سائبر حملے انسانی زندگی کے لیے بھی خطرناک ہیں، ماہرین کا انتباہ

واشنگٹن(آئی این پی ) ماہرین نے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائبر حملے اب محض بینک اکائونٹس یا ذاتی معلومات کی چوری تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ براہِ راست انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ڈیلائٹ جنوبی ایشیا کے سائبر لیڈر گورو شکلا کے مطابق جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آپریشنل سسٹمز کے درمیان بڑھتا ہوا تعلق مختلف حساس شعبوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جن میں صحت، ٹرانسپورٹ، بجلی اور ہوا بازی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔گوراو شکلا نے خبردار کیا کہ اگر کسی خودکار یا انٹرنیٹ سے جڑی گاڑی کو دورانِ سفر ہیک کر لیا جائے تو اس کے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آپ شاہراہ پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کنیکٹڈ کار چلا رہے ہوں اور اچانک گاڑی کا اسٹیرنگ آپ کے کنٹرول سے باہر ہو جائے تو اس وقت آپ کو اپنے بینک بیلنس کی نہیں بلکہ اپنی جان کی فکر ہوگی