اسمیش: دفاعی خود انحصاری کا فکری اعلان (آخری قسط)

سمیع اللہ ملک
اسمیش میزائل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا دوہرے کردارکاحامل ہوناہے۔ایک ہی پلیٹ فارم کابحری اورزمینی مشنزمیں استعمال لاجسٹک نظام کوسادہ بناتاہے،تربیت اوردیکھ بھال کے اخراجات کم کرتاہے،آپریشنل لچک میں اضافہ کرتاہے۔اسلامی تہذیب ہمیشہ پیچیدگی کے بجائے حکمت آمیزسادگی کی قائل رہی ہے چاہے وہ فقہ ہو،سیاست ہویاعسکری نظم۔ یہی سادگی لاجسٹکس کومؤثر،اخراجات کوکم اورنظام کوقابلِ اعتمادبناتی ہے۔یہ ترتیب اسے حساس تنصیبات،عسکری مراکزاوراسٹریٹجک اہداف کیلئے موزوں بناتی ہے۔اسلامی تصورِ نظم وکفایت کے تناظرمیں یہ حکمتِ عملی اسراف کے بجائے دانش مندانہ وسائل کے استعمال کی مثال ہے۔
جی آئی ڈی ایس کے مطابق اسمیش میزائل کودوہرے کردارکے تحت تیارکیاگیاہے،تاکہ ایک ہی میزائل کوسمندری اورزمینی دونوں نوعیت کے مشنزمیں استعمال کیاجاسکے۔ کفایت ، خودانحصاری اورنظم جیسے دوہرے کردارکی حکمتِ عملی دراصل جدیداسلامی ریاست کے تین بنیادی اصولوں کی ترجمانی ہے یعنی اسراف سے اجتناب،کفائت شعاری،نظم وضبط اور خود انحصاری ایک ہی میزائل کادو میدانوں میں استعمال اس بات کاثبوت ہے کہ دفاعی طاقت کوعقل اورنظم کے ساتھ برتاجارہاہے،نہ کہ محض نمائش کیلئے۔اس حکمتِ عملی سے نہ صرف لاجسٹک نظام سادہ ہوجاتاہے بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔یوں یہ میزائل عسکری کفایت شعاری اورعملی حکمتِ عملی کاحسین امتزاج بن کرسامنے آتاہے۔ اسلام میں طاقت کاتصورجارحیت نہیں بلکہ تحفظ اورتوازن پرمبنی ہے۔ اسلامی ریاست میں قوت کااستعمال اخلاقی حدودکے اندررہ کرہی جائزہے۔اسمیش جیسے ہتھیارکی تیاری اسی صورت میں اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہوسکتی ہے جب اس کامقصد دفاع ہواوراس کااستعمال واضح ضابطوں کے تحت ہو،غیر ضروری تباہی سے اجتناب کیا جائے۔یہ پہلواسمیش کو محض ایک عسکری اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داردفاعی علامت بناتاہے۔اسمیش میزائل میں استعمال ہونے والی سنگل اسٹیج،ڈوئل تھرسٹ سالڈراکٹ موٹراس کی رفتار،بلندی اور ٹرمینل کنٹرول کوبہتربناتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میزائل کو ابتدائی رفتارکے بعددوبارہ توانائی فراہم کر کے دفاعی نظاموں سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطی اوردیگر حساس خطوں میں طویل فاصلے تک انتہائی درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔اسمیش میزائل کو بھی ایسے ہی متنازع اورخطرناک ماحول کیلئیایک مثرہتھیارکے طورپرپیش کیاجا رہاہے۔یہ میزائل اس حقیقت کی علامت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاعی تقاضوں کوسمجھتاہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی کے مزاج سے بھی پوری طرح باخبرہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطی اوردیگر حساس خطوں میں طویل فاصلے تک درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے اور ہائپرسونک اوردرست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی عالمی طلب میں اضافہ ہورہاہے۔پاکستان کیلئییہ موقع اقتصادی اور اسٹریٹجک دونوں حوالوں سے اہم ہے،مگریہاں اصل سوال صرف طلب کانہیں بلکہ ذمہ داری کاہے۔اسلامی ریاست کے طورپراس پر اخلاقی ذمہ داری بھی عائدہوتی ہے۔اسلامی فکرمیں طاقت امانت ہے،تجارت نہیں۔اگرپاکستان اس میدان میں قدم رکھتاہے تواس کے ساتھ اخلاقی احتساب،ضابطہ اورشعوربھی لازم ہیاوریہی وہ پہلوہے جواسمیش کومحض ہتھیارنہیں بلکہ ایک فکری علامت بناتاہے۔تاہم اسلامی ریاست ہونے کے ناتے اس پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہتھیار تنازعات کو بھڑکانے کیلئینہ بیچے جائیں، دفاعی تعاون میں شفافیت رکھی جائے،انسانی جانوں کے تحفظ کومقدم رکھاجائے مگراپنے دفاع اوردشمن کامقابلہ کرنے کیلئے جدیدہتھیاروں سے مسلح رہنااسلامی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے جس کااللہ نے قرآن میں بھی حکم دے رکھاہے۔ 
اسمیش کادوہرے کردارکی حکمتِ عملی اورلاجسٹک فوائدکاتصورجدید عسکری منصوبہ بندی میں ایک نمایاں رجحان ہے۔اس کے فوائد درج ذیل ہیں:لاجسٹک سادگی،کم تربیتی اخراجات ،یکساں مینٹیننس نظام،زیادہ آپریشنل لچک،اسلامی فکرمیں کفایت شعاری اورنظم کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہے،اوریہ تصور اسی اصول کاعملی اظہارہے۔اس مطالعے سے درج ذیل نتائج اخذہوتے ہیں:
اسمیش میزائل پاکستان کی دفاعی خودانحصاری کی علامت ہے۔دوہرے کردارکی صلاحیت جدیدعسکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، ہائپرسونک رفتاراوردرستگی خطے میں ڈیٹرنس کے کردارکومضبوط اوراسلامی تصورِدفاع کے تحت اس ٹیکنالوجی کااستعمال اخلاقی نظم کاتقاضا کرتاہے۔اسلامی تصورِدفاع کافکری واخلاقی تجزیہ کریں تویہ واضح ہوتاہے کہ اسلامی ریاست میں قوت کامقصدظلم کا انسداد،امن کاتحفظ،دشمن کوجارحیت سے بازرکھناضروری ہے۔اسمیش جیسے ہتھیاراسی وقت اسلامی فکرسے ہم آہنگ قراردیے جاسکتے ہیں جب ان کااستعمال دفاعی حکمتِ عملی کے دائرے میں رہے۔یہ میزائل ڈیٹرنش کومضبوط کرتاہے،غیر ضروری جنگ کوروکتاہے اورطاقت کے توازن کوبرقراررکھتاہے اوردوہرے کردارکی حکمتِ عملی وسائل کے مثراستعمال کی علامت ہے،اوراسلامی تصورِدفاع کے تحت یہ ٹیکنالوجی اخلاقی حدودمیں قابلِ جوازہے۔
اسمیش میزائل کی رونمائی محض ایک عسکری خبرنہیں،بلکہ یہ اس فکری سفرکی علامت ہے جس میں پاکستان نے خودانحصاری، سائنسی مہارت اوردفاعی وقارکویکجاکرلیاہے۔اسمیش میزائل دراصل ایک دھات کاڈھانچہ نہیں،بلکہ ایک فکری اعلان ہیکہ پاکستان دفاع کوخوف کے بجائے حکمت،جارحیت کے بجائے توازن،اورطاقت کی بجائے ذمہ داری کے ساتھ دیکھتاہے۔یہ پیشکش ہمیں یاددلاتی ہے کہ طاقت کااصل سرچشمہ محض فولاداوربارودنہیں،بلکہ وہ فکرہے جوعلم،حکمت اورذمہ داری کے ساتھ بروئے کارآئے تودنیامیں امن کی ضمانت بن جاتاہے۔اسمیش ہائپرسونک میزائل پاکستان کی دفاعی تاریخ میں محض ایک ہتھیارکااضافہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اسٹریٹجک اعلان ہے۔اسمیش،اپنے نام کی طرح، دفاعی دنیامیں ایک مضبوط دستک ہے ایسی دستک جوآنے والے برسوں میں پاکستان کے دفاعی تشخص کونئی سمت عطاکرسکتی ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اوراسلامی فکرایک دوسرے کی ضدنہیں بلکہ باہم ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔یوں اسمیش،قوت اور اخلاق،رفتاروضبط،اورجدیدیت وروایت کے درمیان ایک متوازن مثال کے طورپرسامنے آتاہے اوریہی توازن اسلامی ریاست کے تصورِدفاع کی روح ہے۔یہ پیش رفت ہمیں یاددلاتی ہے کہ اگرامت علم کوایمان کے ساتھ،اورقوت کواخلاق کے ساتھ جوڑدے،تودفاع فتنہ نہیں بنتابلکہ امن کامحافظ بن جاتاہے۔یوں اسمیش،عصرِحاضر میں اسلامی ریاست کے تصورِدفاع کاجدید استعارہ ہے، خاموش،مضبوط، باوقاراورذمہ دار۔اسمیش ہائپرسونک میزائل پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ پیش رفت اس بات کاثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی،اگرفکری شعوراوراخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ ہو،تونہ صرف ریاستی سلامتی کاضامن بنتی ہے بلکہ عالمی نظام میں ایک باوقارمقام بھی عطاکرتی ہے۔یوں اسمیش،عصرِحاضرمیں اسلامی ریاست کے  تصورِدفاع کاایک جدید،سنجیدہ اورذمہ دارمظہرقرار دیاجاسکتاہے۔