ملائیشیا نے لاپتہ پرواز ایم ایچ 370 کی تلاش کا عمل ایک بار پھر بڑھا دیا ہے، جس کے بعد اس طیارے کی کھوج ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط ہو جائے گی۔
ملائیشین حکام کے مطابق بوئنگ 777 طیارے کی تلاش کے معاہدے میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے اور اب یہ سرچ آپریشن 30 جون 2027ء تک جاری رہے گا۔ اس دوران سمندری تحقیقاتی کمپنی “اوشین انفینٹی” اپنی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انڈین اوشن کے مخصوص علاقوں میں دوبارہ سروے کرے گی۔یہ وہی پرواز ہے جو 8 مارچ 2014ء کو کوالالمپور سے بیجنگ کے لیے روانہ ہوئی تھی اور دورانِ پرواز 239 مسافروں سمیت ریڈار سے غائب ہو گئی تھی۔ آج تک اس کا مکمل سراغ نہیں مل سکا، جسے ہوا بازی کی تاریخ کے سب سے بڑے معمہ جات میں شمار کیا جاتا ہے۔پرواز میں موجود مسافروں میں اکثریت چینی شہریوں کی تھی، جبکہ ملائیشیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا کے علاوہ بھارت، امریکا، نیدرلینڈز اور فرانس کے مسافر بھی سوار تھے۔ عالمی سطح پر کئی بڑے سرچ آپریشنز کیے گئے، جن میں آسٹریلیا کی قیادت میں تین سالہ مشترکہ تلاش بھی شامل تھی، جو 2017ء میں بغیر نتیجے کے ختم کر دی گئی تھی۔
بعد ازاں 2018ء میں “اوشین انفینٹی” نے دوبارہ تلاش شروع کی تھی، تاہم اب تک طیارے کا ملبہ یا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔نئے معاہدے کے تحت “نو فائنڈ، نو فیس” کی شرط برقرار رکھی گئی ہے، یعنی اگر طیارہ نہ ملا تو کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں ہوگی، جبکہ کامیابی کی صورت میں اسے 7 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ جدید ڈیٹا اور نئی سمندری تحقیق کی بنیاد پر اس بار امید ہے کہ تلاش کے دائرے کو مزید محدود کرکے ممکنہ مقام تک پہنچا جا سکے گا، تاہم یہ اب بھی دنیا کے سب سے مشکل اور پراسرار فضائی حادثات میں سے ایک ہے۔