امریکہ کی آبنائے ہرمز اور خارگ جزیرے پر قبضہ کی تیاری

 یہ مکمل حملہ نہیں ہوگا بلکہ اس میں اسپیشل فورسز اور روایتی پیادہ فوج کے مشترکہ چھاپے شامل ہو سکتے ہیں: واشنگٹن پوسٹ
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کئی ہفتوں پر محیط ممکنہ زمینی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم یہ مکمل حملہ نہیں ہوگا بلکہ اس میں اسپیشل فورسز اور روایتی پیادہ فوج کے مشترکہ چھاپے شامل ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں ایرانی ساحلی علاقوں اور اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب موجود تنصیبات، جہاں سے تجارتی اور فوجی جہازوں کو خطرات لاحق ہیں۔اخبار نے لکھا کہ ان کارروائیوں کے دوران امریکی فوج کو ایرانی ڈرونز، میزائل حملوں، زمینی فائرنگ اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان منصوبوں کی مکمل، جزوی یا کوئی بھی منظوری دیں گے یا نہیں۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر قبضے سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے قریب دیگر ساحلی علاقوں میں بھی کارروائیوں کی منصوبہ بندی زیر غور ہے۔ ایک اہلکار کے مطابق یہ مشن ہفتوں یا چند ماہ میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔