سیکولر بھارتی فوج یا "مودی کی سینا"؟ جنرل دویدی کی رام بھدرآچاریہ کے آشرم میں حاضری

سیکولر بھارتی فوج یا

نئی دہلی:بھارتی فوج کے خود ساختہ سیکولر تشخص کا پردہ اس وقت چاک ہوگیا جب موجودہ آرمی چیف جنرل اوپندر دویدی نے مکمل فوجی وردی میں متنازع ہندو پیشوا جگدگرو رام بھدرآچاریہ کے آشرم کا دورہ کیا۔

 یہ واقعہ نہ صرف بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ غیرجانبداری پر سوالیہ نشان ہے بلکہ خطے میں مذہبی انتہا پسندی کے عسکری اداروں پر غلبے کا بھی بین ثبوت ہے۔

 آرمی چیف کی "ہندوتوا" کے سامنے جھکی وردی
جنرل اوپندر دویدی کی اس ملاقات نے بھارتی فوج کی آئینی وفاداری اور غیر سیاسی ہونے کے دعوے کو سخت دھچکا دیا ہے۔ مذہبی انتہا پسند اور بابری مسجد کے کلیدی گواہ رام بھدرآچاریہ نہ صرف دلت مخالف اور مسلم و عیسائی مخالف بیانات کے لیے بدنام ہیں بلکہ غیر قانونی طور پر زمینوں پر قبضے کے بعد مذہبی رسومات کا انعقاد کرتے رہے ہیں اور ریاستی اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں۔

 کشمیر کو "دکشینا" کے طور پر مانگنا — نیا خطرناک موڑ
اس ملاقات کے دوران رام بھدرآچاریہ نے جنرل دویدی کو "دکشینا" کے طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (آزاد کشمیر) پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی، جسے جنرل نے بظاہر قبول کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف بھارتی فوج کی غیرجانبداری کا خاتمہ ہے بلکہ فوجی ادارے کو مذہبی ایجنڈے کا آلہ کار بنانے کا ایک خطرناک مظہر بھی ہے۔

 "آپریشن سیندور" اور پیشگوئیوں کا گٹھ جوڑ
اس ملاقات کو بھارتی فوج کے مبینہ خفیہ منصوبے "آپریشن سیندور" سے جوڑا جا رہا ہے، جس کا مقصد آزاد کشمیر پر ممکنہ حملہ بتایا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر چھ ماہ قبل ہی رام بھدرآچاریہ نے ایک متنازع پیشگوئی کی تھی کہ جلد آزاد کشمیر بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ یہ مطابقت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بھارتی فوج اور ہندو انتہا پسند مذہبی قیادت کے درمیان منظم گٹھ جوڑ موجود ہے۔

 ماہرین کا ردعمل: "سیکولرازم کی موت"
نامور تجزیہ کار ڈاکٹر جیسن فلپ کے مطابق آرمی چیف کی وردی میں مذہبی رہنما سے ملاقات بھارت کے سیکولر نظریے کی واضح نفی ہے۔ سابق کرنل پاون نیئر نے اسے فوجی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سشانت سنگھ نے اسے چونکا دینے والا قدم کہا۔

 "مودی کی سینا" کا بیانیہ حقیقت بن گیا
فوجی اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ بھارتی فوج اب بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کے تابع ایک عسکری ملیشیا میں تبدیل ہو چکی ہے، جسے اب بجا طور پر "مودی کی سینا" کہا جا رہا ہے۔ ذات پات، مذہب اور سیاسی وفاداری اب فوجی فیصلوں پر غالب آ رہے ہیں، جو پیشہ ورانہ عسکری اقدار کی کھلی پامالی ہے۔

 خطے میں امن کو لاحق شدید خطرات
مذہبی نظریات کے تابع عسکری منصوبہ بندی ایک ایسا ماڈل بنتی جا رہی ہے جو نہ صرف بھارت کے اندرونی توازن کو بگاڑ رہا ہے بلکہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ اگر فوجی سربراہ مذہب کے رنگ میں رنگا جائے تو یہ داخلی طور پر فوج میں بددلی اور بیرونی سطح پر ریاستی دہشتگردی کا نیا روپ اختیار کر سکتا ہے۔