فیفا ورلڈکپ کے ایک اہم میچ میں ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی کو الجزائر کے خلاف مبینہ فاؤل پر ریڈ کارڈ نہ ملنے کے بعد ایونٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
واقعے نے سوشل میڈیا اور کھیلوں کے حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔میچ میں ارجنٹینا نے الجزائر کو 0-3 سے شکست دی، جس میں میسی نے شاندار ہیٹ ٹرک اسکور کر کے ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم میچ کے دوران ایک متنازع لمحہ اس وقت سامنے آیا جب مبینہ طور پر میسی نے الجزائری دفاعی کھلاڑی پر خطرناک انداز میں چیلنج کیا، جس پر ریفری نے نہ تو ریڈ کارڈ دکھایا اور نہ ہی وی اے آر نے مداخلت کی۔اس فیصلے کے بعد شائقین کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر یہی حرکت کسی عام کھلاڑی سے سرزد ہوتی تو ممکنہ طور پر فوری ریڈ کارڈ دیا جاتا۔ بعض صارفین نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ فیصلے میں جانبداری دکھائی گئی۔کھیلوں کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بھی اس معاملے پر مختلف آرا دی ہیں۔
کچھ کے مطابق یہ واضح طور پر خطرناک فاؤل تھا اور اسے سخت سزا ملنی چاہیے تھی، جبکہ کچھ نے ریفری کے فیصلے کو غلط اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ریفری کی جانب سے اس واقعے پر خاموشی اور وی اے آر کی عدم مداخلت نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اب بحث اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا بڑے کھلاڑیوں کو میدان میں کسی حد تک رعایت دی جاتی ہے یا نہیں۔دوسری جانب میچ میں میسی کی شاندار کارکردگی نے ارجنٹینا کو شاندار فتح دلائی، تاہم یہ متنازع واقعہ ان کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان کے طور پر زیر بحث رہا۔