فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گروپ جے کے آخری میچ میں آسٹریا اور الجزائر کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ 3-3 گول سے برابر ختم ہوا، تاہم اس نتیجے نے ٹورنامنٹ میں ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا۔
اس ڈرا کے نتیجے میں آسٹریا اور الجزائر دونوں ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر گئے، جبکہ ایران ایونٹ سے باہر ہو گیا۔ اس پر ایرانی شائقین نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فیفا سے میچ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب الجزائر کے کپتان ریاض محرز نے میچ کے بعد کہا کہ "صورتحال کچھ عجیب تھی۔ ہم تیزی سے کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے۔ پھر آخری لمحے میں گیند میرے پاس آئی، تو میرے پاس گول کرنے کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں کھیل کے اصولوں اور فٹبال کا احترام کرتا ہوں۔"انہوں نے مزید کہا کہ "اچھی بات یہ ہوئی کہ آسٹریا نے بھی گول کر لیا اور وہ بھی اگلے مرحلے میں پہنچ گیا۔ ہم دونوں کوالیفائی کر گئے اور آج یہی سب سے اہم بات تھی۔"اپنے انجری ٹائم کے گول پر ریاض محرز کا کہنا تھا کہ "میں جانتا ہوں کہ یہ ایک شرمندگی والی صورتحال تھی، لیکن گیند میرے پاس آئی تو میں کیا کرتا؟"ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر میچ فکسنگ اور باہمی مفاہمت سے متعلق قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔ تاہم فیفا یا کسی متعلقہ ادارے نے اب تک کسی باضابطہ تحقیقات یا کارروائی کا اعلان نہیں کیا ہے۔
یہ میچ 1982 کے بدنام زمانہ "ڈس گریس آف گیخون" کی بھی یاد دلاتا ہے، جب مغربی جرمنی اور آسٹریا کے متنازع نتیجے کے باعث الجزائر ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا تھا۔اس بار بھی بعض شائقین نے دعویٰ کیا کہ دونوں ٹیموں کے لیے ڈرا ہی فائدہ مند تھا، تاہم آسٹریا اور الجزائر دونوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔آسٹریا کے کوچ رالف رانگنک نے کہا کہ اگر میچ پہلے سے طے شدہ ہوتا تو آخری لمحات میں اتنا ڈرامائی اختتام کبھی نہ ہوتا، جبکہ الجزائر کے کوچ ولادیمیر پیٹکووچ کا کہنا تھا کہ "3-3 کا نتیجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میدان میں صرف فٹبال جیتی، کوئی سازش نہیں۔"
ناک آؤٹ مرحلے میں اب آسٹریا کا مقابلہ اسپین سے جبکہ الجزائر کا سامنا سوئٹزرلینڈ سے ہوگا۔