نیپال کی پہلی خاتون وزیراعظم اطمینان کے ساتھ رخصت ہوگئیں

کٹھمنڈو(آئی این پی )نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے ہچکچاہٹ کے باوجود ریٹائرمنٹ چھوڑ کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری سنبھالی تھی، وہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے پر وزیر اعظم بنی تھیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق وہ اپنی اس ذمہ داری سے اس احساس کے ساتھ رخصت ہوئیں کہ انہوں نے تین کروڑ آبادی والے ہمالیائی ملک کو 2006 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد کے سب سے ہنگامہ خیز ادوار میں سے ایک میں رہنمائی فراہم کی۔بالوں کو جوڑے میں سمیٹے اور موٹے شیشوں والی عینک کے پیچھے سے دیکھتے ہوئے 73 سالہ کارکی نے قوم سے الوداعی خطاب میں کہا کہ جب میں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تو میں خوف اور غیر یقینی کا شکار تھی، لیکن میں یہاں اس اعتماد کے ساتھ آئی کہ میں اس وقت امید کا کوئی چراغ روشن کر سکتی ہوں جب ملک بحران میں تھا۔سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے ایک ایسے ملک کی قیادت کی جو اندرونی طور پر شدید اختلافات کا شکار تھا