قربانیوں کی خاک سے اٹھتے سوال

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
کیا پاکستان کے یہ اقدامات طالبان کوعملی اقدام پرمجبورکرپائیں گے؟یاوہ پھرکسی نئی تاویل کاسہارالے کراصل راستے سے بھٹک جائیں گے؟افغان طالبان ریاستی ذمہ داری کواب بھی شرعی تعبیرکی عینک سے دیکھتے ہیںاسی لیے وہ ٹی ٹی پی کودشمن نہیں،قابلِ اصلاح ساتھی سمجھتے ہیں۔اوریہ سوچ امن کے رستے میں سب سے بڑامغالطہ ہے۔کیا40سالوں تک میزبانی کرنے والے ملک میں پاکستان کے ازلی دشمن مودی کے ہاتھوں پراکسی کے طورپراسعمال ہوناشرعی طرپرجائزکہاجاسکتاہے۔اس غیر اسلامی اورانسانیت کے خلاف قبیح جرم سے سے روکنابھی توانہی طالبان کے عین فرضِ منصبی میں شامل ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے مگر طالبان خود کوایک ریاستی ذمہ داری کے ساتھ نہیں دیکھتے۔داعش کی سرگوشیاں اوراندرونی اختلافات انہیں تذبذب میں مبتلارکھتے ہیںانہیں داعش اورفرقہ وارانہ دھڑوں کاخوف ہے،اسی لیے ٹی ٹی پی کے خلاف ضربِ کاری اب بھی ملتوی ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔۔
٭افغان طالبان کی فیصلہ سازی اب بھی تحریک کے مزاج کے زیرِاثرہے،ریاستی ذمہ داری کے تحت نہیں۔
 ٭ٹی ٹی پی اورطالبان کے روابط محض عسکری نہیں،نظریاتی وجذباتی گانٹھیں بھی شامل ہیں۔
٭خطے میں دہشتگردی کے بڑھتے حملوں کے پیچھے مخصوص علاقائی قوتوں کی حکمتِ عملی کارفرماہے۔
٭پاکستان کے اقدامات سے سیاسی ومعاشی دباؤمیں اضافہ ہواہے،مگرفی الحال خاطرخواہ تبدیلی نہیں آئی۔ 
٭مذاکراتی میزپرپیشرفت کاانحصارافغان طالبان کے سیاسی بالغ نظری اوربین الاقوامی ذمہ داری کے ادراک پرہے۔
مندرجہ ذیل نکات بھی اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کیلئے لیے قابلِ عمل اوردوراندیش حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتے ہیں:
٭ علاقائی امن کیلئے سفارتی حکمتِ عملی،عالمی برادری،اوآئی سی اورشنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پرمسئلے کواجاگرکیاجائے، افغانستان کی معاشی بحالی میں تعاون کے بدلے سلامتی کی ضمانت طلب کی جائے،سرحدی انتظام میں دوطرفہ مشترکہ فورس کی تشکیل پرغورکیاجائے۔
٭دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کیلئے اعلی انٹیلی جنس اشتراک اورریئل ٹائم کوآرڈینیشن،ٹی ٹی پی کے دہشتگردڈھانچے کوتکنیکی اورمالی لحاظ سے منقطع کیاجائے اورسرحد
 پار لانچنگ پیڈزاورمحفوظ پناہ گاہوں کانیست ونابودہونایقینی بنایاجائے۔
٭عوامی وفکری سطح پربیانیہ سازی کیلئے جہاداورتشددکے غلط بیانیے کوعلمی اندازمیں بے نقاب کیاجائے،مدارس اصلاحات اورنوجوانوں تک امن پرمبنی دینی تعلیم کی رسائی، میڈیا کے ذریعے قومی یکجہتی اورمتفقہ بیانیہ سازی تشکیل دی جائے۔
٭افغان مہاجرین کی منصفانہ واپسی، انسانی حقوق کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ قانونی نظم کی بحالی،پاکستان کے معاشی وسماجی بوجھ میں کمی اورواپسی کے عمل کیلئے عالمی اداروں کی مالی معاونت ضروری ہے۔
٭اعتماد سازی کی تدابیرکیلئے مشترکہ کمیٹیاں،بارڈرمیکانزم،تیزرفتاررابطہ کانفرنسیں،غلط فہمیوں کی کھڑکیوں کومسلسل کھلارکھنا،طالبان قیادت میں اعتدال پسندعناصرکے ساتھ گاڑھاتعلق قائم کیاجائے۔
اس کے ساتھ ساتھ خواہشِ امن کیلئے راہنمائی کے طورپرچندممکنہ حل اورسفارشات پرغورکرنے کی دعوت دے رہا ہوں،شائدکہ ترے دل میں اترجائے میری بات:
 ٭پاکستان کو اقوامِ عالم کے ساتھ سفارتی مشترکہ حکمت عملی اختیارکرناہوگی۔
٭افغانستان میں سیاسی ومعاشی استحکام کیلئے باہمی تعاون بڑھایاجائے
٭مدرسہ اصلاحات اورسرحدی نگرانی میں تیزی لائی جائے۔
٭عالمی قوتوں کوباورکرایاجائے کہ دہشتگردی صرف پاکستان کامسئلہ نہیں،پورے خطے کاناسورہے۔
٭اس دہشتگردی کے محرک انڈیاکے متعصب ہندومودی کو اقوام عالم میں ثبوت وشواہدکے ساتھ ننگاکیاجائے اوربالآخراقوام متحدہ میں اپنے دوستوں کے توسط سے اس مسئلہ کواٹھایاجائے۔
٭سماجی سطح پربیانیہ سازی کے ذریعے جہالت کے اندھیروں میں علم کاچراغ جلایاجائے۔
اورآخر میں اے میرے وطن!تیری فضائیں خون وعرق سے ترہیں،مگرتیری شانِ سخاوت بھی ایسی ہی جِلملاتی ہے۔ایک طویل دورِ ہجرت اورمصیبت میں،تونے لاکھوں بے گھر حریف وہمنشینوں کواپنے لہجے اورلحم وخون میں جگہ دی 40برس کے عرصے تک تونے صرف چھت نہیں دی بلکہ روزگارِزندگی کے ہرسامان کے سامنے ہاتھ بڑھایا،کھیتی،درسگاہ ،محلہ ، اوربازارسب دروازے کھلے رکھے۔یہ وہ عظیم نرم دِلی تھی جس نے عفوواحسان کواپنامِہرہ بنایااورانسانی ہمدردی کواپنے دستورِاول قراردیا۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے مہاجرین کاطویل عرصہ مہمان رکھنے کاریکارڈاس عہدکی دستاویزآج بھی موجودہے۔
یادکیجئے:وہ دورجب سرحدیں رقت میں لپٹی تھیں،جب خاندانوں نے امیدکے ساتھ پناہ لی تھی،اورجب بچوں کے قدمی نقشِ راہ اسی دھرتی پربنے جن پرآج چال قدم بدل کر کھڑی ہیں۔بہت سے وہ لوگ،جنہوں نے اِس مٹی میں اپنی پرورش پائی،وہی آج اس قدیم تعلق کو بھول کرباہرسے آنے والی سازشوں کے سازوں پرنغمہ سراہیں اوریہ حقیقت دلِ بے قراری کوچیردیتی ہے۔یادکریں ایک وقت میں عالی مقام رہنماملاعمرکے یہ کلمات:’’ہم پاکستان کے احسانات کابدلہ قیامت تک چکانہیں سکتے؛جہاں آپ کاپسینہ گرے گا، وہاں ہم اپنا خون قربان کردیں گے‘‘۔یہ تقریرایک پل کاعہدنہیں بلکہ ایک رگِ جان کی صدائیں تھیں جن میں اخلاص اوروفاکادعویٰ بندھاہواتھا۔آج طالبان کے امیرہیبت اللہ جو اس وقت20برس کے نوجوان تھے،کیاآج اپنے امیرکے خطاب کی گواہی سے انکارکرسکتے ہیں اورآج افغان طالبان کے وزیردفاع ملایعقوب اپنے والدکے ان الفاظ کی گونج کو آج بھی اپنے کانوں میں محسوس توکرتے ہوں گے۔
اس کربناک تماشہ میں تلخ بات یہ ہے کہ وہ نسلیں جن کوبچپن سے جوانی تک اسی اہلِ سخاوت نے پروان چڑھایا،بعض اوقات ماضی کی شان کوفراموش کرکے نامرادانہ راستوں کواپناتی ہیں۔وہی کردارآج ایسی اقدارکے منافی ٹھہرتے ہیں جن کی اصل جڑیں اس سرزمین کی مہربان یادوں سے بندھی تھیں۔اورجب بین الاقوامی محاذپرنئے دوستی کے رنگ جم رہے ہیںپانی کے منصوبے، سفارتی ہاتھ جوقریب آرہے ہیںتوسوال اٹھتاہے:کیایہ تغیرات تسلسلِ رنج سے نکالنے کی راہ ہیں یاایک نئے وبال کی شروعات؟ 
ہماری داستانِ ہمدردی کاروشن باب آسانی سے بندنہیں ہوگا،اورنہ اس کی عظمت کبھی چھپ سکتی ہے۔وہ قوم جو40برس تک کٹھن موجوں میں ہاتھ بڑھاکردوسرے کی آغوش بنی،آج بھی ان احسانات کی میراث اورمحبتِ حال کا تقاضایہ ہے کہ وفاکی قیمت وقتی مفادات سے نہیں،باہمی اعتماد،ذمہ داری اورحقیقت پسندی سے تولی جائے۔اگرہم نے ماضی
 کی سخاوت کوصرف یادِماضی سمجھ لیا اورعملی کفایت اوراحتیاط سے کام نہ لیا توپھروہی تاریخ ہمیں کس نام سے یادرکھے گی۔
یہ بھی لازم ہے کہ جن روایات نے کبھی اتحادوانسیت کوجنم دیاتھا،انہیں محض لب ولہجہ میں نہیں بلکہ عملی روایات میں دوبارہ زندہ کیاجائے۔سرحدکے وہ لوگ جن کے لہجے یہاں کے ہیں،جن کے تعلیمی اورپیشہ ورانہ نشوونمااسی مٹی نے کی،ان کے مستقبل کے بارے میں روشن،منصفانہ اورانسانی فیصلے کیے جائیں۔نہ صرف قوانین بلکہ ہمدردی کے انسانی تقاضے بھی حکمِ کارہوںتبھی ہم امن کی ایسی عمارت تعمیرکرسکتے ہیں جودیرپاہو۔
آخری نویدیہ ہے:دشمنی کے موسم میں انسانیت کی گرمی کوفراموش نہ کیاجائے۔آج بیرونی قوت یااس کے سہولت کار،ہمارے احسان و ہمدردی کے بدلے ہمیں دھوکہ دے رہیں تو بھی ہمیں اپنی بنیادیں مضبوط رکھنی ہوں گی یعنی اول تودفاع،پھرگفت وشنید،اورآخرکار انصاف۔مگرجہاں عقل اورشجاعت دونوں درکارہوں،وہاں ہمیں ہمت کے ساتھ کھڑاہونا ہوگا،اوراپنے گھرکی حفاظت کیلئے ہرقانونی اور اخلاقی ذریعہ بروئے کارلاناہوگا۔
امن کی جنگ وہ تنہامعرکہ ہے جس میں دونوں طرف کے سپاہی جیت سکتے ہیں۔پاکستان اپنافرض اداکرنے کیلئے پرعزم ہے لیکن امن ایک یک طرفہ عہد سے نہیں بلکہ باہمی یقین اورعملی ذمہ داری سے قائم ہوتاہے۔خداکرے کہ یہ خطہ ایک دن جنگ کی دھواں بھری فضاسے نکل کرعلم،تعمیر،تجارت اورانسانیت کی روشنی میں نہااٹھے۔آمین
آخرمیں ایک بارپھردل سے یہی عرض اور دردمندانہ التجا ہے کہ تاریخ کی آنکھ کھلی رہے،عفوکی روشنی گرم رہے،اورانصاف کاپیمانہ انصاف پسندی سے چلے؛تبھی ہم اس عظیم انسانی امتحان کوعزت و احترام کے ساتھ یادرکھ سکیں گے۔ہماری تاریخ ہمیں جلاتی بھی ہے اورسنبھالتی بھی !آئیں ہم اس روشنی کوضائع نہ ہونے دیں،اوراپنے فرائض کوایسے پوراکریں کہ آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں فخرسے لکھ سکیں کہ ہم نے بدلے کی قوت رکھتے ہوئے بھی معاف کردینے کاراستہ اپنایا۔