ہسپتالوں پر تاوان کے لیے سائبر حملے زندگی و موت کا مسئلہ : ڈبلیو ایچ او

سائبر کرائم بشمول رینسم ویئر عالمی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ،پچاس ممالک کے دستخطوں سے جاری مشترکہ اعلامیہ
نیویارک (آئی این پی )اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت سمیت 50ممالک نے ہسپتالوں کے خلاف رینسم ویئر یعنی تاوان کے لیے کمپیوٹر نیٹ ورکس پر حملوں میں اضافے کے حوالے سے خبردار کیا ہے تاہم امریکا نے روس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے سربراہ تیدروس ادھانوم گیبرائسس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہسپتالوں پر ہونے والے ان حملوں کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ تیدروس ادھانوم نے اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرویز سے معلوم ہوا ہے کہ صحت کے شعبے پر ہونے والے ان حملوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔سائبر کرائم بشمول رینسم ویئر عالمی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے میں رینسم ویئر سے متعلق جاری مشترکہ اعلامیے پر 50 ممالک سے زائد نے دستخط کیے جن میں جنوبی کوریا، یوکرین، جاپان، ارجینٹینا، فرانس، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے عوامی تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور صحت کی سروسز کی فراہمی میں تاخیر سے انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالا جا رہا ہے، معاشی نقصان پہنچتا ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہو سکتے ہیں۔اعلامیے میں ان ممالک پر بھی تنقید کی گئی ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے بھی رینسم ویئر حملوں میں ملوث افراد کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت دیے ہوئے ہیں۔