امریکہ، ایران مجوزہ معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوںمیں نرمی آبنائے ہرمز کا کھلنا اور اثاثوں کی واپسی شامل

ایران،امریکہ معاہدہ آخری مرحلے میں داخل ماہرین ، فیصلہ ساز اداروں میں مشاورت
 ذمہ دار ادارے مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تمام پہلوؤں کا محتاط انداز میں تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل تمام معاملات واضح ہو سکیں، تہران کی جانب سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا: ایرانی حکام
امریکہ، ایران مجوزہ معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور اثاثوں کی واپسی شامل، مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا: سینیئر ایرانی عہدیدار
واشنگٹن / تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے پر آج دستخط ہوسکتے ہیں، تاہم ایران نے اس ٹائم لائن سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ ’آئندہ چند دنوں‘ میں ممکن ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کی جانے والی دستاویز آخری مراحل میں ہے اور جلد اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مستقبل میں ایران کا جوہری مواد امریکا کے کنٹرول میں آ سکتا ہے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے معاہدے کی اصولی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دستاویز پر غور جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دستخط آج ہی ہوں گے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق معاہدہ آئندہ چند دنوں میں طے پا سکتا  ہے
 ایران اور امریکا کے درمیان زیرِ غور مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر ایران کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا اور معاملہ مختلف سطحوں پر جائزے کے مرحلے میں ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی اہم شقیں سامنے آ گئی ہیں جن میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات شامل ہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔سینیئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لائے گا جبکہ اس کے طریقہ کار پر آئندہ 60 دنوں میں مزید بات چیت کی جائے گی۔عہدیدار نے بتایا کہ معاہدے کے تحت امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو ایک مخصوص مدت کے لیے نرم کرے گا جس کے نتیجے میں ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس کی آمدنی حاصل کرنے کی اجازت ملے گی۔ ساتھی ہی حتمی معاہدہ ہونے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔عہدیدار نے مزید بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا، جن میں براہ راست نقد ادائیگیاں، علاقائی ممالک کے تعاون اور مالیاتی کریڈٹ لائنز کے ذریعے فنڈز کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے