیدیوں کے ساتھ مناسب سلوک کیاجارہاہے یانہیں۔ہیومن رائٹس واچ اورایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے عام طورپرایسے معاملات کوانسانی حقوق کے تناظرمیں دیکھتے ہیں،خاص طورپرجب قیدطویل ہواورحالات سخت ہوں۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اورہیومن رائٹس واچ عموماایسے معاملات پرآوازاٹھاتی رہی ہیں،مگر بعض ناقدین کے مطابق آسیہ اندرابی کے معاملے پران کی خاموشی یامحدودردعمل سوالیہ نشان بن چکاہے۔یہ خاموشی کئی وجوہات کی بناپرہوسکتی ہے،جن میں سیاسی دبا،معلومات کی کمی،یاعلاقائی حساسیت شامل ہیں۔یہ ایک اہم سوال ہے کہ عالمی اداروں کاردعمل کیوں محدود نظرآتاہے۔ممکنہ وجوہات،سیاسی حساسیت،علاقائی طاقتوں کادبا،معلومات تک محدودرسائی،تاہم،اصولی طورپرانسانی حقوق کی تنظیموں کوہرایسے کیس پرغیر جانبدارانہ آوازاٹھانی چاہیے۔(جاری ہے)