قربانیوں کی خاک سے اٹھتے سوال

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
خطہ افغانستان اورپاکستان کی داستانِ قربت وکشمکش صدیوں پرمحیط ہے۔تاریخ نے بارہادیکھاکہ جب بھی اس خطے کے آسمان پرامن کے بادل گھنے ہونے لگتے ہیں،کوئی نہ کوئی آندھی سازشوں کی سمت سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔کبھی یہ شعلے بیرونی قوتوں کے ایندھن سے بھڑکتے ہیں اورکبھی اندرونی گروہوں کے جوش وجنون سے۔آزادی کے سورج نے جب جنوبی ایشیاکی پیشانی چوم کرنئی قوموں کودنیاکے نقشے پرجگہ دی،اس وقت بھی افغانستان وپاکستان نے برادرانہ رشتوں کادم بھراتھالیکن خانہ جنگیوں،مفادات اورطاقت کی تدبیروں نے اس رشتے کوغلط فہمیوں کے تناومیں لپیٹ دیا۔
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف دہائیوں پرمحیط جہادمیں وہ قربانیاں دیں،جن کی نظیرکم ملتی ہے مگرآج بھی دہشتِ مسلسل اپنی جڑیں گہری کرنے کے درپے ہے۔اسی تلخ حقیقت کے پیشِ نظرپاکستان اورافغان طالبان کے مابین مذاکرات کاسلسلہ شروع ہواتاکہ جنگ کے میدانوں میں بہنے والاخون گفتگو کی میزپرتھم سکے۔لیکن دوحہ اوراستنبول کی فصیلوں پر لگی امیدکی روشنی،تعنت، مایوسی اورنظریاتی تعصب کی آندھی میں مدھم ہوتی گئی۔
استنبول میں ہونے والے مذاکرات کامقصدتھاکہ جنگ وجدل کے اس مسلسل المیے کوکوئی سمت ملے۔لیکن نہ کسی تجویزکی صورت بنی نہ کسی معاہدے کی فصل اگی۔افغانستان کی خاموشی ایک اجنبی سوال ہے ،سرحدی کشیدگی کی دھوپ ابھی مدھم نہ ہوئی تھی کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی حجرے کے دروازے بندہونے کااعلان کردیا۔ استنبول کی فضاؤں میں اٹھنے والی’’بات چیت ‘‘کی گردبارآورثابت نہ ہوئی۔نہ کوئی لائحہ عمل بنا،نہ کسی سمت کی نشاندہی ہوئی۔کابل کی خاموشی ایک اورسوال بن کرفضامیں معلق ہے ۔آیایہ خاموشی اتفاق ہے یااعلانِ لاتعلقی؟کیااس کے پیچھے مصلحت ہے یامعاندت؟آخردوحہ میں بڑھتی ہوئی امیدیں استنبول میں کیوں دم توڑگئیں ہیں؟اورنتائج بے ثمرہونے کے خوفناک نتائج کاکون ذمہ دارہے؟
آج کایہ آرٹیکل اسی کشمکش کی تاریخی،سیاسی،نظریاتی اورعلاقائی پرتوں کوکھولنے کی ایک ادبی وتحقیقی کاوش ہے۔بسااوقات حقائق کومحض اعدادکی زبان میں بیان کرناکافی نہیں ہوتا۔ قوموں کی داستانیں،جذبات،امیدیں اورخوف بھی ان کے فیصلوں کے سایے میں شامل ہوتے ہیں۔چنانچہ اس تحریرمیں کوشش کی گئی ہے کہ تجزیہ،تاریخ اورادب ایک ہم آہنگ طرزمیں قارئین کے سامنے آئے۔یہ تحریرنہ تومایوسی کا مرقع ہے اورنہ محض تنقیدکا آئینہ۔یہ ایک خبردارکرتی صداہے کہ اگرہم نے خطے کے امن کومضبوط اصولوں،باہمی اعتماداور حقیقت پسندانہ تدابیرکے ساتھ نہ سنبھالاتوآنے والے کل میں تاریخ کے صفحات پراوربھی سیاہ دھبے قدرے گہرے تحریرہوں گے جویقیناہماری آنے والی نسلوں کیلئے ندامت کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارت عرصہ درازسے پاکستان کوعسکری مصروفیت میں مبتلارکھنے کی تدبیریں کرتاآیاہے۔مئی2025میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح ہزیمت اٹھانے کے بعد مودی اب پاکستان کوایک چھوٹے پیمانے کی مستقل جنگ میں الجھائے رکھناچاہتاہے،اورکابل کی موجودہ حکمتِ عملی اسی سازکے تارچھیڑتی محسوس ہوتی ہے۔ افغان طالبان کاطرزِعمل بسااوقات بھارتی مفادات کی تکمیل میں مہرہ بنتادکھائی دیتاہے۔خطے میں طاقت کے توازن کی کشمکش صرف بندوق کاکھیل نہیںیہ معیشت، سفارت اور ذہنی جنگ کامجموعہ ہے۔
یہ سوال اب ہرگفتگوکی پہلی سطربن چکاہے کہ افغان طالبان تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف اقدام سے ہچکچاہٹ کیوں برتتے ہیں؟ آخروہ ہاتھ کیوں لرزاں ہے جودہشت کے اژدھے کودبانے کیلئے بلندہوناچاہیے؟افغان طالبان کے اندرونی حلقے تاحال سمجھوتے کے اس نکتے پرالجھن کاشکارہیں کہ کب،کیسے اورکس قیمت پرٹی ٹی پی کے خلاف اقدام کیا جائے؟ان کے نزدیک یہ معاملہ صرف سیکیورٹی نہیںنظریہ،وفاداری اورتاریخی احسانات سے بے وفائی کادرجہ رکھتے ہیں۔پاکستان نے ناقابلِ تردیددستاویزی شواہداورثبوت فراہم کیے؛نہ صرف افغان طالبان نے،بلکہ ثالثی کرنے والے میزبان ممالک نے بھی ان کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے صحیح مانامگرافغان وفدنے یقین دہانی کے باب کومقفل رکھااوراصل موضوع سے انحراف کا رویہ نہ چھوڑاگویااصل مدعامذاکرات کے حاشیے میں گم ہوتاگیاگویاحقیقت کے بیچوں بیچ کھڑی دیوارکونظراندازکرکے یہ سمجھ لیا جائے کہ دیوارگر چکی ہے۔
پاکستان نے چاربرس کے اندرجونقصان اٹھایا،وہ محض اعدادوشمارنہیںہرشہیدکی کہانی میں ایک گھرکاچراغ گل ہوا۔چاربرس تک جانی ومالی قربانیوں کابوجھ اٹھانے کے بعد پاکستان کے صبرکاپیمانہ لبریزہوچکاہے۔عوام کی سلامتی اس ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔لہذاریاست نے یہ اعلان کیاکہ دہشت کے ہرسانپ کوایک ایک کرکے کچلاجائے گا ۔لہذایہ عہدکیاگیاہے کہ دہشت ووحشت کی ان خارزارراہوں سے وطن کوپاک کرنے کیلئیہرممکن اقدام اٹھایاجائے گا۔نہ پناہ گاہ بچے گی،نہ سرپرستی اورنہ اعانت۔
سکیورٹی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان کسی متوازی منشورپرچل رہے ہیں جوخطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔اگرنیتوں کے زاویے بدل جائیں توراستے بھی بدل جاتے ہیں۔ باخبرذرائع کی رائے میں افغان طالبان کے دلائل نہ زمینی حقیقت سے سازگارہیں نہ منطقی تدبیرسے۔گویاپسِ پردہ کوئی اورایجنڈاہے جوخطے کے امن کیلئے سمِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے ۔پیش رفت اب طالبان کی نیت اوررویے کی آزمائش پرموقوف ہے۔
خواجہ آصف نے بے ساختہ کہاکہ امن کی خواہش کمزوری نہیں۔اگراسلام آبادپرحملہ کرنے کاخبط پالنے والوں نے سراٹھایاتوان کی بینائی چھین لی جائے گی،یہ صرف دھمکی نہیں، ریاست کاقانونی حق ہے۔خواجہ آصف کی للکاراعلان بن کرابھری ہے کہ اگربات سے بات نہ بنی توجنگ بھی کوئی دورکی آہٹ نہیں۔اسلام آبادپرکسی یلغارکی کوشش کی گئی توحملہ آورکواس کی آنکھوں کی روشنی تک بھلادی جائے گی۔
افغان ماہرین کاخیال ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کواپنانظریاتی ہمزادسمجھتی ہے ،آٹھویں اورنویں دہائیوں کی مشترکہ جدوجہدنے ان کے رشتوں کوایساجوڑاہے کہ جداکرنامحض سیاسی فیصلوں کاکھیل نہیں۔دونوں تحریکوں نے تاریخ کی پچ پرایک ہی روش سے بیٹنگ کی،اسی لیے طالبان کیلئے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنااپنوں پرہاتھ اٹھانے کے مترادف محسوس ہوتاہے۔ یہی نظریاتی قربت طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے بازرکھتی ہے۔دل ودماغ اگرایک قبلے پرٹھہرجائیں توہاتھ تلوار پکڑتے لرزتے ہیں۔یہ قربت بسا اوقات ظلم کی توجیہ بن جاتی ہے۔جب حق وباطل کی لکیردھندلی ہوجائے تواسی اجتہادی غلطی سے تشددکوبھی جہادکا نام ملنے لگتاہے ،یہی المیہ ہے جوامن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 
پاکستان نے ماضی میں افغان جہاد کواپنادینی وتزویراتی قلعہ سمجھا،اسی لئے پاکستان نے طالبان کوپناہ اورسیاسی سہارادیا۔مگرتاریخ کی طنزیہ مسکراہٹ یہ کہ آج اسی پالیسی کے منفی اثرات قومی سلامتی کے دروازے پردستک دے رہے ہیں اوراب تاریخ کے دروازے پروہ اس فیصلے کے بھاری قرض کاتقاضہ کرنے آگئی ہے،وقت کی عدالت میں ہرفیصلے کا حساب ہوتاہے۔
طالبان کے حقانی دھڑے کے ٹی ٹی پی سے عملی تعلق رہے ہیں۔ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کے روابط ایسے بندھن ہیں جنہیں توڑناآسان نہیں۔ اگرزور زبردستی کی گئی توداعش کادروازہ ٹی ٹی پی کیلئے زیادہ کشادہ نظرآنے لگے گاانہیں خوف ہے کہ سخت کارروائی ٹی ٹی پی کوداعش کی آغوش میں دھکیل نہ دے۔یہ وہ خوف ہے جوطالبان کو فیصلہ کن قدم سے روکتاہے۔ یوں فسادایک نئے دھارے میں بہہ نکلے گااورخود طالبان کوکابل کے تخت سے دستبردارہونیکاخدشہ ہے اوراس سلسلے میں طالبان کے اپنے کئی گروہ پہلے سے تیار ہیں جوموجودہ طالبان رجیم کوانجام تک پہنچانے کیلئے اشارے کے منتظراور بے تاب بیٹھے ہیں۔
قندھارکی قیادت پاکستانی اقدامات ملابرادرکی گرفتاری اورملامنصورکی امریکی حملے میں ہلاکت کوماضی کی تلخ یادسمجھتی ہے،جوآج بھی پالیسی کے سینے میں کانٹابنی ہوئی ہے۔ قندھار کے اقتدارکی رگوں میں یہ واقعات آج بھی بلاکے دردکے ساتھ یادکیے جاتے ہیں۔اسی لیے پالیسی کے صفحات میں آج احتیاط اورناراضگی ہم سفرہیں۔پاکستان کی طرف سے سرحدپارافغان سرزمین پرموجودٹی ٹی پی کے مراکزکونشانہ بنایاگیا،افغان مصنوعات پرتجارتی بندش،تجارتی راہداریاں معطل ہوئیں اورغیرقانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔یہ سب الفاظ سے زیادہ بلیغ پیغام ہے کہ برداشت اب حدِ درک سے آگے بڑھ چکی ہے۔یہ سب پیغامِ عمل ہے،محض لفظوں کی جنگ نہیں۔سیاست کے کنگرے پریہ سوال ہمیشہ کھڑارہے گااوریہی وہ سوال ہے جس کا جواب سیاست کی تلاش میں سرگرداں ہے کہ کیاطاقت ومعاشی دباؤطالبان کوٹی ٹی پی کے خلاف صف آراکردے گا؟
(جاری ہے)