اندھیروں سے روشنی تک: ایک خطے کی داستان (آخری قسط)

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
 دراصل دہلی کے ایوانِ اقتدارکیلئے وہ آئینہ ہے جس میں مستقبل کی شکست کاعکس صاف دکھائی دیتاہے مگرافسوس کہ بعض حکمران آئینہ دیکھنے کی بجائے اسے پردے سے ڈھانپ کرمطمئن ہوجاتے ہیں۔
دنیاکی سیاست کبھی جامدنہیں رہی۔کبھی طاقت کے ایوانوں میں ایک پھونک پڑتی ہے توبراعظموں کے نقشے بدل جاتے ہیں،اورکبھی کسی صدرکے ایک جملے سے پوری معیشتیں کانپ اٹھتی ہیں۔انہی گردابوں کے بیچ آج بھارت کی سیاسی بساط بھی ایسے الٹ پھیر سے گزررہی ہے جس نے دہلی کے چانکیائی ذہن کوبھی متحیربلکہ انتہائی مشکل میں مبتلاکردیا ہے۔
جنگ،تاریخ کی وہ کتاب جس کاہرصفحہ خون سے لکھاجاتاہے۔ہمارے سامنے وہ تجزیات اوربیانات بھی ہیں جن میں بعض مبصرین نے مستقبل کے ممکنہ تصادمات کونمایاں کیا۔ جنگ کاباب ہمیشہ تلخ ہوتاہے چاہے کسی بھی ملک کیلئے ہواورعسکری شکستوں یا ناکامیوں کی خبریں،خواہ مبالغہ ہوں یاتحقیق کانتیجہ،دلوں میں وہ لرزہ پیداکرتی ہیں جوقوموں کوسوچنے پرمجبورکردیتاہے۔جنگ کاہر باب تلخ ہوتاہے۔مئی2025کاعسکری تصادم تاریخ کاچبھتاہواوہ شرمناک سبق ہے جس نے بھارت کی عسکری قیادت کاوہ ساراپردہ چاک کر دیا جو وہ برسوں سے چھپائے بیٹھی تھی۔طیاروں کی تباہی،عالمی سطح پرہونے والی جگ ہنسائی،اورطاقتورحلیفوں کی ملامت  سب کچھ دہلی کی عسکری منصوبہ بندی کی کمزوریوں کوبے نقاب کرگیالیکن حیرت یہ ہے کہ شکست کے باوجودبھارت کی سیاسی قیادت نے وہ عاجزی نہیں اپنائی جوہوش منداقوام کوبچالیتی ہے۔
کیامودی حکومت دوبارہ جنگ کی حماقت کرسکتی ہے؟یہ سوال آج سب سے اہم ہے۔یہ سوال آج نہ صرف پاکستان بلکہ خودبھارت کے سنجیدہ حلقوں میں گردش کررہاہے۔جو قیادت داخلی کمزوری،بیرونی دبااورمعاشی بے چینی کاشکارہو،وہ کبھی کبھاراپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگ کاسہارالیتی ہے۔تاریخ میں یہی قوموں کی تباہی کاآغازرہاہے ۔اگرکسی بھی ریاست میں جنگی مافیاسیاست پرغالب آجائے توسمجھ لیجیے کہ تباہی دستک دے رہی ہے۔اوراگرعقل ودانش سیاست سے رخصت ہوجائیں،توپھر جذبات قوموں کیلئے پچھتاوے کے آنسوؤں سے آگے کچھ نہیں چھوڑتے۔
دنیاکے عسکری مبصرین نے بارہاکہاہے کہ جنوبی ایشیامیں جنگ کبھی حل نہیں،ہمیشہ مسئلہ ہی بنتی ہے اورخودبھارت کے ریٹائرڈ جرنیلوں نے اس پرمہرثبت کردی ہے کہ اب بھارت کاباپ بھی پاکستان سے جنگ نہیں جیت سکتا بلکہ اگر نئی جنگ چھیڑی گئی تو ریاست ٹوٹ بھی سکتی ہے اوربربادبھی اوریوں محسوس ہوتاہے کہ بھارت میں 32سے زیادہ علیحدگی کی تحریکیں مودی کے ہاتھوں اپنی منزل مرادپالیں گی اورانڈیا کم ازکم دودرجن حصوں میں تقسیم ہوکررہے گااورجس طرح دنیاکی ایک سپرطاقت سوویت یونین نصف درجن حصوں میں تقسیم ہوگئی اور اس کے مقابلے میں ہندوستان کی حقیقت کیا ہے ۔یہ محض الفاظ نہیں؛ یہ تاریخ کامنعکس شدہ عکس ہے۔جنگیں ملکوں کوبڑانہیں کرتیںصرف قبریں بڑی کرتی ہیں۔
بھارتی ریٹائرڈ جرنیلوں کاواضح اعتراف محض رائے نہیں،ایک عسکری حقیقت ہے۔جنگیں نعروں سے نہیں جیتی جاتیں؛عقل،حکمت اورتدبرسے جیتی جاتی ہیں۔اوریہ تینوں آج بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت سے کوسوں دوردکھائی دیتے ہیں۔مودی حکومت کاجنگی مافیااگردوبارہ سراٹھانے کی کوشش کرتاہے تویہ سیاسی حماقت ہی نہیں مودی کے ہاتھوں یہ ایسی خود کشی ہوگی جس کے اثرات نسلوں تک رقم ہوں گے۔
قوموں کاراستہ جنگ کے دھوئیں نہیں،امن کی روشنی سے بنتاہے۔ہم اس خطے کے رہنے والے ہیں جس نے پہلے ہی بہت دکھ سہے، بہت زخم اٹھائے۔یہ سرزمین امن،حکمت،صلح اورترقی کی متقاضی ہے۔جنگیں وہ لکیرہیں جوقوموں کودوحصوں میں بانٹ دیتی ہیں مگرامن وہ دریاہے جوسب کوایک پل میں جوڑدیتاہے۔قائدین آتے رہتے ہیں،حکومتیں بدلتی رہتی ہیں،مگرقوموں کی زندگی اس روشنی سے بنتی ہے جوحکمت،انصاف اورامن کے آسمان سے اترتی ہے اوریہی پیغام آج بھی ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔
یادرکھیں،قیادت اگرتدبرسے خالی ہو،عقل سے دورہو،طاقت کے نشے میں بدمست ہو،جنگ کوکھیل سمجھ لے یااپنے عوام کوجنگ کی آگ میں دھکیل کراپنے اقتدارکیلئے اس مکروہ عمل کیلئے جنگ میں دھکیل دے توایسی قیادت قوم کاسرمایہ نہیںقہرہوتی ہے۔اور تاریخ یہ کہتی ہے کہ جنگیں لیڈرنہیں جیتتے قومیں ہارتی ہیں۔سرحدیں نہیں جلتں، گھرجلتے ہیں۔آج وقت ہمیں پکاررہاہے،تاریخ ہمارے دروازے پردستک دے رہی ہے،اورخطے کامستقبل ہماری عقل،تحمل،اوربصیرت کے فیصلوں پرقائم ہے۔جنگیں راستے نہیں بناتیں،جنگیں راستے بندکرتی ہیں۔امن راستے کھولتا ہے۔حکمت قومیں بناتی ہے اورعقل قوموں کوبچاتی ہے۔آج ہم میں سے ہرشخص پر فرض ہے کہ جنگ کے دھویں میں مستقبل نہ تلاش کرے؛ بلکہ امن کی روشنی میں راستہ دیکھے۔یہ خطہ جنگ کامتحمل نہیں،بلکہ یہ خطہ امن کامستحق ہے۔آج دنیاکاہردانشور،ہرجرنیل،ہرمبصریہ کہہ رہاہے کہ جنگ نئی بساط نہیں بچھاتی،پرانی بساط الٹ دیتی ہے۔جنگ کافیصلہ بندکمروں میں نہیں،قوموں کے ضمیرمیں ہوتاہے اورضمیر کہتا ہے،عقل کواپناؤ،فتنوں کی آگ نہ بھڑکاؤ۔
اب میں براہِ راست مودی کے جنگی مافیاسے اورہندوستان میں بسنے والے لوگوں کومخاطب کرناچاہتاہوں کہ تاریخ تم سے وعدہ مانگتی ہے اورمستقبل تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑاہے۔فیصلہ آج دومیں سے ایک ہے،یاتوطاقت کے گھمنڈمیں آگ بھڑکائی جائے یاعزت،حکمت اورامن کے ساتھ دنیامیں سراٹھا کرچلاجائے۔قومیں جنگ سے نہیں ، اتحادسے بنتی ہیں،سرزمینیں توپوں سے نہیںانصاف سے بچتی ہیں،خوشحالی خون سے نہیںعقل سے جنم لیتی ہے۔اس خطے کوجنگ نہیں،امن کی ضرورت ہے،مزیدزخم کی نہیں بلکہ مرہم کی ضرورت ہے،اندھیروں کی نہیں،روشنی کی ضرورت ہے۔یہ وقت جنگ کانہیں،غیرت کے ساتھ امن کاہے۔لیکن اگر مودی کواب بھی سیندورکے تندورکوبھڑکانے کی خواہش ہے تویادرکھے کہ پاکستانی قوم اپنی بہادرافواج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح کھڑی ہے اورجوقوم گرج کراٹھتی ہے،اسے کوئی طوفان شکست نہیں دے سکتا۔
اب میں اسی مضمون کے تناظرمیں غیوربلوچی نوجوانوں سے مخاطب ہوناچاہتاہوں:
اے بلوچستان کی دھرتی کے غیورنوجوانواورنونہالوں: 
تم وہ چراغ ہوجن کی لوپہاڑوں کی وسعت سے بھی اونچی اورسمندرکے سینے سے بھی گہری ہے۔تمہاری رگوں میں اس سرزمین کی خنک ہوابھی دوڑتی ہے اوراس کے گرم لہوکی حرارت بھی۔ تمہاری تاریخ صدیوں کے صحرامیں کھڑے اس قدیم درخت کی مانندہے جوطوفانوں میں بھی جھکانہیں،جس کی جڑیں صبر،غیرت اوروقارمیں پیوست ہیں۔دنیاآج کروٹیں بدل رہی ہے۔طاقتیں نئے دائرے کھینچ رہی ہیں،اوروقت کی آندھیاں کبھی کبھی سچ اورفریب کے بیچ لکیردھندلادیتی ہیں۔ایسے میں نوجوان ذہن سب سے زیادہ آزمائے جاتے ہیں۔یہی وہ گھڑی ہے جب شعورتلواربنتاہے،اوربصیرت ڈھال۔یادرکھوجوقومیں اپنی منزل کاچراغ دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتی ہیں،وہ سفرمیں بھٹک جاتی ہیں۔راستے ہمیشہ وہی دیکھ پاتے ہیں جن کی نگاہ اپنی دھرتی کے دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔
تم وہ نسل ہوجس کے دل میں پہاڑوں جیسی غیرت،سمندرجیسی وسعت اورصحراکی ہواجیسی آزادی بسی ہوئی ہے۔تمہاری تاریخ بہادری،وفاداری اورعزتِ نفس کی وہ عظیم داستان 
ہے جس نے ہمیشہ اس خطے کووقاربخشامگرآج کازمانہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ،تیزرفتاراوربے رحم ہے۔دنیابدل رہی ہے،طاقتیں اپنے رخ تبدیل کررہی ہیں،اورعالمی سیاست ایسے دائرے کھینچ رہی ہے جن کے اثرات دوردرازکے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ایسے میں تمہاری نسل پرپہلے سے بڑھ کرذمہ داری عائدہوتی ہے کہ تم صرف جذبات نہیں بلکہ دانش،شعوراور بصیرت سے فیصلے کرو۔ تمہاری دھرتی دولت سے مالامال ہے؛تمہاراکل،تمہاراہنر،تمہاری تعلیم وہ کنجی ہے جوآنے والی نسلوں کے دروازے کھول سکتی ہے۔ تمہاری اصل طاقت تمہاری یکجہتی ہے وہ یکجہتی جو ریگزاروں میں بکھرے ریت کے ذروں کوبھی آندھی بننے کی قوت دیتی ہے۔ تمہاری قوت تمہاری تعمیرہے،تمہاری سوچ تمہاری معراج،اورتمہاری امن پسندی تمہاری پہچان۔یہ سرزمین اب مزیدزخموں نہیںمرہموں کی طلب گار ہے۔مرہم علم ہے،ہنرہے،محبت ہے،اوروہ اعتمادہے جوقومیں خودپرکرتی ہیں ۔تمہارے ان اوصاف کودشمن تباہ کرنے کیلئے اس لئے درپے ہے کہ اسے خوداپنے ملک کی32علیحدگی پسندتحریکوں نے مشکل میں ڈال رکھاہے اور وہ اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے تمہیں جھوٹے خواب دکھارہاہے۔
وقت تمہیں آوازدیتاہے کہ اپنے اندرکے اندھیروں کوشکست دو،اپنے حوصلے کوآسمان کاہم قدم بنادو،اوراپنی دھرتی کیلئے وہ سمت تراشوجس پرکل کے چراغ روشن ہوں۔طاقتوروہ نہیں جوتلواراٹھائے،بلکہ وہ ہے جوآئندہ نسلوں کیلئے امیدکا دروازہ کھولے۔اٹھو،کہ تمہارے قدم اس مٹی کاحوصلہ ہیں۔اٹھو کہ تمہاری فکرمستقبل کی بنیادہے۔اٹھو،کہ بلوچستان تم سے روشنی مانگتا ہے اورروشنی ہمیشہ انہی دلوں سے پھوٹتی ہے جوخواب دیکھنے اورانہیں تعمیرکرنے کی جرأت رکھتے ہیں۔